نئی دہلی: ملک کے مختلف حصوں میں مساجد، درگاہوں اور مدارس کے خلاف جاری انہدامی کارروائیوں، انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرِ ثانی (SIR)، بڑھتی ہوئی بدعنوانی اور جمہوری اداروں کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے جماعت اسلامی ہند نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان اس وقت ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں آئینی اقدار، مذہبی آزادی، انصاف اور جمہوری روایات کو مضبوط بنانا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔
جماعت اسلامی ہند کے مرکزی دفتر میں منعقدہ ماہانہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے قائدین نے واضح کیا کہ مذہبی مقامات کے انہدام، انتخابی عمل پر اٹھنے والے سوالات اور عوامی زندگی میں اخلاقی انحطاط جیسے معاملات صرف کسی ایک طبقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کے جمہوری مستقبل سے جڑے ہوئے ہیں۔
مساجد کی مسماری پر سخت اعتراض
جماعت اسلامی ہند کے قومی سیکریٹری شفیع مدنی نے بتایا کہ جماعت کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے 29 جون سے 2 جولائی تک راجستھان کے باڑمیر، جیسلمیر اور جودھ پور کا دورہ کیا۔ وفد نے متاثرہ خاندانوں، مقامی شہریوں، قانونی ماہرین، عوامی نمائندوں اور سول سوسائٹی کے ارکان سے ملاقاتیں کر کے زمینی حالات کا جائزہ لیا۔
انہوں نے کہا کہ راجستھان، اتر پردیش، مہاراشٹر، گجرات، دہلی اور دیگر ریاستوں میں غیر قانونی تعمیرات کے نام پر چلائی جانے والی کارروائیوں کا سب سے زیادہ اثر مساجد، مدارس، درگاہوں، رہائشی بستیوں اور معاشی طور پر کمزور طبقات پر پڑ رہا ہے۔
ان کے مطابق صرف گزشتہ ایک ماہ کے دوران متعدد مساجد کو مکمل یا جزوی طور پر منہدم کیا گیا، جبکہ راجستھان کے سرحدی اضلاع میں سکیورٹی کارروائیوں کے دوران بھی کئی مذہبی مقامات کو نقصان پہنچایا گیا، جس سے مقامی آبادی میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔
شفیع مدنی نے کہا کہ مذہبی مقامات کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر نشانہ بنانا نہ صرف آئینی اقدار کے منافی ہے بلکہ ملک کے سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔
وفد نے یک طرفہ کارروائیوں کے شواہد دیکھے
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جماعت کے وفد نے ایسے کئی معاملات کا مشاہدہ کیا جہاں نجی ملکیت کی زمین پر قائم مذہبی ڈھانچوں کو بھی مسمار کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض مقامات پر مسلم مذہبی مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ اسی علاقے میں موجود دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کے خلاف ایسی کارروائیاں نہیں کی گئیں۔
انہوں نے متاثرہ افراد کو مشورہ دیا کہ وہ قانون پر اعتماد رکھتے ہوئے اپنی قانونی جدوجہد جاری رکھیں۔ جماعت اسلامی ہند نے انہیں ہر ممکن قانونی اور اخلاقی تعاون فراہم کرنے کا بھی یقین دلایا۔
فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی تعریف
جماعت اسلامی ہند نے راجستھان کے باڑمیر، جیسلمیر اور بیکانیر میں ان ہندو شہریوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے اپنے مسلم پڑوسیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے انصاف پر مبنی مطالبات کی حمایت کی۔
شفیع مدنی نے کہا کہ ایسے اقدامات ملک کی مشترکہ تہذیب، بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی کو مضبوط کرتے ہیں اور یہی ہندوستان کی اصل شناخت ہے۔
بدعنوانی صرف سیاسی مسئلہ نہیں، اخلاقی بحران بھی ہے
جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے ملک میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی اور مالی بے ضابطگیوں پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں وزراء، اعلیٰ سرکاری افسران اور دیگر بااثر شخصیات پر سامنے آنے والے الزامات صرف احتساب کے نظام پر سوالیہ نشان نہیں بلکہ اخلاقی زوال کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بدعنوانی اب صرف سیاست، بیوروکریسی یا کاروباری حلقوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ایسے اداروں تک بھی پہنچ چکی ہے جن پر لاکھوں لوگ اعتماد کرتے ہیں۔
ان کے مطابق ادارہ جاتی اصلاحات کے ساتھ ساتھ معاشرے میں اخلاقی بیداری بھی ناگزیر ہے، کیونکہ دیانت داری، جوابدہی اور خدا خوفی کے بغیر شفاف نظام قائم نہیں ہو سکتا۔
ایس آئی آر پر بھی سوالات
پروفیسر سلیم انجینئر نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرِ ثانی (SIR) کے عمل پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حقِ رائے دہی ہندوستانی جمہوریت کی بنیاد ہے، اس لیے انتخابی عمل مکمل شفاف اور منصفانہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستوں میں بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ کئی شہری مقررہ مدت میں مطلوبہ دستاویزات جمع نہ کرا سکنے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوئے۔
ان کے مطابق اگر احتیاط نہ برتی گئی تو یہ عمل صرف انتخابی فہرستوں کی نظرِ ثانی تک محدود رہنے کے بجائے مستقبل میں شہریت کی جانچ کے خدشات کو بھی جنم دے سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی ہند اور دیگر سماجی تنظیموں نے مختلف ریاستوں میں عوام کی رہنمائی کے لیے ایس آئی آر سہولت مراکز بھی قائم کیے ہیں تاکہ شہری دستاویزات کی تکمیل اور متعلقہ حکام سے رابطے میں دشواری محسوس نہ کریں۔
الیکشن کمیشن سے مطالبات
جماعت اسلامی ہند نے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے مطالبہ کیا کہ:
- انتخابی فہرستوں کی نظرِ ثانی کے عمل کو مکمل شفاف بنایا جائے
- شہریوں کو مطلوبہ دستاویزات جمع کرانے کے لیے مناسب وقت دیا جائے
- مؤثر شکایتی نظام قائم کیا جائے
- کسی بھی اہل ووٹر کا نام بلاوجہ انتخابی فہرست سے خارج نہ ہونے دیا جائے
جمہوری اداروں کو درپیش چیلنجز
پروفیسر سلیم انجینئر نے مختلف ریاستوں میں حالیہ سیاسی پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ منتخب نمائندوں پر دباؤ، سیاسی صف بندی کی کوششیں، اپوزیشن کارکنوں کو ہراساں کیے جانے کے الزامات اور تحقیقاتی اداروں کے مبینہ استعمال جیسے معاملات جمہوری نظام کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، لیکن اگر اختلاف کو دشمنی میں بدل دیا جائے اور عوامی مکالمے کی جگہ نفرت انگیز بیانیہ لے لے تو یہ جمہوری روایت کو کمزور کرتا ہے۔
آئینی اقدار کے تحفظ کی اپیل
جماعت اسلامی ہند نے تمام سیاسی جماعتوں، آئینی اداروں اور سرکاری نظام سے اپیل کی کہ وہ آئین کی روح، قانون کی حکمرانی، مذہبی آزادی، انصاف، جوابدہی اور ادارہ جاتی غیر جانبداری کو ہر حال میں یقینی بنائیں۔
تنظیم کے مطابق ہندوستان کی جمہوریت اسی وقت مضبوط رہ سکتی ہے جب تمام شہریوں کے بنیادی حقوق بلا امتیاز محفوظ ہوں، قانون سب کے لیے یکساں ہو اور ریاستی ادارے آئین کے مطابق غیر جانب دارانہ کردار ادا کریں۔
Support Independent Media
Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.
Support Millat Times