جامعہ ملیہ اسلامیہ: ہنگامہ ہے کیوں برپا؟قربانیوں کی تاریخ اور ایک ادارے کا امتحان

mt-staff

mt-staff

29 October 2026 (Publish: 09:23 AM IST)

مرشد کمال
سابق نائب صدر، جامعہ ملیہ اسلامیہ طلبہ یونین

تاریخ کا اپنا ایک مزاج ہوتا ہے۔ وہ کبھی خاموشی سے گزر جاتی ہے اور کبھی اپنے ہی کرداروں کو کٹہرے میں کھڑا کرکے ان سے سوال کرتی ہے۔ وقت کی عدالت میں منصب، اختیار اور اقتدار کی نہیں بلکہ کردار اور فیصلوں کی اہمیت ہوتی ہے۔ آج جامعہ ملیہ اسلامیہ بھی تاریخ کے ایک ایسے ہی موڑ پر کھڑی ہے جہاں اس کے شاندار ماضی اور بے چین حال کے درمیان ایک سوال پوری شدت سے سر اٹھا رہا ہے: آخر ہنگامہ ہے کیوں برپا؟

اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں جامعہ کی تاریخ کے ان اوراق کی طرف پلٹنا ہوگا جن پر قربانی، خودداری، قومی جدوجہد اور انسان سازی کی داستان رقم ہے۔ کیونکہ جامعہ کے موجودہ بحران کو اس کے تاریخی پس منظر سے الگ کرکے نہیں سمجھا جاسکتا۔

29 اکتوبر 1920ء کو علی گڑھ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد کسی معمول کے تعلیمی ادارے کے طور پر نہیں رکھی گئی تھی۔ یہ تحریکِ آزادی کا زمانہ تھا۔ تحریکِ خلافت اور تحریکِ عدم تعاون نے ہندوستانی سیاست میں ایک نئی روح پھونک دی تھی۔ مہاتما گاندھی کی اپیل پر جب سرکاری تعلیمی اداروں کے بائیکاٹ کی تحریک چلی تو متعدد اساتذہ اور طلبہ نے اپنے روشن مستقبل اور آسودہ زندگی کے امکانات کو قومی آزادی کے خواب پر قربان کردیا۔ مولانا محمد علی جوہر، حکیم اجمل خان، ڈاکٹر مختار احمد انصاری، عبدالمجیدخواجہ اور ڈاکٹر ذاکر حسین جیسے اہلِ علم و عمل نے اس خواب کو ایک ادارے کی شکل دینے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

جامعہ کے قیام کا مقصد محض انگریزی حکومت کے زیرِ اثر تعلیمی نظام کا متبادل پیش کرنا نہیں تھا بلکہ ایک ایسی نسل تیار کرنا تھا جو علم کے ساتھ خودداری، آزادی کے ساتھ ذمہ داری اور تعلیم کے ساتھ قومی شعور بھی رکھتی ہو۔ جامعہ اپنے نام ہی کی طرح ایک قومی درس گاہ تھی۔ اس کے معماروں نے تعلیم کو محض روزگار کی کنجی نہیں بلکہ انسان اور معاشرے کی تعمیر کا وسیلہ سمجھا۔

لیکن اس خواب کا سفر آسان نہ تھا۔ مالی مشکلات نے چند ہی برسوں میں جامعہ کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا۔ 1925ء میں اسے علی گڑھ سے دہلی کے قرول باغ منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا۔ یہ محض مکانی ہجرت نہیں تھی بلکہ ایک کمزور پڑتی ہوئی تحریک کو نئی زندگی دینے کی کوشش تھی۔ وسائل محدود تھے، عمارتیں معمولی تھیں اور مستقبل غیر یقینی تھا لیکن عزم غیر معمولی تھا۔ حکیم اجمل خان اور دوسرے مخلصین نے اپنے وسائل صرف کیے اور جامعہ کے اساتذہ نے اپنی ضروریات کو پس پشت ڈال کر ادارے کی بقا کو مقدم رکھا۔

اسی دور میں ڈاکٹر ذاکر حسین، ڈاکٹر عابد حسین اور ڈاکٹر محمد مجیب جرمنی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے واپس آئے۔ ان کے سامنے بہتر معاشی مستقبل کے کئی راستے تھے لیکن انھوں نے ایک ایسے ادارے کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا جس کے پاس انھیں دینے کے لیے آسائشیں نہیں بلکہ جدوجہد تھی۔ ڈاکٹر ذاکر حسین کی قیادت میں جامعہ نے تعلیم کو کردار سازی، محنت کی عظمت اور سماجی ذمہ داری سے جوڑنے کی کوشش کی۔ مکتبہ جامعہ، جامعہ پریس، بنیادی تعلیم اور اساتذہ کی تربیت جیسے منصوبے اسی فکر کے مظہر تھے۔ گِرڈا فلپس بورن، جنھیں جامعہ کے بچے محبت سے آپا جان کہتے تھے، کی خدمات بھی اسی مشترکہ جدوجہد کا حصہ تھیں۔

1935ء میں اوکھلا میں جامعہ کی نئی عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا گیا اور 1936ء میں بیشتر تعلیمی ادارے یہاں منتقل ہوگئے۔ 1939ء میں جامعہ ایک سوسائٹی کے طور پر رجسٹر ہوئی۔ اوکھلا اس وقت دہلی کا ایک نسبتاً غیر معروف گوشہ تھالیکن آنے والے برسوں میں یہی مقام جامعہ کی علمی اور تہذیبی شناخت بن گیا۔ یہاں عمارتوں کے ساتھ ایک فکر پروان چڑھی اور ایک ایسا تعلیمی ماحول تشکیل پایا جس میں کتاب، مکالمہ، تربیت اور عملی زندگی ایک دوسرے سے مربوط تھے۔

آزادی کے بعد جامعہ نے اپنے تاریخی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے نئے تعلیمی میدانوں میں قدم رکھا۔ 1962ء میں اسے ڈیمڈ یونیورسٹی کا درجہ ملا اور 1988ء میں پارلیمنٹ کے قانون کے ذریعے یہ مرکزی یونیورسٹی بن گئی۔ وقت کے ساتھ اس کے تعلیمی شعبوں میں وسعت آئی اور اس نے صحافت، ادب، سیاست، سائنس، فلم اور سماجی علوم سمیت مختلف میدانوں میں ملک کو باصلاحیت افراد فراہم کیے۔ اس کی شناخت صرف اس کے کیمپس یا ڈگریوں سے نہیں بنی بلکہ ان ذہنوں سے بنی جنھوں نے یہاں سوال کرنا، اختلاف کرنا اور اپنی رائے قائم کرنا سیکھا۔

یہی جامعہ کا اصل سرمایہ ہے۔ اس کی راہداریوں میں چلنے والے قدم صرف کلاس روم تک نہیں جاتے بلکہ مستقبل کے امکانات کی طرف بھی بڑھتے ہیں۔ کسی طالب علم کے لیے جامعہ پہلی تقریر کا نام ہے، کسی کے لیے پہلی بحث کا اور کسی کے لیے اپنی فکری شناخت دریافت کرنے کا۔ اس ادارے سے وابستہ لوگوں کے لیے جامعہ محض ایک یونیورسٹی نہیں بلکہ زندگی کا ایک تجربہ ہے۔

لیکن کیا کسی ادارے کی عظمت صرف اس کے ماضی سے قائم رہ سکتی ہے؟ کیا بانیوں کی قربانیوں کا ذکر کافی ہے اگر ان کے اصول اپنے ہی زمانے میں کمزور پڑنے لگیں؟ یہی وہ سوال ہے جو آج جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سامنے کھڑا ہے۔

طلبہ یونین کی بحالی کا مطالبہ بظاہر ایک انتظامی مسئلہ دکھائی دے سکتا ہے لیکن اس کی تہہ میں طلبہ کی نمائندگی، اظہارِ رائے اور اجتماعی فیصلوں میں شرکت کا سوال پوشیدہ ہے۔ طلبہ یونین صرف انتخابات اور عہدوں کا نام نہیں۔ یہ نوجوانوں کو اختلاف کے آداب، مکالمے کی اہمیت اور قیادت کی ذمہ داری سکھانے کا ایک عملی وسیلہ بھی ہے۔ کسی یونیورسٹی میں نظم و ضبط یقیناً ضروری ہےلیکن نظم و ضبط اور خاموشی مسلط کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ اختلاف کو جگہ دینا انتظامیہ کی کمزوری نہیں بلکہ اس کے اعتماد کی علامت ہے۔

یہ ایک انتہائی تکلیف دہ منظر ہے کہ جس درس گاہ میں نوجوان علم حاصل کرنے اور اپنا مستقبل سنوارنے آتے ہیں وہاں انھیں اپنی آواز سنانے کے لیے بھوک کا راستہ اختیار کرنا پڑے۔ یہ ہمارے اپنے بچے ہیں، ان کی صحت اور زندگی کو لاحق خطرات کسی بھی انتظامی اختلاف سے زیادہ اہم ہیں۔

جامعہ کے وائس چانسلر کا منصب محض انتظامی احکامات نافذ کرنے کا نہیں بلکہ ایک علمی برادری کی سرپرستی کا منصب ہے۔ ان کے سامنے آج یہ موقع ہے کہ وہ موجودہ بحران کو اعتماد کی بحالی کا ذریعہ بنائیں۔ اساتذہ، طلبہ اور ملازمین کے درمیان مکالمے کے مستقل راستے کھولے جائیں اور تعلیمی سرگرمیوں کو معمول پر رکھنے کے ساتھ جمہوری فضا قائم کی جائے۔ طلبہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ احتجاج کو پُرامن رکھیں، تعلیمی نقصان سے بچیں اور مذاکرات کے امکانات کو زندہ رکھیں۔

جامعہ کی تاریخ میں اس سے پہلے بھی ایسے مشکل مرحلے آئے ہیں جب اس کے وجود اور مستقبل پر سوالات اٹھے۔ اسے ان لوگوں نے سنبھالا جنھوں نے اپنے ذاتی مفاد سے بلند ہوکر اجتماعی مقصد کو ترجیح دی۔ آج بھی جامعہ کو اسی بصیرت کی ضرورت ہے۔ اس کے بانیوں نے اسے اختلاف سے پاک ادارہ بنانے کا خواب نہیں دیکھا تھا بلکہ ایسی درس گاہ کا تصور پیش کیا تھا جہاں علم اور دلیل کی روشنی میں اختلاف کو سمجھا جاسکے۔

تاریخ کا مورخ جب اس عہد کی طرف پلٹے گا تو وہ صرف یہ نہیں دیکھے گا کہ کتنے احکامات جاری ہوئے یا کتنی کلاسیں بند رہیں۔ وہ یہ بھی پوچھے گا کہ جب جامعہ کے نوجوان اپنی آواز سنانے کے لیے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے تو ان کے سرپرستوں نے کیا رویہ اختیار کیا۔ کیا انھوں نے فاصلے بڑھائے یا آگے بڑھ کر ان کا ہاتھ تھاما؟

جامعہ ملیہ اسلامیہ ہم سب کی مشترکہ امانت ہے۔ اس کی حفاظت صرف عمارتوں اور انتظامی ڈھانچے کی حفاظت نہیں بلکہ اس آزاد فکر، علمی وقار اور جمہوری روایت کی حفاظت بھی ہے جس نے اسے جنم دیا۔ جامعہ کو خاموشی نہیں اعتماد درکار ہے۔ اس کے طلبہ کو خوف نہیں بلکہ یہ یقین ملنا چاہیے کہ ان کی آواز سنی جائے گی اور ان کے مستقبل کو محفوظ رکھا جائے گا۔جامعہ کی تاریخ قربانیوں سے لکھی گئی تھی۔ اس کے مستقبل کی تحریر بھی دانش، انصاف اور انسان دوستی سے ہی مکمل ہوگی۔

Support Independent Media

Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.

Support Millat Times

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top