اقوام متحدہ کی نسلی امتیاز کے خاتمے کی کمیٹی (CERD) نے بھارت کے بارے میں اپنے تازہ جائزے میں مسلمانوں، قبائلی برادریوں اور دیگر نسلی و مذہبی گروہوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کمیٹی نے بھارت میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر نسلی اور نسلی-مذہبی گروہوں، مقامی و قبائلی برادریوں، دلتوں اور غیر شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کے الزامات کا ذکر کیا۔ ان میں نسلی تعصب پر مبنی تشدد، طاقت کا ضرورت سے زیادہ استعمال، ماورائے عدالت ہلاکتیں، قانونی کارروائی کے تقاضے پورے کیے بغیر من مانی اور طویل حراست، تشدد، بدسلوکی اور جنسی تشدد شامل ہیں۔ کمیٹی نے ایسے تمام الزامات کی فوری، جامع اور غیر جانب دارانہ تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے احتساب پر زور دیا ہے۔
رپورٹ میں روہنگیا اور بنگالی بولنے والے مسلمانوں کا معاملہ خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ 2017 کے وزارتِ داخلہ کے حکم اور اپریل 2025 کے پہلگام حملے کے بعد روہنگیا، بنگالی بولنے والے مسلمانوں، تارکینِ وطن اور پناہ کے متلاشی افراد کو نشانہ بنانے والی قانون نافذ کرنے کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
کمیٹی کے مطابق نسلی شناخت کی بنیاد پر پولیس کی جانب سے روکنے اور شناخت کی جانچ کے نتیجے میں بعض افراد کی من مانی گرفتاری اور حراست کے ساتھ تشدد اور بدسلوکی کی شکایات سامنے آئی ہیں۔اقوام متحدہ کی کمیٹی نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ روہنگیا، بنگالی بولنے والے مسلمانوں، تارکینِ وطن اور پناہ کے متلاشی افراد کے خلاف امتیازی سلوک، نفرت انگیز تقاریر اور نفرت پر مبنی جرائم سے فوری طور پر نمٹا جائے، ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور اجتماعی بے دخلی سے گریز کیا جائے۔
اقوام متحدہ کی کمیٹی نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ روہنگیا، بنگالی بولنے والے مسلمانوں، تارکینِ وطن اور پناہ کے متلاشی افراد کے خلاف امتیازی سلوک، نفرت انگیز تقاریر اور نفرت پر مبنی جرائم سے فوری طور پر نمٹا جائے، ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور اجتماعی بے دخلی سے گریز کیا جائے۔
اقوام متحدہ کی نسلی امتیاز کے خاتمے کی کمیٹی نے بھارت کے بارے میں یہ نتائج اپنی 118ویں نشست کے دوران جاری کیے ہیں، جس میں بھارت کے ساتھ ساتھ فن لینڈ، ہونڈوراس اور کویت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
Support Independent Media
Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.
Support Millat Times