تین ماہ، 25 مسلم ہلاکتیں؛ 15 ریاستی کارروائیوں میں مارے گئے: رپورٹ

mt-staff

mt-staff

08 August 2026 (Publish: 09:50 AM IST)

جنوبی ایشیا جسٹس کمپین کے انڈیا پرسی کیوشن ٹریکر نے دعویٰ کیا ہے کہ مئی سے جولائی 2026 کے درمیان بھارت میں 25 مسلمان ہلاک ہوئے، جن میں 15 کی ہلاکت ریاستی اہلکاروں اور 10 کی ہلاکت ہندو انتہا پسند غیر ریاستی عناصر کے ہاتھوں ہوئی۔تنظیم کے مطابق 2026 کے پہلے سات ماہ میں مسلمانوں کی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 44 تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں 19 ہلاکتیں ریاستی اہلکاروں سے منسوب کی گئی ہیں، جبکہ 25 مسلمان ہندو انتہا پسند عناصر کے مذہبی بنیاد پر کیے گئے حملوں میں مارے گئے۔رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار 2026 کو 2022 میں ریکارڈ شروع کیے جانے کے بعد مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم کے اعتبار سے سب سے زیادہ ہلاکتوں والا سال بننے کی سمت اشارہ کرتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اتر پردیش، آسام، کشمیر اور اب مغربی بنگال سمیت مختلف علاقوں میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی کارروائیوں، گرفتاریوں، حراست، گھروں اور مذہبی مقامات کے انہدام اور سرحد پار دھکیلے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔

تین ماہ میں 23 مسلم مذہبی مقامات منہدم کیے گئے

انڈیا پرسی کیوشن ٹریکر کے مطابق دو ماہ سے بھی کم عرصے میں چھ ریاستوں میں کم از کم 23 مسلم مذہبی عمارتیں منہدم کی گئیں، جبکہ آٹھ ریاستوں میں کم از کم 21 انہدامی کارروائیوں کے دوران ایک ہزار سے زیادہ مسلم مکانات، کاروباری مقامات اور مذہبی عمارتیں مسمار کی گئیں۔رپورٹ کا دعویٰ ہے کہ 2026 میں اب تک ایسے منہدم کیے گئے مکانات، کاروباری مقامات اور مذہبی ڈھانچوں کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

کشمیر کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جولائی میں ایک عسکری حملے کے بعد 48 گھنٹوں کے اندر سکیورٹی فورسز نے 2,500 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا، جبکہ دو خاندانوں کے مکانات دھماکہ خیز مواد سے منہدم کیے گئے۔رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک گیر طلبہ احتجاج کے دوران کم از کم چھ ریاستوں میں پولیس نے مسلمانوں کو نسبتاً زیادہ نشانہ بناتے ہوئے گرفتاریاں کیں۔

مغربی بنگال میں مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں کا دعویٰ

رپورٹ میں مغربی بنگال میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد مسلمانوں کے خلاف تشدد اور سرکاری اقدامات کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق حکومت بننے کے بعد مساجد، مسلم ملکیت والی دکانوں اور خوانچہ فروشوں کی بستیوں کو نشانہ بنایا گیا اور کم از کم دورپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریاستی حکومت نے مسلم اقلیت سے متعلق امور کے بجٹ میں 62 فیصد کمی کی، ریزرویشن فہرست میں تبدیلیاں کیں اور مویشی ذبح کرنے سے متعلق پابندیوں میں اضافہ کیا۔ افراد ہلاک ہوئے۔رپورٹ کے مطابق پولیس کو مبینہ ’دراندازوں‘ کو عدالت میں پیش کیے بغیر سرحدی فورسز کے حوالے کرنے کی ہدایت بھی دی گئی، جبکہ حکومت نے پہلے مہینے میں 4,800 ’جلاوطنیوں‘ کا دعویٰ کیا۔

آسام میں ’پش بیک‘ کارروائیوں پر بھی تشویش

رپورٹ میں آسام میں بنگالی زبان بولنے والے مسلمانوں کو ملک سے باہر دھکیلے جانے کے واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں آسام کے وزیر اعلیٰ کے اس دعوے کا حوالہ دیا گیا ہے کہ دو برس کے دوران 1,679 افراد کو واپس بھیجا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں نے ’درانداز‘ جیسے الفاظ کے استعمال پر تشویش ظاہر کی اور خبردار کیا کہ اس طرح کی زبان بھارتی مسلم شہریوں کو غیر ملکیوں کے ساتھ خلط ملط کرنے اور امتیازی سلوک کو ہوا دینے کا باعث بن سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2026 میں مسلمانوں کے خلاف دباؤ کے کئی پہلو

انڈیا پرسی کیوشن ٹریکر نے مسلمانوں کے خلاف گرفتاریوں، مذہبی آزادی پر پابندیوں، مذہبی مقامات کے انہدام، ہجرت پر مجبور کیے جانے اور نفرت انگیز تقاریر سمیت متعدد معاملات کو اپنی رپورٹ میں شامل کیا ہے۔تاہم خود South Asia Justice Campaign واضح کرتی ہے کہ اس کا پرسی کیوشن ٹریکر مکمل فہرست نہیں ہے؛ یہ میڈیا، سول سوسائٹی، متاثرین، گواہوں، مقامی صحافیوں، وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنوں سے حاصل شدہ اور اندرونی طور پر جانچ پڑتال کیے گئے مواد کی بنیاد پر واقعات اور رجحانات ریکارڈ کرتا ہے۔

Support Independent Media

Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.

Support Millat Times

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top