سالگرہ کا تحفہ لینے نکلی 12 سالہ مسلم بچی اگلے روز تالاب سے مردہ حالت میں برآمد، اہلِ خانہ نے اجتماعی زیادتی کا لگایا الزام، بی جے پی کارکن بھی ملوث

معصوم کے ساتھ اجتماعی زیادتی
mt-staff

mt-staff

06 July 2026 (Publish: 09:25 AM IST)

سالگرہ کا تحفہ لینے نکلی 12 سالہ مسلم بچی اگلے روز تالاب سے مردہ حالت میں برآمد، اہلِ خانہ نے اجتماعی زیادتی کا لگایا الزام، علاقائی بی جے پی کارکن کے ملوث ہونے کا بھی دعویٰ

مغربی بنگال کے ضلع جنوبی 24 پرگنہ کے باروئی پور علاقے میں پیش آنے والے ایک دردناک واقعے نے ہر آنکھ اشکبار کر دی ہے۔ 12 سالہ مسلم بچی، جو ہفتہ کی شام اپنی سالگرہ کے لیے ایک تحفہ خریدنے گھر سے نکلی تھی، اپنے اہلِ خانہ کے پاس واپس نہ لوٹ سکی۔ رات بھر خاندان اور مقامی لوگ اسے ڈھونڈتے رہے، مگر صبح ہوتے ہی تلاش ایک ایسے منظر پر ختم ہوئی جس نے پورے علاقے کو سوگ میں ڈبو دیا۔ بچی کی لاش گھر کے قریب ایک تالاب سے برآمد ہوئی۔

متاثرہ خاندان کا الزام ہے کہ چار افراد بچی کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کی گئی، پھر اس کا دم گھونٹ کر قتل کیا گیا اور لاش بوری میں بند کرکے تالاب میں پھینک دی گئی۔

تفتیش کے دوران سامنے آنے والی معلومات کے مطابق پربھاس منڈل نامی شخص، جسے بعض رپورٹس میں اس مقدمے کا ایک ملزم اور بعض میں اہم گواہ بتایا جا رہا ہے، مبینہ طور پر مقامی لوگوں کو اس تالاب تک لے گیا جہاں سے لاش برآمد ہوئی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ آنندا اس واردات کا مرکزی کردار تھا۔ اس کے مطابق بچی پر حملے کے بعد اس کا دم گھونٹ دیا گیا، پھر لاش کو بوری میں بند کرکے تالاب میں پھینک دیا گیا۔ تاہم پولیس نے ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے اور انہیں تفتیش کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

لاش ملنے کے بعد باروئی پور میں غصے کی لہر دوڑ گئی۔ مشتعل لوگوں نے پربھاس منڈل پر بھی حملہ کر دیا، لیکن پولیس نے مداخلت کرکے اسے ہجوم سے نکال لیا۔

رپورٹس کے مطابق پربھاس منڈل کی جانب سے سامنے آنے والے ناموں کی بنیاد پر 26 سالہ اندرجیت تانتی کو پوچھ گچھ کے لیے تھانے بلایا گیا۔ بعد ازاں پولیس نے اسے رہا کر دیا۔ پولیس کے اس رویہ پر پر مقامی لوگوں میں شدید غصہ پھیل گیا، جس کے بعد مشتعل ہجوم نے ناراضگی میں اندراجیت تانتی پر حملہ کر دیا، اور وہ تشدد کے نتیجے میں ہلاک ہو گیا۔

پولیس نے اس مقدمے میں دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان میں شانتنو منڈل بھی شامل ہے، جو کہ مقامی بی جے پی کارکن بتایا ہے، جبکہ دوسرے گرفتار شخص کی شناخت اب تک واضح طور پر ظاہر نہیں کی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

اس افسوسناک واقعے کے بعد باروئی پور میں احتجاج بھی ہوا اور پولیس کی کارروائی پر سوالات بھی اٹھائے گئے۔ مقدمے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دے دی گئی ہے، جبکہ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں کی باریک بینی سے جانچ کی جا رہی ہے۔ متاثرہ خاندان انصاف کا مطالبہ کر رہا ہے اور علاقے کے لوگوں کی نظریں اب اس بات پر لگی ہیں کہ اس مقدمے میں قانون کس حد تک اور کتنی جلدی اپنا راستہ بناتا ہے۔

Support Independent Media

Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.

Support Millat Times

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top