اقوام متحدہ کی آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیٹی نے اسرائیل پر مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم، بشمول قتلِ عام، اذیت رسانی، عصمت دری اور دیگر جنسی تشدد کے الزامات عائد کیے ہیں۔ 26 اکتوبر 2026 کو جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے باوجود غزہ میں نسل کشی جاری ہے۔
کمیٹی کے مطابق، اسرائیلی فوجی کارروائیاں اور آبادکاروں کے مسلسل حملے فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے اور مقبوضہ علاقوں پر اسرائیلی کنٹرول بڑھانے کی منظم پالیسی کا حصہ ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے پہلے مغربی کنارے میں اسرائیلی فضائی حملوں میں چھ فلسطینی جاں بحق ہوئے تھے، جب کہ اس کے بعد تین سال سے بھی کم عرصے میں 254 فلسطینی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
تحقیقاتی کمیٹی نے اسرائیلی فورسز پر بچوں کو جان بوجھ کر قتل کرنے، انہیں شدید جسمانی نقصان پہنچانے اور فلسطینی آبادی کو خوف زدہ کرنے اور بے دخل کرنے کے لیے جنسی تشدد استعمال کرنے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، جنوری 2025 سے اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں مغربی کنارے میں 1967 کی جنگ کے بعد فلسطینیوں کی سب سے بڑی جبری نقل مکانی ہوئی۔ اگست 2026 تک 34,176 فلسطینی بے گھر ہوچکے تھے۔
گزشتہ جمعے الخلیل میں اسرائیلی کارروائی کے نتیجے میں 2,000 سے زائد فلسطینیوں کو اپنے گھروں سے بے دخل ہونا پڑا۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے مکانات اور دکانوں کی مسماری اور محلوں کی ناکہ بندی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اجتماعی سزا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اسرائیلی بستیوں کی توسیع، فلسطینی خاندانوں کی بے دخلی اور حملوں میں اضافے پر خبردار کیا کہ حالات میں نسلی تطہیر کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود نسل کشی جاری رہنے کا الزام
کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے باوجود غزہ میں فلسطینی شہریوں کو خطرات لاحق ہیں۔ خاص طور پر نام نہاد ’یلو لائن‘ کے قریب جانے یا اسے عبور کرنے والے شہری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔
رپورٹ میں فلسطینی اتھارٹی پر بھی اختلافی آوازوں کو دبانے اور اپنی سکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے گئے تشدد کی مناسب تحقیقات نہ کرنے پر تنقید کی گئی ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی نے اسرائیلی قبضے کے فوری خاتمے، غیر قانونی بستیوں کو ختم کرنے اور ضبط شدہ فلسطینی زمینیں واپس کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس نے عالمی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے کا حوالہ دیتے ہوئے فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کو پائیدار امن کے لیے ضروری قرار دیا۔
کمیٹی کی رپورٹ عدالتی فیصلہ نہیں ہے، تاہم اس کے نتائج مستقبل میں بین الاقوامی قانونی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
Support Independent Media
Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.
Support Millat Times