شمس تبریز قاسمی
ہمارے قریبی دوستوں میں شامل محمد مہربان ہندوستان کے ممتاز فوٹوگرافروں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ الجزیرہ سمیت کئی بین الاقوامی میڈیا اداروں کے لیے ڈاکومنٹریز بناتے ہیں، جبکہ ملت ٹائمز کے لیے بھی متعدد اہم پروجیکٹس پر کام کر چکے ہیں۔ ایک مرتبہ ملت ٹائمز کی ایک ڈاکومنٹری پر کام کے دوران انہوں نے مجھ سے ایک شرط رکھ دی۔ کہنے لگے:
“اگر یہ پروجیکٹ مجھ سے کروانا ہے تو پھر آپ کو میرے ساتھ لداخ کا سفر کرنا ہوگا۔”
مجھے ان سے وہ کام ہر حال میں کروانا تھا، اس لیے میں نے فوراً ہاں تو کر دی، لیکن دل ہی دل میں یہی سوچا کہ بعد میں کسی نہ کسی بہانے یہ پروگرام ٹل جائے گا مگر ایسا نہ ہو سکا۔ پروجیکٹ مکمل ہوتے ہی وہ مسلسل اصرار کرتے رہے کہ اب وعدہ پورا کرنا ہوگا۔
سچ یہ ہے کہ مجھے پہاڑوں سے کبھی خاص دلچسپی نہیں رہی۔ سمندر ہمیشہ مجھے زیادہ اپنی طرف کھینچتا رہا ہے۔ لداخ کے بارے میں بھی میری یہی رائے تھی کہ وہاں آبادی کم ہے، رہنے کے قابل علاقے محدود ہیں اور چاروں طرف صرف پہاڑ ہی پہاڑ ہیں۔آخرکار میں ان کے اصرار کے آگے ہار گیا اور لداخ جانے پر آمادہ ہو گیا۔
لیکن اصل حیرت تو ابھی باقی تھی۔
انہوں نے کہا کہ لداخ ہم ہوائی جہاز سے نہیں بلکہ کار کے ذریعے(بائی روڈ جائیں گے)۔ میں نے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا:
“اگر آپ سیدھے فلائٹ سے پہونچ جائیں گے تو لداخ کا اصل حسن کبھی محسوس نہیں کر سکیں گے۔ اس سفر کا مقصد صرف منزل تک پہنچنا نہیں، بلکہ راستے میں اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا مشاہدہ کرنا بھی ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ دنیا میں شاید ہی کہیں ایسے پہاڑ ہوں جیسے لداخ میں ہیں۔ کہیں خشک، کہیں رنگ بدلتے ہوئے، کہیں برف سے ڈھکے، اور کہیں عجیب و غریب چٹانی ساخت کے حامل۔ راستے میں دنیا کے بلند ترین پہاڑی درّے، ہزاروں فٹ بلند چوٹیاں، برفانی میدان اور ایسے مناظر ہیں جو انسان کو بار بار خالقِ کائنات کی قدرت پر غور کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ پھر انہوں نے پینگونگ جھیل کا ذکر کیا، جس کا ایک حصہ ہندوستان اور دوسرا چین میں واقع ہے۔ نوبرا ویلی کی خوبصورتی بیان کی، اور آخر میں ترتک ویلیج کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ
“اگر لداخ کو حقیقت میں سمجھنا ہے تو ترتک ضرور جانا ہوگا۔”
بس، پھر فیصلہ ہو گیا۔
اس سفر میں میرے ساتھ محمد مہربان، محمد میر فیصل اور فیض الباری شریک تھے۔ ہم چاروں دہلی سے کار کے ذریعے روانہ ہوئے۔ یہ سفر ابتدائی طور پر دس دنوں کا طے پایا تھا، لیکن گیارہ دنوں میں مکمل ہوا۔ ان گیارہ دنوں میں تقریباً چھ سے سات دن صرف سفر ہی میں گزرے۔
ہم دہلی سے منالی کے راستے تین دن میں لداخ کے صدر مقام پر پہنچے۔ واپسی میں سری نگر آئے، وہاں دو راتیں گزاریں اور پھر اگلے دن دہلی واپس پہنچ گئے۔
اس پورے سفر میں ہم نے بے شمار خوبصورت مقامات دیکھے، لیکن اگر کوئی ایک جگہ میرے دل میں ہمیشہ کے لیے بس گئی تو وہ ترتک ویلیج تھا۔
ترتک دراصل پانچ دیہات پر مشتمل ایک بلاک ہے، جس کی تقریباً پوری آبادی مسلمان ہے۔ یہاں کی کل آبادی تقریباً چار ہزار ہے، جبکہ مختلف ذرائع کے مطابق یہاں تقریباً ایک ہزار مکانات موجود ہیں۔
آج یہ علاقہ لداخ کا حصہ ہے، لیکن 1971 کی جنگ سے پہلے یہ پاکستان کے بلتستان کا حصہ تھا۔ اس سے قبل 1947-48 کی پہلی ہندوستان۔پاکستان جنگ کے دوران بھی یہاں شدید لڑائی ہوئی تھی۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس زمانے میں گولہ باری سے بچنے کے لیے لوگ پہاڑوں میں بنائے گئے بنکروں میں پناہ لیتے تھے اور کئی کئی دن وہیں گزارنے پر مجبور ہوتے تھے۔
1971 کی جنگ میں بھارتی فوج نے لداخ کی جانب سے پیش قدمی کرتے ہوئے ترتک سمیت اس پورے علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ یہاں کے بزرگ آج بھی وہ لمحہ یاد کرتے ہوئے جذباتی ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ رات کو پاکستانی شہری کی حیثیت سے سوئے تھے، ان کا وطن پاکستان تھا، لیکن جب صبح آنکھ کھلی تو وہ ہندوستانی شہری بن چکے تھے اور گاؤں میں بھارتی فوج موجود تھی۔
سرحد کی جغرافیائی صورتِ حال آج بھی نہایت منفرد ہے۔ کہیں ایک ہی پہاڑ کا نچلا حصہ ہندوستان میں ہے اور اس کی چوٹی پاکستان کے زیرِ انتظام، تو کہیں سامنے نظر آنے والا پہاڑ پاکستان میں ہے، جبکہ اس کے دامن میں ہندوستانی فوج تعینات ہے۔ کئی مقامات پر پاکستانی بنکر دور سے صاف دکھائی دیتے ہیں۔ ان مناظر کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ سرحدیں صرف نقشوں پر کھینچی ہوئی لکیریں نہیں ہوتیں، بلکہ وہ لوگوں کی زندگیوں، یادوں اور تاریخ کا رخ بھی بدل دیتی ہیں۔
ترتک اپنی قدرتی خوبصورتی کے باعث کسی جنت کا منظر پیش کرتا ہے۔ پہاڑوں کے درمیان بہتے ہوئے شفاف چشمے، چھوٹی نہریں، سرسبز کھیت، گندم کی لہلہاتی فصلیں اور سیب، خوبانی، انجیر سمیت مختلف پھلوں سے لدے درخت اس علاقے کو بے مثال بنا دیتے ہیں۔ دریائے شیوک کے کنارے آباد یہ وادی اپنی دل آویز خوبصورتی سے ہر آنے والے کو مسحور کر دیتی ہے۔
یہاں کی تہذیب، زبان اور ثقافت آج بھی بلتستان سے گہری مماثلت رکھتی ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق اس خطے میں اسلام بارہویں صدی میں حضرت میر سید علی ہمدانیؒ کی دعوت و تبلیغ کے نتیجے میں پھیلا۔ اس سے قبل یہاں کے لوگ بدھ مت کے پیروکار تھے۔
ترتک کے سفر کے دوران ہماری ملاقات مولانا نورالحسن ندوی صاحب سے ہوئی، جو ندوۃ العلماء کے فاضل ہیں اور یہاں ایک اسکول میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے نہایت محبت سے ہمیں پورا علاقہ دکھایا اور اس کی تاریخ سے بھی آگاہ کیا۔
اسی دوران مسلمانوں کی ایک سماجی تنظیم کے سربراہ جناب عبدالقادر صاحب سے بھی تفصیلی ملاقات ہوئی۔ ان کا انٹرویو بھی ہم نے ریکارڈ کیا، جو جلد ملت ٹائمز کی ڈاکومنٹری کا حصہ ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کا بچپن پاکستان میں گزرا، ابتدائی تعلیم بھی وہیں حاصل کی، لیکن 1971 کی جنگ کے بعد اچانک وہ ہندوستانی شہری بن گئے۔ ان کے مطابق ابتدائی پانچ برس تک حالات نہایت دشوار رہے۔ علاقے سے باہر جانے کے لیے خصوصی اجازت نامہ (پاس) لینا پڑتا تھا۔ بعد میں حالات معمول پر آئے، لوگوں کی آمدورفت بحال ہوئی اور بھارتی فوج نے مقامی آبادی کی مختلف شعبوں میں مدد بھی کی۔
ترتک کے لوگوں کی سب سے دردناک داستان تقسیمِ خاندان کی ہے۔ کسی کی بیوی پاکستان میں رہ گئی اور شوہر ہندوستان میں رہ گیا۔ کسی کا باپ اُدھر رہ گیا اور بیٹا اِدھر۔ کہیں بھائی ایک دوسرے سے جدا ہو گئے، تو کہیں بہنیں ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئیں۔
ایک بزرگ نے اپنی زندگی کا ایسا واقعہ سنایا جو آج بھی سننے والے کو رُلا دیتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ رات کو اپنے کھیت میں سوئے تھے۔ اس وقت یہ علاقہ پاکستان کا حصہ تھا۔ صبح آنکھ کھلی تو بھارتی فوج وہاں موجود تھی اور وہ خود ہندوستانی شہری بن چکے تھے۔ ان کی بیوی، پانچ بیٹے اور والدین پاکستان میں رہ گئے، اور پھر زندگی بھر ان سے ملاقات نہ ہو سکی۔
ہم ہندوستان کے آخری آباد گاؤں تک بھی گئے، جہاں سے پاکستان کے دیہات صاف دکھائی دیتے ہیں۔ درمیان میں لائن آف کنٹرول، فوجی چوکیاں اور بہتا ہوا دریائے شیوک اس پورے منظر کو مزید منفرد بنا دیتے ہیں۔
وہاں ہماری ملاقات ندا محمد سے بھی ہوئی، جو مقامی ٹورسٹ گائیڈ ہیں۔ انہوں نے مجھے فوراً پہچان لیا اور بڑی خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ہمیں پورے علاقے کے بارے میں تفصیل سے بتایا اور دوربین کے ذریعے سرحد پار پاکستان کے دیہات اور دیگر علاقے بھی دکھائے۔
ترتک کے ایک گاؤں میں تقریباً آٹھ سو سال پرانی ایک تاریخی مسجد بھی موجود ہے۔ اسی طرح یہاں ایک مقامی میوزیم اور کئی تاریخی عمارتیں بھی ہیں، جو اس علاقے کی تہذیبی اور تاریخی شناخت کو آج بھی محفوظ کیے ہوئے ہیں۔
میری نظر میں ترتک ویلیج نہ صرف لداخ بلکہ پورے ہندوستان کے خوبصورت ترین مقامات میں سے ایک ہے۔
یہاں قدرت اپنی تمام رنگینیوں کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے۔ برف پوش پہاڑ، نیلا آسمان، سرسبز وادیاں، شفاف چشمے، قدیم اسلامی تاریخ، بلتی تہذیب اور محبت کرنے والے لوگ—یہ سب مل کر ترتک کو ایک ایسا مقام بنا دیتے ہیں، جسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا شاید ممکن نہیں۔
لداخ اور کشمیر میں ہم تقریباً دس دن رہے۔ اس دوران پینگونگ جھیل، نوبرا ویلی، لے، خاردنگ لا، سری نگر اور کئی دوسرے خوبصورت مقامات دیکھے، لیکن اگر آج بھی کوئی مجھ سے پوچھے کہ اس پورے سفر کی سب سے خوبصورت یاد کیا ہے تو میرا جواب صرف ایک ہوگا: ترتک ویلیج۔
قدرت کے بے مثال نظاروں، صدیوں پر محیط تاریخ، بلتی تہذیب، سرحد کے دونوں طرف بکھرے خاندانوں کی درد بھری داستانوں اور یہاں کے لوگوں کی بے مثال محبت نے ترتک کو میرے لیے صرف ایک سیاحتی مقام نہیں، بلکہ ایک ایسی یاد بنا دیا ہے جو شاید زندگی بھر میرے ساتھ رہے گی۔
قسط وار جاری ۔۔
Support Independent Media
Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.
Support Millat Times