سہارنپور مسجد انہدام پر سیاست گرم، اکھلیش یادو نے 22 رکنی وفد روانہ کرنے کا فیصلہ کیا

سہارنپور مسجد انہدام پر سیاست گرم، اکھلیش یادو نے 22 رکنی وفد 7 ستمبر کو روانہ کرنے کا فیصلہ کیا
mt-staff

mt-staff

06 September 2026 (Publish: 11:41 AM IST)

سہارنپور میں کلکٹریٹ احاطے میں واقع 119 سال پرانی مسجد کے انہدام کے معاملے پر اتر پردیش کی سیاست گرم ہوگئی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں مسجد منہدم کیے جانے پر یوگی حکومت اور انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کی ہدایت پر پارٹی کا 22 رکنی وفد پیر، 7 ستمبر کو سہارنپور جائے گا۔

پارٹی کے مطابق وفد کمشنر سے ملاقات کرکے مسجد انہدام کے پورے معاملے کی معلومات حاصل کرے گا اور اس کی رپورٹ ریاستی دفتر کو سونپے گا۔ سماج وادی پارٹی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ وفد پہلے 6 ستمبر کو سہارنپور جانے والا تھا، تاہم پروگرام میں تبدیلی کے بعد اب یہ دورہ 7 ستمبر کو ہوگا۔22 رکنی وفد میں کیرانہ کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن، رکن پارلیمنٹ ہریندر ملک، ایس پی کے قومی جنرل سکریٹری چودھری رودرسین، سابق رکن پارلیمنٹ حاجی فضل الرحمن، رکن اسمبلی اتل پردھان، رکن اسمبلی آشو ملک اور رکن اسمبلی عمر علی سمیت کئی پارٹی رہنما شامل ہوں گے۔

مسجد انہدام کے معاملے پر سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن نے بھی سخت اعتراض ظاہر کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس معاملے میں کوئی مہلت نہیں دی گئی، جبکہ دہشت گردوں کو مہلت دی جا رہی ہے۔ اقرا حسن نے یہ بھی کہا تھا کہ سہارنپور کی مسجد پر پلیس آف ورشپس ایکٹ لاگو ہوتا ہے اور یہ مسجد 1947 سے پہلے کی بنی ہوئی ہے۔میڈیا سے گفتگو میں اقرا حسن نے الزام عائد کیا تھا کہ تمام لوگوں کو نظرانداز کرتے ہوئے وہاں بلڈوزر کی کارروائی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کا گلا گھونٹا جا رہا ہے اور قانون و ضابطے کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ وہ اس معاملے کو لے کر عدالت جائیں گی۔ اقرا حسن کے مطابق اگر تمام فیصلے حکومت کی من مانی سے کیے جائیں گے تو قانون کی حکمرانی اور عدالتی نظام کی ضرورت ہی نہیں رہ جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق سٹی مجسٹریٹ نے گزشتہ ماہ مسجد کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کے انہدام کا حکم دیا تھا۔ اس حکم کے خلاف مسلم فریق نے ضلع و سیشن عدالت سے رجوع کیا تھا، جس نے ابتدا میں سٹی مجسٹریٹ کے حکم پر روک لگا دی تھی۔تاہم جمعہ کے روز مسلم فریق کی جانب سے کیا گیا دعویٰ مسترد کر دیا گیا، جس کے بعد انتظامیہ نے مسجد کے خلاف کارروائی کی۔ مسجد کے انہدام کے بعد علاقے میں کشیدگی اور ہنگامے کی صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے۔

Support Independent Media

Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.

Support Millat Times

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top