یوٹیوبر سلیم واستک گرفتار، عمر قید کی سزا برقرار

Shams Tabrez Qasmi

Shams Tabrez Qasmi

25 April 2026 (Publish: 02:53 PM IST)

نئی دہلی میں 31 سال پرانے اغوا اور قتل کے سنسنی خیز کیس میں پولیس نے معروف یوٹیوبر سلیم واستک کو گرفتار کر لیا ہے، جو طویل عرصے سے فرضی شناخت کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا۔ عدالت کی جانب سے اسے اغوا، بھتہ خوری اور قتل کے الزامات میں عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے، اور اسے تہاڑ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق سلیم واستک کو غازی آباد کے لونی علاقے سے خفیہ اطلاع کے بعد گرفتار کیا گیا۔ اس کی شناخت پرانے ریکارڈ، فنگر پرنٹس اور تصاویر کی مدد سے تصدیق کی گئی۔

یہ مقدمہ 20 جنوری 1995 کا ہے، جب دہلی کے ایک سیمنٹ تاجر کے 13 سالہ بیٹے سندیپ بنسل کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ اگلے دن اغوا کاروں نے 30 ہزار روپے تاوان کا مطالبہ کیا اور ہدایت دی کہ رقم لونی فلائی اوور کے قریب ایک بس میں رکھی جائے، بصورت دیگر بچے کو قتل کرنے کی دھمکی دی گئی۔

اہل خانہ نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد گوکل پوری تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا۔ تحقیقات کے دوران ایک گواہ نے بچے کو ایک آٹو رکشہ میں “ماسٹر جی” نامی نوجوان کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھا تھا، جس کی بنیاد پر پولیس نے سلیم خان (موجودہ سلیم واستک) کو گرفتار کیا، جو اس وقت دریا گنج کے رام جس اسکول میں مارشل آرٹس انسٹرکٹر تھا۔

تفتیش کے دوران اس نے جرم کا اعتراف کیا اور مصطفیٰ آباد کے ایک نالے سے بچے کی لاش برآمد کروائی۔ اس نے اپنے ساتھی انیل کا بھی نام لیا، جسے بعد میں گرفتار کر لیا گیا۔ عدالت میں بچے کا اسکول بیگ، ٹفن باکس اور گھڑی بطور ثبوت پیش کیے گئے۔

5 اگست 1997 کو کرکڑڈوما عدالت نے دونوں ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی، جس کے خلاف انہوں نے دہلی ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔ سلیم کو سال 2000 میں عبوری ضمانت ملی، تاہم وہ فرار ہو گیا اور دوبارہ عدالت میں پیش نہیں ہوا۔ 2011 میں دہلی ہائی کورٹ نے سزا برقرار رکھی، لیکن اس وقت تک وہ مفرور تھا۔

پولیس کے مطابق سلیم نے خود کو مردہ ظاہر کر کے نئی شناخت اختیار کی اور سلیم واستک و سلیم احمد کے ناموں سے مختلف علاقوں، خصوصاً کرنال اور امبالہ میں چھپ کر زندگی گزاری۔ بعد ازاں وہ 2010 میں غازی آباد کے لونی علاقے منتقل ہوا، جہاں اس نے خواتین کے کپڑوں کی دکان کھولی اور ایک سماجی کارکن و یوٹیوبر کے طور پر شناخت حاصل کی۔

رپورٹس کے مطابق اس کی زندگی پر ایک بالی ووڈ فلم بنانے کی تیاری بھی جاری تھی اور اسے ایڈوانس رقم بھی دی جا چکی تھی، تاہم گرفتاری کے بعد یہ منصوبہ رک گیا۔

گزشتہ ماہ سلیم واستک پر اس کے گھر میں قاتلانہ حملہ بھی ہوا تھا، جس میں دو افراد نے اسے چاقو کے وار سے شدید زخمی کر دیا تھا۔ حملہ آوروں نے مبینہ طور پر مذہبی توہین کے الزامات لگاتے ہوئے اس پر حملہ کیا۔ اسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کا علاج جاری رہا۔

پولیس کے مطابق دونوں حملہ آور بعد میں الگ الگ پولیس مقابلوں میں ہلاک ہو گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری ایک طویل عرصے سے مطلوب ملزم کی تلاش کا اہم مرحلہ ہے، جس سے ایک پرانے سنگین جرم کا باب بالآخر بند ہو گیا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top