بے روزگاری صرف اعداد کا مسئلہ نہیں، نوجوانوں کے مستقبل کا سوال ہے

بے روزگاری صرف اعداد کا مسئلہ نہیں، نوجوانوں کے مستقبل کا سوال ہے
mt-staff

mt-staff

30 August 2026 (Publish: 12:34 PM IST)

ملک میں بڑھتی بے روزگاری، روزگار کے محدود مواقع اور اس کے حل و مطالبات کے موضوع پر ینگ ڈیموکریٹس کے زیر اہتمام ایک قومی سیمینار کا انعقاد کانسٹیوشن کلب آف انڈیا، نئی دہلی میں کیا گیا۔ سیمینار میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات، ماہرینِ معاشیات، سماجی کارکنان، صحافیوں اور نوجوان نمائندوں نے شرکت کی۔
پروگرام کا آغاز ینگ ڈیموکریٹس کی نیشنل آرگنائزنگ کمیٹی کی رکن ثمینہ کوثر کے استقبالیہ کلمات سے ہوا۔ اس کے بعد نیشنل آرگنائزنگ کمیٹی کے جوائنٹ کنوینر ایڈووکیٹ رینو سنگھ نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے بے روزگاری کو ملک کے نوجوانوں کے مستقبل سے جڑا ایک اہم مسئلہ قرار دیا۔
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے نائب قومی صدر محمد شفیع نے صدارتی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ بے روزگاری کو محض سرکاری اعداد و شمار کی نظر سے دیکھنے کے بجائے اس کی زمینی حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو باعزت روزگار اور بہتر مستقبل فراہم کرنا ملک کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
سیمینار میں ماہرِ معاشیات ڈاکٹر خالد خان، سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے قومی ورکنگ کمیٹی کے رکن ڈاکٹر محبوب شریف، مس شاداب قمر ریٹائرڈ سرکاری پرنسپل، شمس تبریز قاسمی بانی و چیف ایڈیٹر ملت ٹائمز، ڈاکٹر روشن محی الدین، قومی سکریٹری ایس آئی او، اور اجمل اسماعیل، قومی انچارج ینگ ڈیموکریٹس نے بطور مہمان شرکت کی اور بے روزگاری کے مختلف پہلوؤں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
مقررین نے کہا کہ ملک میں بے روزگاری کو صرف ایک فیصد یا کسی رپورٹ کے ذریعے نہیں سمجھا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ محدود سرکاری آسامیوں کے لیے لاکھوں نوجوان درخواستیں دیتے ہیں۔ بڑی تعداد میں نوجوان روزگار کی تلاش میں اپنے گھر، شہر اور ریاست چھوڑ کر دوسرے علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ یہ صورت حال ملک کے معاشی نظام اور روزگار کی پالیسی پر سنجیدہ سوال کھڑے کرتی ہے۔
مقررین نے تعلیم اور روزگار کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے، نوجوانوں کے لیے مناسب مواقع کی کمی، ہنر کی تعلیم، چھوٹی صنعتوں کے فروغ اور مقامی سطح پر روزگار پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
سیمینار کے اہم حصے میں ینگ ڈیموکریٹس کے قومی جوائنٹ کنوینر ایڈووکیٹ طاہر نے بے روزگاری کے حل اور مطالبات کے موضوع پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو صرف وعدوں اور اعداد و شمار کی ضرورت نہیں بلکہ ایسے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے جن سے باعزت اور مستقل روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔
پروگرام کی نظامت معراج خالد اور صفیہ نے مشترکہ طور پر انجام دی۔ دونوں نے مختلف مقررین کو مدعو کرنے کے ساتھ پوری نشست کو خوش اسلوبی سے آگے بڑھایا۔
آخر میں عابدہ رشید نے اظہارِ تشکر کیا اور تمام مہمانوں، مقررین، منتظمین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
سیمینار کا مجموعی پیغام یہی تھا کہ بے روزگاری کو محض ایک سرکاری عدد سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ملک کے نوجوانوں کے مستقبل، خاندانوں کی خوشحالی اور مجموعی معاشی ترقی سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔
نوجوانوں کو صرف روزگار کے وعدے نہیں بلکہ تعلیم، ہنر، مواقع اور باعزت روزگار چاہیے۔ اسی سمت میں سنجیدہ پالیسی اور عملی اقدامات وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہیں۔

Support Independent Media

Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.

Support Millat Times

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top