مسلمانوں کو اپنی شناخت چھپانے کا مشورہ دیناہجومی تشدد کا دیر پا حل نہیں: مولانا محمود مدنی

مولانا محمود مدنی
mt-staff

mt-staff

12 July 2026 (Publish: 07:42 AM IST)

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے سابق آئی اے ایس افسر نیاز خان کی جانب سے مسلمانوں کو ہجومی تشدد سے بچنے کے لیے اپنی ظاہری مذہبی شناخت، جیسے داڑھی، ٹوپی، حجاب اور روایتی لباس ترک کرنے کے مشورے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مسئلے کی غلط تشخیص اور حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔

مولانا مدنی نے اپنے بیان میں کہا کہ ہجومی تشدد کا مسئلہ کسی مسلمان کی داڑھی، ٹوپی، حجاب یا کرتے پاجامے میں نہیں بلکہ حملہ آوروں کے ذہن میں پروان چڑھائی جانے والی نفرت اور اس ماحول میں ہے جہاں ہجوم خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگتا ہے۔ ان کے مطابق مجرموں کو روکنے اور قانون کے مطابق سزا دینے کے بجائے مظلوم سے اپنی شناخت تبدیل کرنے کا مطالبہ نہ انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے اور نہ ہی کسی مہذب جمہوری معاشرے میں اس کی گنجائش ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کے پاس گزشتہ دس برسوں کے ہجومی تشدد کے 38 نمایاں واقعات پر مشتمل ایک تحقیقی رپورٹ موجود ہے، جس کے مطابق 83 فیصد متاثرین ایسے تھے جنہوں نے عام لباس پہن رکھا تھا اور ان کی ظاہری شکل و صورت سے کوئی نمایاں مذہبی شناخت ظاہر نہیں ہوتی تھی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ تشدد کی اصل وجہ لباس یا ظاہری حلیہ نہیں بلکہ افواہیں، نفرت اور تعصب ہیں۔

مولانا مدنی نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 2015 میں دادری میں محمد اخلاق، 2018 میں الور میں اکبر خان اور ہاپوڑ میں قاسم قریشی، 2019 میں جھارکھنڈ میں تبریز انصاری، 2023 میں راجستھان کے ناصر اور جنید، اور 2024 میں ہریانہ کے چرخی دادری میں صابر ملک جیسے متعدد واقعات میں متاثرین کا لباس یا ظاہری شناخت حملے کی وجہ نہیں تھی۔

انہوں نے تاریخی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بوسنیا کے مسلمان زبان، لباس اور رہن سہن کے اعتبار سے اپنے عیسائی ہمسایوں سے مختلف نہیں تھے، اس کے باوجود انہیں نسل کشی، اجتماعی قتل اور انسانیت سوز مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لیے صرف ظاہری شناخت تبدیل کر لینا کبھی تحفظ کی ضمانت نہیں بن سکتا۔

مولانا مدنی نے کہا کہ اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ متاثرہ شخص نے کیا پہن رکھا تھا، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ آخر ایک ہجوم کو کسی شہری کی شناخت پوچھنے، اس کا تعاقب کرنے، حملہ کرنے اور قتل کرنے کی جرأت کیوں ہوتی ہے۔ اگر بحث کا رخ مجرم سے ہٹا کر مظلوم کے لباس کی طرف موڑ دیا جائے تو اس سے تشدد کی ذمہ داری بھی غیر محسوس طور پر متاثرہ شخص پر منتقل ہو جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب کسی مخصوص طبقے کے خلاف مسلسل نفرت پھیلائی جائے، اسے مشکوک بنا کر پیش کیا جائے اور اس کی اجتماعی شناخت کو خطرہ قرار دیا جائے تو صرف لباس یا ظاہری شناخت بدل لینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

مولانا مدنی نے زور دیا کہ ملک میں ہجومی تشدد کی روک تھام صرف اسی صورت ممکن ہے جب قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے، سپریم کورٹ کے تحسین ایس پوناوالا بنام یونین آف انڈیا مقدمے میں جاری کردہ ہدایات پر مؤثر عمل درآمد ہو، بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 103(2) کو غیر جانبداری اور سختی سے نافذ کیا جائے، اور ہجومی تشدد میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

آخر میں انہوں نے ملک کے تمام انصاف پسند اور باشعور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ہجومی تشدد اور نفرت کے خلاف متحد ہو کر آواز اٹھائیں اور قانون کی حکمرانی، سماجی ہم آہنگی اور ملک کی نیک نامی کے لیے مشترکہ کوشش کریں۔

Support Independent Media

Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.

Support Millat Times

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top