سہارنپور کی قدیم مسجد کا انہدام افسوسناک، اگر قانون سب کیلئے یکساں ہے تو اس کے نفاذ میں دوہرا معیار کیوں: مولانا ارشد مدنی

مولانا ارشد مدنی
mt-staff

mt-staff

05 September 2026 (Publish: 04:13 PM IST)

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے سہارنپور کلکٹریٹ میں واقع قدیم مسجد کے انہدام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کارروائی نے ایک بار پھر یہ بنیادی سوال کھڑا کردیا ہے کہ اگر آئین اور قانون سب کے لیے یکساں ہیں تو ان کے نفاذ میں دوہرا معیار کیوں دکھائی دیتا ہے؟

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ آج بلڈوزر کارروائی انصاف کی علامت کم اور بدلے، امتیاز اور نفرت کی سیاست کا ہتھیار زیادہ بنتی جارہی ہے۔ ان کے بقول یہ معاملہ صرف ایک مسجد کا نہیں بلکہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، مذہبی آزادی، شہری مساوات اور ریاست کے غیر جانب دار کردار کا سوال ہے۔

انہوں نے کہا کہ 1991 کا مذہبی عبادت گاہوں سے متعلق قانون آج بھی موجود ہے۔ اسی طرح نئے وقف قانون میں بھی ’’وقف بائی یوزر‘‘ کی شق موجود ہے۔ ان کے مطابق مذکورہ مسجد وقف بورڈ میں 451 نمبر پر درج ہے، جبکہ زمین کے پرانے ریکارڈ میں یعقوب خان اور وحید خان کے نام درج ہیں۔

مولانا ارشد مدنی کے مطابق مسجد کمیٹی نے عدالت میں 1911 سے متعلق دستاویزات، بلدیاتی ریکارڈ اور پرانے محصولات کے ریکارڈ پیش کرکے اپنا موقف رکھا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے تاریخی اور قانونی شواہد کو نظر انداز کرکے مسجد منہدم کرنے کی کارروائی انصاف کے اصولوں پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر غیر قانونی قبضہ یا تجاوزات کارروائی کا معیار ہے تو یہی معیار ہر مذہب اور ہر طبقے کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ ملک کے مختلف حصوں میں سرکاری زمینوں، سڑکوں اور عوامی مقامات پر دہائیوں سے موجود دیگر مذہبی تعمیرات کے خلاف بھی کیا انتظامیہ اسی عجلت، سختی اور معیار کے ساتھ کارروائی کرتی ہے؟

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اگر ایسا نہیں ہے تو کسی ایک مذہبی مقام کے خلاف غیر معمولی سختی مساوی انصاف کے اصول کے منافی محسوس ہوتی ہے۔مدنی صاحب نے کہا کہ ہندوستان کسی ایک مذہب یا طبقے کا ملک نہیں بلکہ ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور تمام مذاہب کو ماننے والوں کا مشترکہ وطن ہے۔ آئین نے کسی کو پہلے درجے اور کسی کو دوسرے درجے کا شہری نہیں بنایا۔

مولانا ارشد مدنی نے واضح کیا کہ مسلمانوں کو کسی خصوصی رعایت کی خواہش نہیں، بلکہ صرف مساوی انصاف چاہیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جو قانون مسجد کے لیے ہے، وہ ہر مذہبی مقام کے لیے کیوں نہیں؟ جو معیار مسلمانوں کے لیے مقرر ہے، وہ دوسرے شہریوں کے لیے کیوں نہیں؟ اگر آئین اور قانون سب کے لیے ہیں تو ان کا تحفظ اور نفاذ بھی سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔

Support Independent Media

Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.

Support Millat Times

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top