آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کے اس بیان پر سخت ردعمل دیا ہے کہ ’’اگر کوئی ہندو یہ سمجھتا ہے کہ بھارت میں کوئی مسلمان نہیں ہونا چاہیے تو وہ ہندو نہیں رہے گا۔‘‘
اسدالدین اویسی نے کہا کہ یہ آر ایس ایس کی ’’پرانی حکمتِ عملی‘‘ ہے، جس میں دنیا کے سامنے کچھ اور الفاظ کہے جاتے ہیں اور اپنی تنظیم کے کارکنوں کے سامنے کچھ اور ہی باتیں کہی جاتی ِ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس نے اپنے اہم نظریہ سازوں اور مصنفین سے کبھی لاتعلقی ظاہر نہیں کی، اس لیے یہ دیکھنا چاہیے کہ ان لوگوں نے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے بارے میں کیا لکھا۔
اویسی نے آر ایس ایس کے بانی کے۔ بی۔ ہیڈگوار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ابتدا میں انڈین نیشنل کانگریس سے وابستہ تھے، لیکن گاندھی کی قیادت میں برطانوی حکومت کے خلاف تمام مذہبی برادریوں کی مشترکہ جدوجہد کے مخالف تھے۔ اویسی نے آر ایس ایس کی شائع کردہ ہیڈگوار کی سوانح عمری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہیڈگوار کو ’’ہندو مسلم اتحاد‘‘ کے نعرے سے بھی اتفاق نہیں تھا۔
انہوں نے آر ایس ایس کے نظریہ ساز ایم۔ ایس۔ گولوالکر کے 1940 کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گولوالکر نے آر ایس ایس کو ’’ایک پرچم، ایک رہنما اور ایک نظریے‘‘ سے وابستہ قرار دیا تھا۔ اویسی نے اسے آر ایس ایس کے جمہوریت سے متعلق نظریے پر سوال اٹھانے کے لیے پیش کیا۔
اسدالدین اویسی نے گجرات 2002 کے فسادات کا حوالہ دیتے ہوئے آر ایس ایس پر تنقید کی اور کہا کہ اس دور میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ہندو مسلم فسادات کے دوران خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی، قتل، گھروں اور کاروباروں کی لوٹ مار اور پولیس کی خاموشی سے متعلق ایک رپورٹ کا حوالہ دیا۔
اویسی نے مزید کہا کہ گولوالکر کی کتاب ’بَنچ آف تھاٹس‘ میں ’’اندرونی خطرات‘‘ کے نام سے ایک پورا باب موجود ہے، جس میں بھارتی مسلمانوں اور عیسائیوں کو بالترتیب پہلے اور دوسرے ’’اندرونی خطرے‘‘ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق گولوالکر نے مسلمان شہریوں کے ساتھ مستقل شک کی نظر سے پیش آنے کی بات کی تھی۔
اویسی نے عیسائیوں کے بارے میں گولوالکر کے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عیسائی برادری پر ملک کے مذہبی اور سماجی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کا الزام عائد کیا تھا۔
اویسی نے موجودہ دور کی سیاست پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس کے نظریے کے تحت مسلمانوں کو یکساں سول کوڈ کے نام پر ہندو قانون کے دائرے میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ عیسائیوں کو سخت ’’تبدیلیِ مذہب مخالف‘‘ قوانین کے نام پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے مبینہ غلط استعمال کا بھی حوالہ دیا۔
آخر میں اسدالدین اویسی نے موہن بھاگوت سے کہا کہ وہ ساورکر، ہیڈگوار اور گولوالکر کی تحریروں سے اپنے پسندیدہ اقتباسات خود پڑھ کر سنائیں اور پھر عوام کو فیصلہ کرنے دیں کہ وہ آر ایس ایس کے بارے میں کیا رائے قائم کرتے ہیں۔
Support Independent Media
Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.
Support Millat Times