عالمِ اسلام کے لیے مکہ معاہدے کی اہمیت اور ضرورت

عالمِ اسلام کے لیے مکہ معاہدے کی اہمیت اور ضرورت
mt-staff

mt-staff

03 October 2026 (Publish: 08:41 AM IST)

شمس تبریز قاسمی

عالمِ اسلام اور مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر افراتفری، جنگ اور لڑائی کی لپیٹ میں ہیں۔ اس دوران مکہ دفاعی معاہدے، اس کی اہمیت اور اس کی کامیابی یا ناکامی پر سب کی نظریں ہیں۔

سات اگست کو سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے سربراہان نے مکہ میں ملاقات کی اور مکہ دفاعی معاہدے کا اعلان کیا۔ اس میں کہا گیا کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا اور ایسی صورت میں تینوں مل کر اس کا مقابلہ کریں گے۔

اس معاہدے کے تقریباً ایک ماہ بعد یمن میں حوثیوں اور صدارتی کونسل کی افواج کے درمیان دوبارہ لڑائی شروع ہوگئی۔ حوثیوں نے صدارتی کونسل کے زیرِ انتظام علاقوں پر حملے کیے اور یمنی فوج نے ان کا جواب دیا۔ اسی دوران حوثیوں نے سعودی عرب پر بھی مسلسل حملے کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب یمنی فوج کی حمایت کر رہا ہے، اس لیے انہوں نے براہِ راست سعودی عرب کو نشانہ بنایا۔

حوثیوں نے ان حملوں کے ذریعے سعودی معیشت کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ پہلے انہوں نے مخا بندرگاہ پر کنٹرول حاصل کرکے اعلان کیا کہ سعودی عرب کے کسی جہاز کو بحیرۂ احمر میں باب المندب سے گزرنے نہیں دیا جائے گا۔ اس کے بعد انہوں نے سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو نشانہ بنایا۔ سعودی عرب کو چند روز کے لیے پائپ لائن بند کرنا پڑی، جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں۔

حوثیوں نے مکہ مکرمہ پر بھی حملہ کیا، جسے سعودی فضائی دفاع نے ناکام بنا دیا۔ تبوک پر حملے میں دو شہریوں کی ہلاکت کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں نے حوثیوں کی مذمت کی۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ مسلمانوں کے مقدس مقامات ہیں؛ ان کے آس پاس کسی میزائل کا گرنا بھی دنیا کا کوئی مسلمان برداشت نہیں کرے گا۔ ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثیوں کا حملہ سب سے زیادہ سرخیوں میں رہا، جس کے بعد دنیا بھر سے سعودی عرب کے لیے ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔

اب خبریں سامنے آرہی ہیں کہ پاکستان اور ترکی کے فوجی سربراہان نے سعودی عرب میں ملاقات کا فیصلہ کیا ہے، جہاں وہ مکہ معاہدے پر عملی اقدامات کے بارے میں بات کریں گے۔ ایک طرف معاہدے میں شامل ممالک اس کی اہمیت بیان کر رہے ہیں اور آپس میں مشاورت کر رہے ہیں، دوسری طرف تجزیہ کار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد کیا پاکستان اور ترکی بھی سعودی عرب کے ساتھ مل کر حوثیوں کے خلاف کارروائی کریں گے؟

میرے خیال میں یہ دونوں ممالک براہِ راست حملہ نہیں کریں گے۔ پاکستان کے سعودی عرب سے اچھے تعلقات ہیں، لیکن ایران کے ساتھ بھی اس کے تعلقات اچھے ہیں۔ ایران اور امریکہ کی جنگ میں پاکستان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اگر پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مل کر حوثیوں پر حملہ کرتا ہے تو یقیناً ایران اور پاکستان کے تعلقات متاثر ہوں گے، اور ایران پاکستان کو ایسا کرنے سے روکنے کی کوشش کرے گا۔

ترکی کے بھی ایران سے اچھے تعلقات ہیں۔ مشکل وقت میں ایران کی حمایت کرنے والے ممالک میں ترکی سرفہرست رہا ہے۔ تاہم بعض تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ پاکستان اور ترکی براہِ راست کارروائی نہ بھی کریں تو بالواسطہ طور پر سعودی عرب کی مدد کرسکتے ہیں۔ سعودی عرب کے بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ فی الحال حوثیوں سے لڑنے کے لیے سعودی عرب کو کسی بیرونی فوجی مدد کی ضرورت نہیں۔

حوثیوں کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے چند روز پہلے ایک ویڈیو پیغام میں پاکستان اور ترکی سے اپیل کی تھی کہ وہ سعودی عرب کا ساتھ نہ دیں اور اس جنگ میں شریک نہ ہوں۔ انہوں نے مکہ پر حملے کی خبر کو جھوٹا قرار دیا، جبکہ بین الاقوامی میڈیا نے اس حملے کی خبر کی تصدیق کی ہے۔ اس سے پہلے، 2017 میں بھی حوثیوں نے مکہ کی سمت ایک میزائل داغا تھا۔

حوثیوں نے واضح اعلان کر رکھا ہے کہ ان کی اصل لڑائی سعودی عرب سے ہے۔ چند روز پہلے عمان کے شہر صلالہ میں حوثی اور امریکی وفود کی ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں حوثیوں نے امریکہ کو یقین دہانی کرائی کہ امریکی اور اسرائیلی جہازوں کو بحیرۂ احمر سے گزرنے دیا جائے گا اور ان پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔ حوثیوں نے یورپی یونین کو بھی خط لکھ کر اس کے جہازوں کے بارے میں ایسی ہی یقین دہانی کرائی ہے۔ ان کے مطابق، ان کے نشانے پر صرف سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے جہاز ہوں گے۔

حوثیوں کو امریکہ، یورپی یونین اور دوسرے ممالک کو بار بار تحریری یقین دہانیاں اس لیے دینی پڑ رہی ہیں کہ سعودی عرب کے ساتھ دنیا کے کئی ممالک کھڑے ہیں۔ فرانس اور برطانیہ سمیت متعدد یورپی ممالک نے سعودی عرب کے لیے عسکری امداد بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

ان دنوں سعودی عرب کو اپنا تیل اور دوسرا سامان دنیا تک پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ سعودی عرب کے ایک طرف خلیجِ عرب ہے، جسے خلیجِ فارس بھی کہا جاتا ہے، اور دوسری طرف بحیرۂ احمر ہے۔ تیل پیدا کرنے والے زیادہ تر علاقے مشرقی صوبے میں ہیں، جو خلیجِ فارس سے متصل ہے۔ سعودی عرب کے بیشتر آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرتے رہے ہیں، لیکن امریکہ اور ایران کی جنگ کے باعث یہ راستہ بند ہے۔

شاید سعودی عرب کو پہلے ہی اندازہ تھا کہ ایران کبھی آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا کرسکتا ہے۔ اسی لیے تقریباً پچاس سال پہلے اس نے مشرقی علاقوں سے بحیرۂ احمر تک تیل پہنچانے کے لیے تقریباً 1,200 کلومیٹر لمبی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کا منصوبہ بنایا۔ جب آبنائے ہرمز بند ہوئی تو سعودی عرب نے اس پائپ لائن کے ذریعے تیل مغربی ساحل کی بندرگاہ تک پہنچایا اور وہاں سے جہازوں کے ذریعے دنیا بھر کو بھیجنا شروع کیا۔

لیکن بحیرۂ احمر سے بحرِ ہند کی طرف جانے والے جہازوں کو باب المندب سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک تنگ سمندری گزرگاہ ہے، جہاں حوثیوں کی کارروائیوں نے سعودی جہازوں کے لیے مشکلات پیدا کردی ہیں۔ یوں سعودی عرب کے لیے آبنائے ہرمز اور باب المندب، دونوں راستوں سے تیل بھیجنا مشکل ہوگیا۔

سعودی عرب کے پاس ایک اور راستہ یہ ہے کہ وہ نہرِ سوئز کے ذریعے اپنے جہاز بحیرۂ روم میں لے جائے اور وہاں سے طویل راستہ اختیار کرکے ایشیا اور دوسرے خطوں تک تیل پہنچائے۔ سعودی عرب دنیا کو تیل فراہم کرنے والے سب سے بڑے ممالک میں شامل ہے اور اس کی ایک بڑی منڈی ایشیا ہے۔ بھارت، چین، پاکستان اور سری لنکا سمیت کئی ممالک سعودی تیل خریدتے ہیں۔ اگر سعودی عرب سے تیل کی ترسیل رُکتی ہے تو ان ممالک کی معیشت اور مہنگائی پر بھی اس کا اثر پڑے گا۔

اسی وجہ سے سعودی عرب نے بحیرۂ روم کے راستے تیل پہنچانے کا فیصلہ کیا، لیکن پائپ لائن پر حملے کے بعد اسے چند روز کے لیے ترسیل روکنی پڑی۔ اب خبریں ہیں کہ پائپ لائن کی مرمت ہوگئی ہے اور اس کے ذریعے تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہوچکی ہے۔

سعودی عرب کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس تیل کے بڑے ذخائر موجود ہیں اور وہ طویل عرصے تک عالمی منڈی کو تیل فراہم کرسکتا ہے۔

بہرحال، سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کا مشترکہ دفاعی معاہدہ اس وقت عالمِ اسلام کی ایک اہم ضرورت ہے، کیونکہ سعودی عرب کو اس خطے میں اسرائیل اور ایران، دونوں سے خطرات لاحق ہیں۔

اسرائیل کے حوالے سے مذہبی اور سیاسی خدشات بھی پائے جاتے ہیں۔ گریٹر اسرائیل کے جن نقشوں کا ذکر کیا جاتا ہے، ان میں سعودی عرب کا ایک بڑا علاقہ بھی دکھایا جاتا ہے۔ ماضی میں بھی مدینہ منورہ کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کی بات سامنے آتی رہی ہے۔ اس پس منظر میں مکہ اور مدینہ کے تحفظ کا سوال مسلمانوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔

دوسری طرف ایران یمن کے حوثیوں کی حمایت کر رہا ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ سعودی عرب کی سرحد سے متصل یمن میں اگر ایران کی مرضی کی حکومت قائم ہوتی ہے تو سعودی عرب کے اندر مداخلت کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ ایران کے بعض مذہبی حلقوں کی طرف سے مکہ اور مدینہ کے انتظام پر بھی بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔ سعودی عرب کی مخالفت ان حلقوں کے بیانیے کا ایک نمایاں حصہ ہے۔

اسی دوران سعودی عرب نے اپنی پالیسی میں فلسطین کی حمایت کو زیادہ اہمیت دی ہے۔ غزہ کے مظلوم عوام کے لیے سعودی عرب کی جانب سے مسلسل مالی امداد بھیجی جا رہی ہے۔

Support Independent Media

Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.

Support Millat Times

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top