سمیع اللہ خان
مفکراسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ نے وندے ماترم کی مخالفت میں یہ تاریخ ساز ایمان افروز کلمات کوئی اپنی جوانی میں نہیں کہے تھے بلکہ اس مشرکانہ گیت کےخلاف انہوں نے یہ مزاحمتی کلمات اپنی زندگی کے اس پڑاو پر کہے تھے جب وہ پوری طرح اللہ اللہ اور محمد الرسول اللہﷺ کے عشق میں پک چکے تھے، جب چہار دانگ عالم نے انہیں اہل حق مشائخ و اہل اللہ کا اس دور میں رہنما تسلیم کرلیا تھا، تو کیا آج ان کا نام لینے والے اس مشرکانہ گیت کو مسلط کیے جانے کی سنگینی نہیں سمجھ رہے یا وہ بالارادہ منہ موڑ رہےہیں بخدا یہ بڑی منحوس بات ہوگی !
وندے ماترم اور سرسوتی وندنا کی مخالفت میں حضرت مولانا رحمہ اللہ نے مزید سخت مزاحمتی انداز میں فاشسٹ ہندوتوادی حکومت کو واضح الفاظ میں خبردار کیا تھا کہ ” اگر اسکولوں میں مشرکانہ گیت کے اس حکم کو واپس نہ لیا گیا تو مسلمان اپنے بچوں کو درسگاہوں اور اسکولوں سے نکال لیں گے “
کیا قائدینِ ملت اسلامیہ ہندیہ کو خبر نہیں کہ اس ملک میں اب ” وندے ماترم ” نامی مشرکانہ گیت کو باضابطہ تھوپا جاچکا ہے پارلیمنٹ میں وندے ماترم کی بے احترامی کا قانون پاس ہوگیا ہے یہ دیگر الفاظ میں اب وندے ماترم کو قانونی درجہ دیتا ہے اب اس نام پر بڑے پیمانے پر قانونی کارروائیاں ہوں گی اور نشانہ مسلمان ہوں گے، جو اس کو نہیں پڑھے گا اسے بھی اس مشرکانہ گیت کی بے احترامی کا مجرم قرار دیا جاسکتا ہے،
مثال کے طور پر سمجھیے، یعنی یہ جو تحریر میں لکھ رہا ہوں اسے بھی اس قانون کی رو سے مجرمانہ عمل قرار دیا جاسکتا ہے یہ معاملہ ہوا ہے، ہم شرک کو شرک نہیں کہہ سکتے شرک کی مخالفت نہیں کرسکتے یہ خطرہ بھی اب ہند میں پھٹ پڑا ہے، لیکن کیا اب زبان و قلم سے بھی آئینی و جمہوری دائروں میں اپنی آواز بلند نہ کریں؟ اپنے ایمانی نظریات کا اظہار نہ کریں ؟ وہ بھی ایسے شرک کو پورے ملک پر تھوپے جانے کےخلاف بھی خاموش رہیں تو پھر ہمارا زندہ رہنا کس فائدے کا؟ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو اس کا یہی مطلب کہ ہمارے دل کے ایمان کی موت واقع ہوچکی ہے اور جوکچھ ظاہر میں ہے وہ بس چند رسومات!!!
یہ معاملہ کوئی جذباتی بیانیے سے جڑا ہوا نہیں ہے بلکہ یہ ایسا سنگین اور نازک معاملہ ہے مسلمانوں کے لیے کہ غالباً 1998 میں جب اتر پردیش کے اسکولوں میں اس گیت کو زبردستی تھوپا جارہا تھا تب اس وقت مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی میاں ندوی رحمہ اللہ نے اس کے خلاف ایسی شدید مزاحمت کی تھی کہ فاشسٹ ہندوتوادی حکومت نے حضرت مولانا علیہ الرحمہ کے گھر پر اور ندوے پر چھاپہ مارا تھا، حضرت مولانا اس وقت اپنی زندگی کے آخری پڑاؤ پر تھے اور تب ان کی پوری زندگی اللہ اللہ اور محمد الرسول اللہ کے رنگ میں پک چکی تھی، تب انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا اور دوٹوک جواب دیا تھا کہ مسلمان اس گیت کو گانے کے مقابلے میں موت کو ترجیح دیں گے، چنانچہ اس مردِ باخدا کے اس ایک ایمان افروز اقدامی بیانیے اور ایمانی حرارت و توحیدی جرات سے یہ مشرکانہ آفت مسلمانوں پر سے ٹلی تھی، اگر یہ معاملہ ادنیٰ سی بھی نظر اندازی کے قابل بھی ہوتا تو مفکر اسلام کبھی ایسی مزاحمت نہ کرتے،
پتا نہیں آج ان کے نام لیوا اور ان کی جانشینی کا دم بھرنے والے ایسی گھٹا ٹوپ تحریفات اور مادیت کے عہد میں اس گیت کو مسلط کرنے کے خلاف کیا مزاحمت کرتے ہیں؟
یقیناً اس گیت کا نفاذ مسلمانوں کے عقائد و ایمانیات کی روح کو سبوتاژ کرنے والا ہے لیکن صد افسوس کہ قائدین ملت اسلامیہ ہندیہ اہل ایمان کی روح پر شب خون کی سنگینی بھی محسوس کرتے دکھائی نہیں دے رہےہیں ایمانی غیرت و توحیدی حرارت کی کوئی رمق اب تک اتنے بڑے سانحہ پر نظر نہیں آئی , اب تک مسلمانوں کی جان و مال اور حرمت و شعائر کا مسئلہ درپیش تھا اب تو ایمانی وجود پر سوالیہ نشان ہے؟ آئینی و جمہوری مزاحمت کی کال دینے کے لیے آخر مسلمانوں کی قیادت کس گھڑی کی منتظر ہے؟ جب ملت کے کچے اذہان شرک میں مبتلا ہوجائیں گے شرک و توحید کو صرف زبانی تلفظ سمجھ بیٹھیں گے تب بہت دیر ہوجائے گی اور اس غفلت و مصلحت کی کوئی معافی تاریخ میں نہیں ہوگی !
مسلمان ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے جتنی دیر میں اٹھیں گے اتنے زیادہ مسائل کا انبار لگےگا اتنی ہی زیادہ قربانیاں دینی پڑیں گی !
اللھم ثبت اقدامنا وانصرنا علی القوم الکافرین
Support Independent Media
Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.
Support Millat Times