اسرائیل کا E1 آبادکاری منصوبہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے خطرہ ہے: آٹھ عرب ممالک و دیگر مسلم ممالک کا مشترکہ بیان

اسرائیل کا E1 آبادکاری منصوبہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے خطرہ ہے: آٹھ عرب ممالک و دیگر مسلم ممالک کا مشترکہ بیان
mt-staff

mt-staff

22 August 2026 (Publish: 11:21 AM IST)

متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، اردن، انڈونیشیا، پاکستان، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی غیر قانونی آبادکاری کی پالیسیوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے مشرقی مقبوضہ بیت المقدس کے مشرق میں قائم کیے جانے والے E1 آبادکاری منصوبے کو مکمل طور پر مسترد کردیا ہے۔

جمعہ ۲۱ اگست کو جاری مشترکہ بیان میں وزرائے خارجہ نے کہا کہ اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینی عوام اور ان کی املاک کے خلاف تشدد اور خلاف ورزیاں بھی قابلِ مذمت ہیں، جنہیں اسرائیلی قابض حکام کی حمایت حاصل ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق کو کسی بھی صورت ختم نہیں کرسکتے اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔ ان سے علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو بھی سنگین خطرہ لاحق ہے۔

وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ E1 منصوبہ فلسطین میں آبادکاری اور الحاق کی توسیع کی راہ ہموار کرے گا اور مقبوضہ فلسطینی سرزمین کے جغرافیائی ربط کو نقصان پہنچائے گا، بالخصوص مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس کے درمیان رابطے کو۔ ان کے بقول اس سے 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، متصل اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات شدید متاثر ہوں گے، جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات امن کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں، بالخصوص صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جامع امن منصوبے کے لیے براہِ راست چیلنج ہیں۔ بیان میں اس منصوبے میں الحاق اور جبری بے دخلی کی واضح مخالفت اور اس کے نفاذ کے لیے متوقع طریقۂ کار، بشمول مجلسِ امن، کا بھی حوالہ دیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے بھی مغربی کنارے کے الحاق کی اجازت نہ دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

آٹھوں ممالک نے ایک بار پھر کہا کہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل ہی منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کے حصول کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس حل کو کمزور کرنے والے اقدامات خطے میں کشیدگی بڑھانے، علاقائی و عالمی امن کو خطرے میں ڈالنے اور دیرپا امن و استحکام کے امکانات کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتے ہیں۔

بیان میں غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیوں کے ذمہ دار افراد اور اداروں کے خلاف مناسب بین الاقوامی اقدامات اور پابندیاں عائد کرنے سمیت جواب دہی یقینی بنانے کی تمام کوششوں کی حمایت کی گئی۔ وزرائے خارجہ نے E1 منصوبے سمیت غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیوں کی حمایت، سہولت کاری یا نفاذ میں ملوث فریقوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔انہوں نے غیر قانونی یہودی بستیوں کے قیام، توسیع یا استحکام میں معاونت یا مالی مدد روکنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ جواب دہی کا فقدان خلاف ورزیوں کے تسلسل میں مدد دیتا ہے اور منصفانہ و جامع امن کے امکانات کو مزید کمزور کرتا ہے۔مشترکہ بیان میں E1 آبادکاری منصوبہ فوری طور پر روکنے، اس کے تحت کیے گئے تمام اقدامات منسوخ کرنے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے جغرافیائی و آبادیاتی کردار کو تبدیل کرنے والی تمام آبادکاری سرگرمیاں اور دیگر اقدامات ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

آٹھوں ممالک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، تمام ریاستوں اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، غیر قانونی آبادکاری کی توسیع روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں اور فلسطینی عوام کے تحفظ اور ان کے ناقابلِ تنسیخ حقوق کے احترام کو یقینی بنائیں، جن میں حقِ خود ارادیت اور اپنی آزاد ریاست کے قیام کا حق بھی شامل ہے۔

Support Independent Media

Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.

Support Millat Times

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top