احمد آباد میں ۲۰۰۸ میں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں کے مقدمے میں گجرات ہائی کورٹ نے پیر کے روز فیصلہ سناتے ہوئے سیشن عدالت کی جانب سے سنائی گئی 38 ملزمان کی سزائے موت اور 11 ملزمان کی عمر قید کی سزا کو برقرار رکھا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی تقریباً اٹھارہ برس سے جاری اس مقدمے کا ایک اہم مرحلہ مکمل ہو گیا، تاہم قانونی لڑائی اب سپریم کورٹ میں داخل ہونے جا رہی ہے۔
جسٹس اے وائی کوگجے اور جسٹس سمیر دوے پر مشتمل دو رکنی بنچ نے تقریباً ایک سال تک مسلسل سماعت کے بعد محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے تمام اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے خصوصی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا، جس کے بعد سزا یافتہ ملزمان کے لیے اب سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا راستہ باقی رہ گیا ہے۔
اس مقدمے میں مجموعی طور پر 49 ملزمان شامل تھے۔ ان میں سے 39 ملزمان کی جانب سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی قانونی امداد کمیٹی نے، جمعیۃ علماء احمد آباد کے تعاون سے، قانونی پیروی کی۔ یہ تمام ملزمان گزشتہ اٹھارہ برس سے جیل میں قید ہیں اور ان کی اپیلوں پر ہائی کورٹ میں طویل عرصے تک سماعت جاری رہی۔
ہائی کورٹ کے فیصلے پر جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے “ناقابلِ یقین اور مایوس کن فیصلہ” قرار دیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس فیصلے کو فوری طور پر سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا اور جمعیۃ علماء ہند اس مقدمے کو پوری قانونی تیاری اور قوت کے ساتھ لڑے گی۔
مولانا مدنی نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم ترجیح سزائے موت پانے والے ملزمان کے لیے سپریم کورٹ سے حکمِ امتناع (Stay) حاصل کرنا ہے تاکہ عدالتی کارروائی مکمل ہونے تک سزاؤں پر عمل درآمد نہ ہو سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے ملک کے ممتاز فوجداری وکلاء کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں اور قانونی ٹیم کو فوری کارروائی کی ہدایت دے دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی عدالتی تاریخ میں متعدد ایسے مقدمات موجود ہیں جن میں نچلی عدالتوں اور ہائی کورٹ کے فیصلے بعد میں سپریم کورٹ نے تبدیل کیے۔ انہوں نے اکشردھام مندر حملہ کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے میں بھی سپریم کورٹ نے تمام ملزمان کو بری کرتے ہوئے گجرات پولیس کی تحقیقات پر سخت تنقید کی تھی۔ مولانا مدنی نے امید ظاہر کی کہ احمد آباد بم دھماکہ مقدمے میں بھی سپریم کورٹ تمام شواہد اور قانونی نکات کا ازسرنو جائزہ لے گی اور انصاف فراہم کرے گی۔
واضح رہے کہ 26 جولائی 2008 کو احمد آباد میں مختصر وقفے کے دوران یکے بعد دیگرے متعدد بم دھماکے ہوئے تھے، جن میں 56 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس کے بعد ملک کی مختلف تحقیقاتی ایجنسیوں نے بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد افراد کو گرفتار کیا۔ استغاثہ نے ملزمان پر دھماکوں کی منصوبہ بندی، دھماکہ خیز مواد جمع کرنے اور ممنوعہ تنظیموں انڈین مجاہدین اور اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سیمی) سے تعلق رکھنے جیسے الزامات عائد کیے، جبکہ دفاع کی جانب سے ان تمام الزامات کو مسلسل مسترد کرتے ہوئے بے گناہی کا مؤقف اختیار کیا جاتا رہا۔
Support Independent Media
Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.
Support Millat Times