لداخ کے سفر کے دوران پانگ کی وہ رات، جب سانس لینا بھی مشکل ہو گیا (قسط دوم)

داستان لداخ
mt-staff

mt-staff

10 July 2026 (Publish: 06:21 PM IST)

شمس تبریز قاسمی

لداخ کے سفر کی کئی یادیں آج بھی ذہن میں تازہ ہیں، لیکن ان میں ایک رات ایسی بھی تھی جسے شاید ہم چاروں زندگی بھر نہ بھلا سکیں۔ وہ رات ہمیں یہ احساس دلانے کے لیے کافی تھی کہ لداخ صرف خوبصورت وادیوں، برف پوش پہاڑوں اور دلکش جھیلوں کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا خطہ بھی ہے جہاں قدرت کا حسن جتنا مسحور کن ہے، اتنا ہی سخت اور بے رحم بھی۔

سفرنامے کی پہلی قسط میں آپ نے ترتک ویلیج کی کہانی پڑھی۔ اس قسط میں اس رات کا ذکر ہے، جب ہم سطحِ سمندر سے تقریباً پندرہ ہزار فٹ کی بلندی پر موجود تھے، آکسیجن کی کمی سے سانس لینا دشوار ہو رہا تھا، باہر درجۂ حرارت نقطۂ انجماد کے قریب تھا، موبائل نیٹ ورک مکمل طور پر غائب تھا اور ہم چاروں صرف اس انتظار میں تھے کہ کسی طرح صبح ہو جائے۔

جب ہم نے لداخ جانے کا پروگرام بنایا تو ہمارے ٹرپ پلانر، محمد مہربان، نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ یہ سفر آسان نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا تھا کہ بلند علاقوں میں سر درد، تھکن، سردی اور آکسیجن کی کمی عام بات ہے، اس لیے جلد بازی کے بجائے آہستہ آہستہ سفر کرنا ہوگا تاکہ جسم بلندی کے مطابق خود کو ڈھال سکے۔

پہلے دن ہم منالی سے آگے سیسو پہنچے اور وہیں رات گزاری۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ہمیں کسی قسم کی پریشانی محسوس نہیں ہوئی۔ نہ سر درد، نہ سانس لینے میں دقت اور نہ ہی وہ علامات جن کے بارے میں مہربان صاحب نے پہلے ہی خبردار کیا تھا۔ ہمیں لگا شاید یہ سفر اتنا مشکل نہیں جتنا لوگ بتاتے ہیں۔

اگلی صبح سیسو سے روانگی ہوئی تو راستے میں سب سے پہلے کِلونگ آیا، جو اس روٹ کا ایک اہم مقام ہے۔ یہاں اس پوری شاہراہ کا آخری پٹرول پمپ ہے۔ اس کے بعد سیدھے لداخ پہنچ کر ہی دوبارہ پٹرول ملتا ہے۔ احتیاطاً ہم نے ایک اضافی کین بھی خرید لیا تھا تاکہ ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جا سکے، لیکن اضافی پٹرول دستیاب نہ ہو سکا۔ خوش قسمتی سے ہماری گاڑی میں اتنا ایندھن موجود تھا کہ ہم بغیر کسی مشکل کے منزل تک پہنچ گئے۔

کلونگ کے بعد جسپا آیا، جو اپنے خوبصورت مناظر اور خاموش فضا کی وجہ سے سیاحوں میں خاصا مقبول ہے۔ لیکن اصل حسن اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔

جوں جوں ہم آگے بڑھتے گئے، سڑک ہمیں بارالاچا لا (Baralacha La) کی طرف لے جانے لگی۔ راستہ اگرچہ دشوار تھا، لیکن شاید پورے سفر کے خوبصورت ترین مقامات میں سے ایک بھی یہی تھا۔

جون اور جولائی جیسے گرم مہینوں میں بھی بارالاچا لا کی بلند چوٹیاں برف سے ڈھکی رہتی ہیں۔ جب سورج کی روشنی ان سفید چوٹیوں پر پڑتی ہے تو پورا منظر کسی مصور کی تخلیق معلوم ہوتا ہے۔ گاڑیاں رُک جاتی ہیں، لوگ نیچے اتر کر برف کو ہاتھ لگاتے ہیں، بچے برف سے کھیلتے ہیں، تصویریں کھنچواتے ہیں اور پھر آگے روانہ ہو جاتے ہیں۔ بہت سے سیاح صرف یہی منظر دیکھنے آتے ہیں اور یہیں سے واپس لوٹ جاتے ہیں، کیونکہ بارالاچا لا ابھی ہماچل پردیش کی حدود میں ہی واقع ہے۔

بارالاچا لا سے آگے بڑھنے کے بعد ہم سرچو پہنچے۔ ہمارے ٹرپ پلانر محمد مہربان کا منصوبہ یہی تھا کہ رات سرچو میں گزاری جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرچو تقریباً گیارہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے، اس لیے یہاں ایک رات قیام کرنے سے ہمارا جسم مزید بلندی کے لیے خود کو تیار کر لے گا اور آگے جا کر آکسیجن کی کمی زیادہ محسوس نہیں ہوگی۔

لیکن ہماری گاڑی فیض الباری چلا رہے تھے، اور ان کی رائے مختلف تھی۔انہوں نے گھڑی کی طرف دیکھا اور کہا:

“ابھی صرف چار بجے ہیں، جبکہ یہاں شام آٹھ بجے ہوتی ہے۔ ہمارے پاس چار گھنٹے ہیں۔ کیوں نہ آگے بڑھتے رہیں؟ جہاں رات ہو جائے گی، وہیں کسی ٹینٹ یا گیسٹ ہاؤس میں رک جائیں گے۔ شاید ہم آج ہی لداخ کے کافی قریب پہنچ جائیں۔”

محمد مہربان اس تجویز سے پوری طرح متفق نہیں تھے، لیکن آخرکار فیصلہ یہی ہوا کہ سفر جاری رکھا جائے۔ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ فیصلہ ہماری پوری لداخ ٹرپ کی سب سے یادگار رات میں بدلنے والا ہے…

سرچو سے روانہ ہونے کے بعد ہمارا اگلا پڑاؤ گاتا لوپس (Gata Loops) تھا، جو منالی-لداخ ہائی وے کے سب سے مشہور اور مشکل حصوں میں شمار ہوتا ہے۔ تقریباً پچاس کلومیٹر پر مشتمل اس راستے میں ایک کے بعد ایک اکیس خطرناک موڑ آتے ہیں اور یہ سطح سمندر سے تقریباً پندرہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔

لداخ کے زیادہ تر راستے اگرچہ اچھی حالت میں ہیں، لیکن گاتا لوپس کی سڑک اس وقت نسبتاً خراب تھی۔ جیسے جیسے ہماری گاڑی اوپر چڑھتی جا رہی تھی، اردگرد کا منظر بھی بدلتا جا رہا تھا۔ سبزہ کہیں دکھائی نہیں دیتا تھا۔ چاروں طرف خشک، بے آب و گیاہ پہاڑ تھے۔ کہیں مٹی کے پہاڑ، کہیں سیاہ پتھروں کی دیواریں، کہیں سرخ اور بھورے رنگ کی چٹانیں۔ ہر چند کلومیٹر بعد پہاڑوں کی ساخت اور رنگ بدل جاتا تھا۔

اس ویران منظر میں ایک عجیب سی خاموشی تھی۔ نہ کوئی آبادی، نہ درخت، نہ پرندوں کی آواز۔ صرف ہوا کی سرسراہٹ اور پہاڑوں کے درمیان بل کھاتی سڑک۔

راستے میں انیسویں موڑ کے قریب ہم نے دیکھا کہ سڑک کے کنارے پانی کی سینکڑوں بوتلیں رکھی ہوئی ہیں۔ پہلی نظر میں ہمیں سمجھ ہی نہیں آیا کہ آخر لوگ یہاں بوتلیں کیوں چھوڑ جاتے ہیں۔

محمد مہربان نے بتایا کہ یہاں سے گزرنے والے بہت سے سیاح پانی کی بوتل رکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ بعد میں جب ہم نے اس کے بارے میں معلومات حاصل کیں تو ایک مقامی روایت سامنے آئی۔ اس روایت کی آزادانہ تصدیق تو نہیں ہو سکی، لیکن مقامی ڈرائیوروں اور لوگوں میں یہ قصہ کافی مشہور ہے۔

کہتے ہیں کہ کئی برس پہلے ایک ٹرک یہاں خراب ہو گیا تھا۔ ڈرائیور مدد لینے کے لیے آگے چلا گیا اور اپنے معاون ساتھی( ہیلپر) کو وہیں چھوڑ گیا۔ جب وہ کئی دن بعد واپس آیا تو ہیلپر پیاس کی شدت سے دم توڑ چکا تھا۔ بعد میں لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ رات کے وقت یہاں سے گزرتے ہوئے ایک شخص پانی مانگتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اسی عقیدے یا عقیدت کی وجہ سے آج بھی بہت سے لوگ یہاں پانی کی بوتل رکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔

یہ روایت سچ ہے یا محض ایک کہانی، میں اس بارے میں کوئی دعویٰ نہیں کر سکتا، لیکن اتنا ضرور ہے کہ سینکڑوں بوتلیں ایک ساتھ پڑی دیکھ کر ہر آنے والا ضرور چونک جاتا ہے۔

گاتا لوپس کا راستہ ویسے ہی آسان نہیں تھا۔ مسلسل خطرناک موڑ، گہری کھائیاں اور خشک پہاڑوں کے درمیان سفر کرتے ہوئے دل پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو رہی تھی۔ مجھے ذاتی طور پر اس پورے راستے میں ایک غیر معمولی ویرانی اور خاموشی محسوس ہوئی۔ شاید اس کی وجہ بلندی، سنسان ماحول یا مسلسل سفر کی تھکن ہو، لیکن یہ راستہ لداخ کے دوسرے علاقوں سے بالکل مختلف محسوس ہوا۔

فیض الباری، جو ہماری گاڑی چلا رہے تھے، اس پورے حصے میں سب سے زیادہ سنجیدہ نظر آ رہے تھے۔ دوسری طرف محمد مہربان بار بار کہتے، “ذرا گاڑی روکیں، یہاں تصویریں لیتے ہیں۔”

لیکن حقیقت یہ تھی کہ ہم میں سے کسی کا بھی رکنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔ تقریباً پچاس کلومیٹر کے اس پورے راستے میں ہم نے ایک جگہ بھی گاڑی نہیں روکی۔

راستے میں دو تین ایسی گاڑیاں بھی نظر آئیں جو گہری کھائی میں جا گری تھیں۔ کچھ لوگ نیچے کھڑے انہیں دیکھ رہے تھے۔ ان مناظر نے ہمیں مزید محتاط کر دیا، اور ہماری پوری توجہ محفوظ طریقے سے اس راستے کو عبور کرنے پر مرکوز رہی۔

گاتا لوپس سے نکلتے نکلتے شام ڈھلنے لگی۔ سورج پہاڑوں کے پیچھے چھپنے لگا تھا اور سردی میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔

رات تقریباً آٹھ بجے ہم پانگ (Pang) پہنچے، جو سطح سمندر سے تقریباً پندرہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ایک چھوٹی سی وادی ہے۔ چند عارضی ٹینٹ، چند ڈھابے اور چند کمرے—بس یہی پانگ کی آبادی تھی۔

اسی جگہ ہم نے رات گزارنے کا فیصلہ کیا۔گاڑی سے باہر قدم رکھتے ہی میری زندگی کی شاید سب سے شدید سردی نے میرا استقبال کیا۔

میں نے فوراً اپنی جیکٹ پہن لی، لیکن ٹھنڈ کم ہونے کے بجائے اور زیادہ محسوس ہونے لگی۔ پھر دستانے پہنے، اس کے باوجود ہاتھ سن ہونے لگے۔ آخرکار محمد مہربان سے اون کی ٹوپی لی اور کان ڈھانپے، تب جا کر کچھ سکون محسوس ہوا۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ سال کے صرف تین چار مہینے ہی یہاں زندگی نظر آتی ہے۔ باقی سات آٹھ ماہ برف باری کی وجہ سے یہ علاقہ تقریباً بند رہتا ہے۔ گرمیوں میں لوگ عارضی ٹینٹ، چھوٹے ہوٹل اور ڈھابے قائم کرتے ہیں، اور موسم بدلتے ہی سب کچھ سمیٹ کر نیچے چلے جاتے ہیں۔

کافی تلاش کے بعد ہمیں ایک چھوٹا سا کمرہ ملا، جس کا کرایہ ڈھائی ہزار روپے تھا۔ ہم چاروں نے اسی ایک کمرے میں رات گزارنے کا فیصلہ کیا۔

اس وقت ہمیں اندازہ بھی نہیں تھا کہ اصل امتحان ابھی شروع ہونا باقی ہے…

کمرے میں داخل ہوئے تو سردی پہلے ہی سے موجود تھی۔ وہاں نہ ہیٹر تھا اور نہ سردی سے بچاؤ کا کوئی خاص انتظام۔ صرف ایک موٹا سا کمبل دیا گیا۔ ہم اتنے تھک چکے تھے کہ کپڑے بدلنے کی بھی ہمت نہیں تھی۔ جس حال میں تھے، اسی حال میں بستر پر بیٹھ گئے۔

اسی دوران وہاں موجود ایک خاتون، جو اس چھوٹے سے گیسٹ ہاؤس کو چلا رہی تھیں، ہمارے لیے گرم گرم راجما چاول لے آئیں۔ پورے دن کے سفر کے بعد وہ سادہ سا کھانا بھی کسی نعمت سے کم نہیں لگ رہا تھا۔ کھانا کھا کر ہم نے سوچا کہ جلدی سو جائیں تاکہ صبح آرام سے سفر جاری رکھ سکیں۔

لیکن شاید اس رات ہمارے لیے آرام لکھا ہی نہیں تھا۔رات گہری ہونے لگی تو اچانک محسوس ہوا کہ سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے۔ شروع میں مجھے لگا شاید تھکن کی وجہ سے ایسا محسوس ہو رہا ہے، لیکن چند ہی منٹوں بعد احساس ہوا کہ مسئلہ کچھ اور ہے۔ میں جتنی گہری سانس لینے کی کوشش کرتا، ایسا لگتا جیسے ہوا پھیپھڑوں تک پوری طرح پہنچ ہی نہیں رہی۔

میں نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا تو ان کی حالت بھی کچھ مختلف نہیں تھی۔

اتنے میں فیض الباری، جو پورا دن گاڑی چلاتے رہے تھے، کی طبیعت اچانک زیادہ خراب ہو گئی۔ انہیں متلی شروع ہو گئی اور کچھ ہی دیر بعد انہوں نے قے کر دی۔ شدید سر درد اور کمزوری کی وجہ سے ان کا چہرہ بالکل زرد پڑ گیا تھا۔

میں نے بھی اپنے دوستوں سے کہا:

“مجھے سانس لینے میں دقت ہو رہی ہے۔”

محمد مہربان اور محمد میر فیصل بھی خاموش تھے۔ ہم چاروں میں سے شاید ہی کوئی ایسا تھا جو خود کو مکمل طور پر نارمل محسوس کر رہا ہو۔

بعد میں معلوم ہوا کہ یہ سب بلند مقام پر آکسیجن کی کمی کی عام علامات تھیں، لیکن اس وقت ہمارے لیے یہ کیفیت بالکل نئی تھی۔

اس پوری صورتحال کے درمیان ستم بالائے ستم یہ تھا کہ ہم تما م کے موبائل مکمل طور پر بے کار ہو چکے تھے۔

پچھلے تقریباً بارہ گھنٹوں سے ہمارے پاس نہ موبائل نیٹ ورک تھا اور نہ انٹرنیٹ۔ پانگ پہنچنے کے بعد بھی صورتحال یہی رہی۔ ہم نہ کسی کو فون کر سکتے تھے، نہ کوئی پیغام بھیج سکتے تھے اور نہ ہی گھر والوں کو اپنی خیریت کی اطلاع دے سکتے تھے۔

یہ شاید میری زندگی کا پہلا موقع تھا جب انٹرنیٹ کی دنیا سے اتنے طویل وقت کے لیے مکمل طور پر کٹ گیا تھا۔

ہم چاروں میڈیا کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ہماری روزمرہ زندگی خبروں، فون کالز، ای میلز، سوشل میڈیا اور مسلسل رابطوں کے درمیان گزرتی ہے۔ اچانک ایک ایسی جگہ پہنچ جانا جہاں موبائل صرف گھڑی دیکھنے کے کام آئے، ہمارے لیے ایک بالکل نیا تجربہ تھا۔

دل کے ایک کونے میں عجیب سا سکون بھی تھا کہ کئی گھنٹوں سے نہ کوئی فون آ رہا ہے، نہ کوئی خبر، نہ کوئی نوٹیفکیشن۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے زندگی کچھ دیر کے لیے رک سی گئی ہو۔لیکن دوسری طرف ایک بے چینی بھی مسلسل ساتھ تھی۔

بار بار یہی خیال آتا تھا کہ گھر والے پریشان ہو رہے ہوں گے۔ شاید وہ ہماری خیریت جاننے کی کوشش کر رہے ہوں، لیکن ان تک ہمارا کوئی پیغام نہیں پہنچ رہا ہوگا۔رات بڑھتی جا رہی تھی اور سردی بھی۔

فیض الباری کی طبیعت مزید خراب ہونے لگی۔ انہیں دوا کی ضرورت تھی، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ان کا سوٹ کیس گاڑی میں رکھا ہوا تھا، جبکہ گاڑی کمرے سے کچھ فاصلے پر کھڑی تھی۔باہر نکلنے کا مطلب تھا منجمد کر دینے والی سردی کا سامنا کرنا۔

چند لمحوں تک ہم سب ایک دوسرے کا چہرہ دیکھتے رہے۔ کسی کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ اتنی سردی میں باہر جائے۔

آخرکار محمد مہربان نے ہمت کی۔ وہ موٹی جیکٹ پہن کر باہر نکلے، گاڑی تک گئے، سوٹ کیس سے دوا نکالی اور واپس آئے۔اس وقت ان کے ہاتھ بھی سردی سے تقریباً سن ہو چکے تھے۔

کسی طرح فیض الباری نے دوا لی، لیکن اس کے باوجود پوری رات کسی کی بھی ٹھیک سے آنکھ نہ لگ سکی۔

کبھی سردی جگا دیتی، کبھی سانس لینے میں دشواری، اور کبھی یہ احساس کہ ہم سطح سمندر سے تقریباً پندرہ ہزار فٹ کی بلندی پر ایک ایسی وادی میں موجود ہیں جہاں انسان اپنی کمزوری کو پہلی بار شدت سے محسوس کرتا ہے۔

وہ رات میرے لیے ایک سبق بھی تھی۔اس وقت ان کے ہاتھ بھی سردی سے تقریباً سن ہو چکے تھے۔

دن بھر انہی پہاڑوں کی تصویریں لیتے ہوئے ہم اللہ تعالیٰ کی قدرت پر حیران ہو رہے تھے، اور رات ہوتے ہی انہی پہاڑوں کے درمیان ہمیں اپنی بے بسی کا احساس ہونے لگا۔

صبح شاید نو بجے روانگی کا پروگرام تھا، لیکن میری آنکھ کھلتے ہی پہلا جملہ یہی تھا:

“مہربان صاحب… اگر میری مانیں تو سات بجے ہی یہاں سے نکل چلتے ہیں۔”

رات کی وہ آزمائش کافی تھی۔ اب دل صرف یہی چاہ رہا تھا کہ کسی طرح اس بلندی سے نیچے اترا جائے اور جلد از جلد لداخ پہنچا جائے۔

ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ اگلے چند گھنٹوں میں لداخ ایک بار پھر اپنا ایک بالکل مختلف، خوبصورت اور حیرت انگیز چہرہ ہمارے سامنے لانے والا تھا…

صبح ہوتے ہی ہم نے پانگ سے فوراً روانگی
کا فیصلہ کر لیا۔ گزشتہ رات کے تجربے نے ہمیں اتنا تھکا دیا تھا کہ نہ چائے پینے کا دل تھا، نہ ناشتہ کرنے کا۔ ہم نے کچھ کھائے پیے بغیر ہی گاڑی اسٹارٹ کی اور لے کی طرف روانہ ہو گئے۔

پانگ سے چند کلومیٹر آگے بڑھے تو منظر یکسر بدل گیا۔ ہمارے سامنے ایک طویل اور وسیع وادی تھی۔ دونوں طرف بلند و بالا پہاڑ اور درمیان میں دور تک پھیلا ہوا ہموار راستہ۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ہم کسی میدان میں سفر کر رہے ہوں، حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ ہم سطح سمندر سے تقریباً سولہ ہزار فٹ کی بلندی پر تھے۔

اس وادی کی خوبصورتی نے ہمیں بار بار رکنے پر مجبور کیا۔ ایک طرف برف سے ڈھکی سفید چوٹیاں تھیں، جن پر سورج کی پہلی کرنیں پڑتے ہی وہ چاندی کی طرح چمکنے لگتی تھیں۔ دوسری طرف سیاہ رنگ کے خشک پہاڑ تھے، جن کی ساخت اور رنگت دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے قدرت نے ایک ہی جگہ مختلف دنیاوں کو جمع کر دیا ہو۔

راستے میں کہیں کہیں بھیڑوں کے ریوڑ چر رہے تھے، جبکہ چند مقامات پر عارضی ٹینٹ بھی دکھائی دیے۔ ہمیں بتایا گیا کہ گرمیوں کے چند مہینوں میں کچھ مقامی لوگ یہاں ٹینٹ لگا کر رہتے ہیں اور سیاح بھی ایڈونچر کی غرض سے یہاں قیام کرتے ہیں۔ البتہ اس بلند اور سرد علاقے میں کیمپنگ ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لیے سخت موسم اور کم آکسیجن برداشت کرنے کی عادت ہونی چاہیے۔

اس حسین وادی کو عبور کرنے کے بعد ہم تنگ لنگ لا (Tanglang La) پہنچے، جو سطح سمندر سے تقریباً سترہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور دنیا کے بلند ترین موٹربل پاسز میں شمار ہوتا ہے۔ اس وقت پورا علاقہ برف سے ڈھکا ہوا تھا۔

یہ میری زندگی کا پہلا موقع تھا کہ میں اتنی زیادہ بلندی پر کھڑا تھا۔گاڑی سے اترتے ہی میں نے سوچا کہ یہاں ایک مختصر وی لاگ بنا لوں، لیکن چند ہی لمحوں میں میری سانس پھولنے لگی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے جسم میرا ساتھ چھوڑ رہا ہو۔ چند سیکنڈ سے زیادہ وہاں کھڑا رہنا بھی مشکل ہو گیا۔ مجبوراً کیمرہ بند کیا اور دوبارہ گاڑی کی طرف لوٹ آیا۔

ادھر فیض الباری، جن کی طبیعت گزشتہ رات سے ہی خراب تھی، کی حالت مزید بگڑ گئی۔ انہیں وہیں قی ہونے لگی۔ محمد مہربان نے فوراً فیصلہ کیا کہ یہاں زیادہ دیر رکنا مناسب نہیں۔

ہم نے نہ تصویریں بنائیں، نہ وی لاگ مکمل کیا اور نہ ہی اس منظر سے جی بھر کر لطف اٹھا سکے۔ چند منٹ بعد ہم دوبارہ گاڑی میں بیٹھے اور تیزی سے نیچے کی طرف اترنے لگے۔

اترتے وقت راستہ خاصا دشوار تھا۔ کئی مقامات پر سڑک پر برف جمی ہوئی تھی اور برف ہٹانے والی مشینیں مسلسل کام کر رہی تھیں۔ احتیاط سے گاڑی آگے بڑھتی رہی۔

کچھ دور نیچے اترنے کے بعد فیض الباری کی طبیعت دوبارہ خراب ہو گئی۔ ہمیں گاڑی روکنی پڑی۔ تقریباً بیس منٹ ہم سڑک کنارے رکے رہے تاکہ انہیں کچھ آرام مل سکے۔

پھر ہم نے دوبارہ سفر شروع کیا۔چند کلومیٹر آگے ایک چھوٹی سی وادی آئی، جہاں دو چار دکانیں اور چند کمرے بنے ہوئے تھے۔ ہم نے وہیں رک کر گرم چائے پی، جو اس وقت کسی نعمت سے کم محسوس نہیں ہو رہی تھی۔

اسی مقام پر چند گھنٹوں کے لیے ایک کمرہ بھی کرائے پر مل گیا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ صرف دو سو روپے میں دو گھنٹے کے لیے پورا کمرہ مل گیا۔ گویا فی کس صرف پچاس روپے میں ہمیں بستر اور آرام کرنے کی جگہ میسر آ گئی۔

دو گھنٹے آرام کرنے کے بعد طبیعت کچھ سنبھلی تو ہم نے دوبارہ لداخ کی طرف سفر شروع کیا۔

راستے میں ہمیں گیا (Gya) گاؤں ملا، جو لداخ کے قدیم ترین دیہات میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ لداخ کی پہلی مستقل آبادی تھی جسے ہم نے قریب سے دیکھا۔ تب ہمیں پہلی مرتبہ اندازہ ہوا کہ ان بلند پہاڑوں کے درمیان لوگ کس طرح زندگی گزارتے ہیں۔

شام تقریباً چار بجے ہم آخرکار لداخ کی راجدھانی لے پہنچ گئے۔ہمارا قیام ایشیا ہوٹل میں تھا، جہاں سے پورا شہر اور اردگرد کے پہاڑ نہایت خوبصورت دکھائی دیتے تھے۔ کئی دنوں کے مسلسل سفر، تھکن اور دشوار راستوں کے بعد پہلی مرتبہ ایسا محسوس ہوا کہ اب ہم واقعی اپنی منزل تک پہنچ گئے ہیں۔

کچھ دیر آرام کرنے کے بعد رات میں ہم کھانے کے لیے لے مارکیٹ گئے۔ وہیں الکریم ریسٹورنٹ میں کھانا کھایا، جہاں کافی تعداد میں سیاح اور مقامی لوگ موجود تھے۔

اسی بازار میں لداخ کی تاریخی جامع مسجد بھی واقع ہے، جس کی تاریخ، اس کی تعمیر اور وہاں کے مسلمانوں سے ملاقات کا ذکر میں اس سفرنامے کی اگلی قسط میں کروں گا۔

Support Independent Media

Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.

Support Millat Times

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top