133 ملکوں کے 334 حفاظ و قراء- پہلی بار خواتین کی الگ شرکت اور ایک کروڑ ریال سے زائد کے انعامات- سب سے بڑا انعام سعودی حافظ کے نام
کعبہ مشرفہ کے سایہ تلے مسجد الحرام کے مبارک ماحول میں ایک عظیم الشان عالمی قرآنی مقابلہ منعقد ہوا۔ دنیا کے مختلف خطوں، زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں نوجوان اور خواتین حافظات ایک ہی کتاب کے گرد جمع ہوئے اور حفظ، تلاوت، تجوید اور قرآنی علوم میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ یہ 46واں شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی حفظ، تلاوت و تفسیرِ قرآن مقابلہ تھا، جو 2026ء میں سعودی وزارتِ اسلامی امور، دعوت و ارشاد کے زیر اہتمام مسجد الحرام، مکہ مکرمہ میں منعقد ہوا۔ اس سال مقابلے نے شرکت کے اعتبار سے نیا ریکارڈ قائم کیا۔ 133 ممالک کے 334 متسابقین و متسابقات نے اس عالمی مقابلے میں حصہ لیا۔ حتمی مقابلے مسجد الحرام میں چھ روز تک جاری رہنے کے بعد مکمل ہوئے، جبکہ کل 20 اگست کو وزارتِ اسلامی امور نے کامیاب امیدواروں کے نام باقاعدہ منظور کر دیئے۔
اس بین الاقوامی قرآنی مقابلے میں اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ 6 روزہ حتمی مقابلوں کے بعد فاتحین کے نام 20 اگست کو منظور کیے گئے۔ سعودی عرب کے عبدالرحمن بن مختار بن احمد محمد اور الجزائر کی جمانہ شرايطیہ نے اپنے اپنے پہلے شعبے میں 5، 5 لاکھ ریال کے سب سے بڑے انعامات حاصل کیے، جبکہ بنگلہ دیش سمیت متعدد ممالک کے حفاظ و حافظات نے بھی نمایاں پوزیشنیں حاصل کیں۔
اس سال کا مقابلہ ایک اور اعتبار سے بھی تاریخی تھا کہ خواتین کو پہلی مرتبہ باقاعدہ الگ شعبوں میں عالمی سطح پر شرکت کا موقع ملا۔ یوں 46واں مقابلہ نہ صرف شرکاء کی تعداد بلکہ خواتین کی شرکت کے حوالے سے بھی ایک نئے باب کا آغاز بن گیا۔
پانچ شعبوں میں مقابلہ
مقابلے میں قرآن کریم کے حفظ، تلاوت اور تجوید کی مختلف سطحوں کو جانچنے کے لیے پانچ شعبے رکھے گئے تھے۔ پہلے شعبے میں مکمل قرآن کریم حفظ کرنے کے ساتھ سات متواتر قراءتوں کے مطابق شاطبیہ کی روایت و درایت، حسنِ ادائیگی اور تجوید کو جانچا گیا۔
دوسرے شعبے میں مکمل قرآن کے حفظ کے ساتھ حسنِ ادائیگی، تجوید اور قرآن کریم کے مفردات کی تفسیر شامل تھی۔ تیسرے شعبے میں مکمل قرآن کے حفظ اور درست تلاوت و تجوید کو معیار بنایا گیا، جبکہ چوتھے اور پانچویں شعبوں میں بالترتیب مسلسل 15 اور 5 پاروں کے حفظ اور تلاوت کا امتحان لیا گیا۔
اس طرح یہ مقابلہ صرف حافظے کی آزمائش نہیں تھا بلکہ قرآن کریم کو درست مخارج، تجوید اور حسنِ ادائیگی کے ساتھ پڑھنے کی صلاحیت بھی اس کا بنیادی حصہ تھی۔
سعودی حافظ نے پانچ لاکھ ریال جیت لیے
مردوں کے پہلے اور سب سے اعلیٰ شعبے میں سعودی عرب کے عبدالرحمن بن مختار بن احمد محمد نے پہلی پوزیشن حاصل کی اور 5 لاکھ سعودی ریال کا انعام اپنے نام کیا۔ شام کے عبدالكریم رجب آغا دوسرے نمبر پر رہے اور انہیں 4 لاکھ 50 ہزار ریال ملے، جبکہ کرغیزستان کے قاصییف رسول تالانت بیگوویچ نے تیسری پوزیشن حاصل کرکے 4 لاکھ ریال جیتے۔ سعودی عرب کے عبداللہ بن احمد بن عبدالرزاق المطوع چوتھے نمبر پر رہے اور انہیں 3 لاکھ 50 ہزار ریال، جبکہ کیمرون کے عمر فاروق نے پانچویں پوزیشن حاصل کرکے 3 لاکھ 25 ہزار ریال حاصل کیے۔ یوں پہلے شعبے کے صرف پانچ نمایاں فاتحین میں 18 لاکھ 25 ہزار ریال تقسیم ہوئے۔
دوسرے شعبے میں بھی سعودی عرب کا نوجوان نمایاں رہا۔ عمر بن عبداللہ بن حمد الصبیح نے پہلی پوزیشن حاصل کی اور 3 لاکھ ریال جیتے۔ الجزائر کے فتال زکریا دوسرے، بحرین کے بدر سائد حامد یوسف مشعل تیسرے، سعودی عرب کے احمد بن حامد بن راشد السہلی چوتھے اور نائجیریا کے محمد مرافا عبداللہ پانچویں نمبر پر رہے۔
تیسرے شعبے میں لیبیا کے ناجی عطیہ ناجی بن سلیمان نے پہلی پوزیشن حاصل کرکے 2 لاکھ ریال جیتے، جبکہ تیونس کے محمد الہادی الغربی دوسرے نمبر پر رہے۔ اس شعبے میں بنگلہ دیش کے شیخ محمد محمود الحسن نے تیسری پوزیشن حاصل کی اور 1 لاکھ 80 ہزار سعودی ریال کا انعام جیتا۔ برطانیہ کے عبید حسین چوتھے اور انڈونیشیا کے محمد حسبي الصدیق پانچویں نمبر پر رہے۔
چوتھے شعبے میں بنگلہ دیش کے محمد زکریا نے پہلی پوزیشن حاصل کی اور 1 لاکھ 50 ہزار ریال کا انعام اپنے نام کیا، جبکہ پانچویں شعبے میں میانمار کے ثریا ناؤنگ پہلے نمبر پر رہے اور انہیں 65 ہزار ریال ملے۔
یہ نتائج ایک بار پھر اس حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ بنگلہ دیش سمیت جنوبی ایشیا کے حفاظ عالمی سطح کے قرآنی مقابلوں میں مسلسل نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں۔
خواتین کے لیے تاریخی شرکت
46ویں مقابلے کی سب سے اہم خصوصیات میں سے ایک خواتین کی پہلی باقاعدہ عالمی شرکت تھی۔ خواتین کے لیے بھی الگ شعبے رکھے گئے اور دنیا کے مختلف ممالک سے حافظات نے اس میں حصہ لیا۔ خواتین کے پہلے شعبے میں الجزائر کی جمانہ شرايطیہ نے پہلی پوزیشن حاصل کرکے 5 لاکھ ریال جیتے۔ سعودی عرب کی رغد بنت حسین بن علی آل فرحان دوسری اور سعودی عرب ہی کی ہبہ بنت ماجد بن رشدی الصفدی تیسری پوزیشن پر رہیں۔ مصر کی ایمان جمال فاروق حسن چوتھے اور شام کی صبیحہ برغوث پانچویں نمبر پر رہیں۔
دوسرے شعبے میں نائجیریا کی مریم طن أزمی ابراہیم نے پہلی پوزیشن حاصل کی اور 3 لاکھ ریال جیتے۔ تیسرے شعبے میں الجزائر کی صفاء ایمان بن یحییٰ پہلے نمبر پر رہیں، جبکہ بنگلہ دیش کی مسفرہ بنت محمود نے تیسری پوزیشن حاصل کرکے 1 لاکھ 80 ہزار ریال جیتے۔ چوتھے شعبے میں میانمار کی ثین جی مون نے پہلی پوزیشن حاصل کی، فلسطین کی ربا شاہر یوسف یونس دوسری اور بنگلہ دیش کی رابطہ بنت رمضان تیسری پوزیشن پر رہیں۔ رابطہ بنت رمضان کو 1 لاکھ 30 ہزار ریال کا انعام ملا۔
یوں بنگلہ دیش کے مرد اور خواتین دونوں شرکاء نے اس سال کے عالمی مقابلے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔
ایک کروڑ ریال سے زائد کے انعامات
46ویں مقابلے کی مجموعی انعامی رقم ایک کروڑ ریال سے زیادہ رہی، جو اس مقابلے کی تاریخ کی بلند ترین انعامی سطحوں میں شامل ہے۔ کامیاب امیدواروں کی تعداد بھی بڑھائی گئی، جس کے نتیجے میں متعدد شعبوں میں پانچ پانچ نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والوں کو انعامات دیے گئے۔ یہ انعامات محض مالی اعزاز نہیں بلکہ قرآن کریم کے حفظ، تلاوت اور تجوید میں غیر معمولی محنت کرنے والے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ ہیں۔
مکہ سے مدینہ تک قرآنی سفر
مقابلے کے حتمی مراحل مکمل ہونے کے بعد شرکاء کو مدینہ منورہ پہنچایا گیا، جہاں انہیں مسجد نبویؐ میں حاضری اور نماز کی سعادت حاصل ہوئی۔ انہیں مجمع الملک فہد لطباعة المصحف الشريف کا دورہ بھی کرایا گیا، جہاں قرآن کریم کی طباعت، نظرثانی اور دنیا کے مختلف ممالک تک اس کی ترسیل کے مراحل سے انہیں آگاہ کیا گیا۔ یوں بہت سے شرکاء کے لیے یہ سفر صرف ایک مقابلہ نہیں بلکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حاضری، قرآن کی تلاوت اور قرآنی خدمت کے مراکز دیکھنے پر مشتمل ایک یادگار روحانی تجربہ بھی بن گیا۔
قرآن، جو دنیا کو جوڑتا ہے
46ویں شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی قرآن مقابلے کی سب سے خوب صورت تصویر شاید اس کے اعداد نہیں بلکہ وہ منظر ہے جس میں 133 ممالک سے آنے والے 334 حفاظ و حافظات ایک ہی قرآن کی آیات پڑھتے نظر آتے ہیں۔ ان کی زبانیں مختلف ہیں، ان کے وطن مختلف ہیں، ان کے معاشرتی پس منظر الگ ہیں، لیکن قرآن کریم سب کے لیے ایک ہے۔ یہ عالمی مقابلہ اسی حقیقت کی عملی تصویر پیش کرتا ہے کہ قرآن آج بھی دنیا کے مختلف خطوں کے مسلمانوں کو ایک مضبوط روحانی رشتے میں جوڑتا ہے۔
Support Independent Media
Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.
Support Millat Times