نئی دہلی، 6 ستمبر 2026: جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع ایک صدی پرانی مسجد کے انہدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ کی کارروائی انصاف اور قانونی ضابطے کے بنیادی اصولوں کے لیے ایک سنگین دھچکا ہے۔
مولانا محمود مدنی نے کہا کہ جس معاملے میں تنازع کلکٹریٹ احاطے کی زمین سے متعلق ہو، اس میں انتظامیہ اور مجسٹریٹ خود بھی فریق بن جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’قانون کا ایک عالمی طور پر تسلیم شدہ اصول ہے کہ کوئی بھی فریق اپنے ہی مقدمے میں جج نہیں بن سکتا۔‘‘ ان کے مطابق ایسے حالات میں یک طرفہ کارروائی انصاف کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ستمبر کو زیریں عدالت کی جانب سے جاری حکم میں مسجد کو فوری طور پر منہدم کرنے کی کوئی واضح ہدایت موجود نہیں تھی، اس کے باوجود چند ہی گھنٹوں کے اندر انتظامیہ نے رات کے وقت مسجد منہدم کردی۔ مولانا مدنی کے مطابق متاثرہ فریق کو قانونی چارہ جوئی کے لیے مناسب وقت تک نہیں دیا گیا اور نہ ہی اسے عدالتی حکم کی مصدقہ نقل حاصل کرنے کا موقع ملا۔
مولانا محمود مدنی نے کہا کہ جب قانون اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کا راستہ فراہم کرتا ہے تو زیریں عدالت کے فیصلے کو آخری فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا، ’’آئین ہر شہری کو انصاف کے لیے اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرنے کا حق دیتا ہے۔ جب کسی کارروائی سے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہو تو متاثرہ فریق کو عدالتی مداخلت حاصل کرنے کا معقول موقع تک نہ دینا انتہائی تشویش ناک ہے۔‘‘
انہوں نے مسجد کے انہدام میں کی گئی غیر معمولی جلد بازی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس اقدام نے متاثرہ فریق کے لیے اعلیٰ عدالت سے رجوع کرکے راحت حاصل کرنے کا تقریباً کوئی موقع باقی نہیں چھوڑا۔ مولانا مدنی نے کہا، ’’جب کسی کارروائی کے نتائج ناقابلِ تلافی ہوں تو حکام کی پہلی ذمہ داری قانونی تقاضوں اور منصفانہ طریقۂ کار کو یقینی بنانا ہونی چاہیے، نہ کہ انہدام میں جلد بازی کرنا۔‘‘
مولانا محمود مدنی نے مسجد کمیٹی اور اس کے قانونی مشیروں پر زور دیا کہ وہ بلا تاخیر ہائی کورٹ سے رجوع کریں اور مناسب عدالتی مداخلت کی درخواست کریں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی کارروائی کو عدالتی جانچ کے دائرے میں لایا جانا چاہیے اور سرکاری اختیارات کے من مانے استعمال کے بجائے قانون کی حکمرانی کو بالادستی حاصل ہونی چاہیے۔
مدنی نے انصاف، آئینی اقدار اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر یقین رکھنے والے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ مساجد اور دیگر عبادت گاہوں کے خلاف من مانی کارروائی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف آواز اٹھائیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کو الگ الگ معاملات کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا اور اگر انہیں بغیر روک ٹوک جاری رہنے دیا گیا تو اس سے فرقہ وارانہ تقسیم مزید گہری ہوسکتی ہے اور ملک کی مشترکہ سماجی و آئینی اقدار کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
Support Independent Media
Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.
Support Millat Times