آزاد صحافت اور تازہ خبروں کے لیے ملت ٹائمز ایپ سے جڑیں۔
ایپ انسٹال ہے تو کھلے گی، ورنہ Google Play کھلے گا۔اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے سرکاری ملازمتوں کے لیے کردار کی جانچ کے ضابطوں میں تبدیلی کرتے ہوئے ایسے افراد کو ریاستی ملازمت کے لیے نااہل قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے جو تشدد کے ذریعے اقتدار کی تبدیلی یا موجودہ نظام کو بدلنے کی کوشش کرنے والی تنظیموں سے وابستہ ہوں۔ نئے ضابطوں کے تحت حکومت نے سرکاری ملازمت کے امیدواروں کی جانچ کا دائرہ مزید سخت کردیا ہے۔
حکومت نے 28 اکتوبر کو براہِ راست بھرتی کے ذریعے سرکاری محکموں میں منتخب ہونے والے امیدواروں کی کردار کی تصدیق سے متعلق رہنما اصولوں میں ترمیم کی۔ نئے ضابطے میں کہا گیا ہے کہ ایسی تنظیم کا رکن ہونا امیدوار کو سرکاری ملازمت کے لیے نااہل بنا سکتا ہے جس کا عہد یا مقصد تشدد کے ذریعے موجودہ سیاسی نظام کو تبدیل کرنا ہو۔
حکومت کے جاری کردہ سرکلر کے مطابق، سیاسی نظریہ کسی امیدوار کو سرکاری ملازمت سے محروم کرنے کی بنیاد نہیں بنے گا، تاہم ایسی تنظیموں سے وابستگی رکھنے والے افراد نااہل قرار دیے جاسکتے ہیں جن کا واضح مقصد تشدد کے ذریعے اقتدار کی تبدیلی ہو۔ یہ ضابطے سرکاری محکموں، سرکاری شعبے کے اداروں، بورڈز اور شہری و دیہی بلدیاتی اداروں میں بھرتیوں پر لاگو ہوں گے۔
نئے رہنما اصولوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 21 سال کی عمر پوری کرنے کے بعد تصدیق کی تاریخ سے تین سال کے اندر ایسی سرگرمیوں میں ملوث پائے جانے والے امیدواروں کے بارے میں یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ وہ اب بھی ان سرگرمیوں میں سرگرم ہیں۔ تاہم، اگر حکام کو اس مدت کے دوران امیدوار کے رویے اور سوچ میں حقیقی مثبت تبدیلی کے دستاویزی شواہد ملتے ہیں تو وہ اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرسکتے ہیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند ہفتے قبل وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کاکروچ جنتا پارٹی، آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) اور دیگر طلبہ تنظیموں کے احتجاج پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ جمہوریت میں اقتدار تک پہنچنے کا راستہ عوام کے فیصلے سے نکلتا ہے، افراتفری سے نہیں۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ ہندوستان میں بنگلہ دیش کی طرز پر اقتدار کی تبدیلی کا خواب دیکھنے والی قوتیں نوجوانوں کے ہاتھوں میں ملک کی تعمیر کی مشعل کے بجائے انتشار کے ہتھیار تھمانا چاہتی ہیں۔
یوگی آدتیہ ناتھ کا یہ بیان دہلی کے پریس کلب میں آئیسا کی قومی صدر نہا بورا کے اس بیان کے جواب میں آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تحریک کا مقصد اقتدار کی تبدیلی ہے اور وہ بنگلہ دیش کی نوجوان نسل کی جدوجہد سے متاثر ہیں۔
نئے ضابطوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سماجوادی پارٹی کے ترجمان آشوتوش ورما نے کہا کہ یہ ایک بزدل حکومت کے ضابطے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اقتدار کی تبدیلی کا مطلب کیا ہے، یہ نظام کی تبدیلی نہیں بلکہ اقتدار کی تبدیلی ہے۔
کانگریس کے ترجمان سریندر راجپوت نے بھی نئے ضابطوں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کا احتجاج کرنا تشدد نہیں ہے، دھرنا دینا تشدد نہیں ہے اور پرچہ لیک ہونے کے خلاف احتجاج کرنا بھی تشدد نہیں ہے۔
Support Independent Media
Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.
Support Millat Times