قطر میں ایرانی حملوں کے بعد وزارتِ داخلہ کا تفصیلی بیان ،ایرانی حملے کے باعث ایک بچہ سمیت تین افراد زخمی

ایران کی طرف سے جوابی کاروائی
mt-staff

mt-staff

12 July 2026 (Publish: 07:25 AM IST)

مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر شدید فوجی کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد خطے کی صورتحال تیزی سے بگڑ گئی۔ ایران نے اس کارروائی کو امریکی اور اسرائیلی دباؤ کے خلاف اپنے دفاعی اقدامات کا حصہ قرار دیا، اور ساتھ ہی واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے پرامن گزرگاہ کیلئے ایران کے ساتھ ہم آہنگی ضروری ہوگی۔

امریکہ نے ایران کی اس کارروائی کو عالمی توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیتے ہوئے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی۔ امریکی افواج نے ایران کے مختلف فوجی مراکز، میزائل تنصیبات، فضائی دفاعی نظام، بحری اڈوں اور پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت کو محدود کرنا اور آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کو محفوظ بنانا تھا۔ اسی کے ساتھ واشنگٹن نے ایران کو دی گئی اقتصادی رعایتیں اور پابندیوں میں نرمی بھی واپس لینے کا اعلان کیا۔

امریکی حملوں کے چند ہی گھنٹوں بعد ایران نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات، کویت اور دیگر خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ تہران نے واضح کیا کہ جس ملک کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہوگی، وہاں موجود امریکی فوجی مراکز کو جائز ہدف سمجھا جائے گا۔

قطر کی وزارتِ داخلہ نے بعد ازاں تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حملوں کے فوراً بعد سیکیورٹی اداروں اور سول ڈیفنس نے پہلے سے طے شدہ ہنگامی منصوبہ نافذ کر دیا۔ وزارت کے مطابق فضائی دفاعی کارروائی کے دوران گرنے والے ملبے سے تین افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔ تمام زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور افواہوں یا غیر مصدقہ تصاویر و ویڈیوز کی تشہیر سے گریز کریں۔ وزارت نے یقین دہانی کرائی کہ تمام متعلقہ ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی حملے کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کو دباؤ میں لا کر اس کی خودمختاری ختم کرنا چاہتے ہیں، لیکن ایران ہر حملے کا فیصلہ کن جواب دے گا اور مزاحمت کی پالیسی سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔

Support Independent Media

Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.

Support Millat Times

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top