اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ کے حسین گنج علاقے میں ایک مسلم نوجوان پر مبینہ ہجومی حملے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے الزام عائد کیا ہے کہ نوجوان کو مذہبی اور ذات پات پر مبنی توہین آمیز الفاظ کہنے کے بعد لاٹھیوں، اینٹوں اور مکوں سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
پولیس میں درج شکایت کے مطابق حافظ محمد کیف خان 8 جولائی کی رات تقریباً 10:30 سے 11:30 بجے کے درمیان جم سے ورزش کر کے گھر واپس آ رہے تھے کہ گھر کے قریب چند افراد نے انہیں روک لیا۔
اہل خانہ کا الزام ہے کہ ملزمان نے مذہبی اور ذات پات پر مبنی نعرے اور توہین آمیز الفاظ استعمال کیے۔ جب کیف خان نے اعتراض کیا تو ان پر مبینہ طور پر لاٹھیوں، اینٹوں اور گھونسوں سے حملہ کر دیا گیا۔ جان بچانے کے لیے وہ قریبی مکان میں داخل ہوئے، مگر حملہ آور وہاں بھی پہنچ گئے اور تشدد جاری رکھا۔
تشدد کے نتیجے میں کیف خان کے سر پر شدید چوٹیں آئیں اور انہیں ٹانکے لگانے پڑے۔ بعد ازاں انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں ان کا علاج جاری رہا۔
واقعے کے بعد اے آئی ایم آئی ایم کے لکھنؤ یونٹ کے صدر محمد تابش بیگ کی قیادت میں ایک وفد نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی، واقعے کی تفصیلات معلوم کیں اور قانونی مدد کی یقین دہانی کرائی۔
متاثرہ خاندان نے منصفانہ تحقیقات، ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی، متاثرہ نوجوان کو انصاف اور خاندان کو سیکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ تاہم متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ خبر لکھے جانے تک کسی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی، جس کے باعث خاندان میں خوف و ہراس کی فضا برقرار ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور شواہد کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔
Support Independent Media
Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.
Support Millat Times