ہریانہ کے شہر گروگرام میں سیتا پور کی رہائشی انشراح ایوبی ( جو کہ پیشہ سے انجینئر تھی ،اور گذشتہ سال ہی جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی سے کمپیوٹر سائنس انجینئرنگ میں گریجویشن مکمل کی تھی ) کے قتل اور اسکے دوست سریشٹھ کی خودکشی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 25 سالہ سافٹ ویئر انجینئر انشراح ایوبی کو اس کے ساتھی ملازم شریشٹھ ملک نے قتل کیا اور بعد ازاں خود ریلوے ٹریک پر جا کر خودکشی کر لی۔ تاہم پولیس نے واضح کیا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور حتمی نتیجہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
انشراح ایوبی، جو اتر پردیش کے ضلع سیتاپور کی رہنے والی تھیں، گروگرام میں واقع بین الاقوامی ہیلتھ کیئر کمپنی اوپٹم (Optum) میں سافٹ ویئر انجینئر کے طور پر کام کر رہی تھیں۔ مسلسل رابطہ نہ ہونے پر اہل خانہ نے سیکٹر 56 تھانے میں ان کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔
پولیس نے موبائل فون کی لوکیشن کی بنیاد پر انشراح کا سراغ سیکٹر 55 میں واقع ایک پیئنگ گیسٹ (PG) رہائش گاہ تک پہنچایا، جو ان کے ساتھی ملازم شریشٹھ ملک کے نام پر تھی۔ شریشٹھ ملک چھتیس گڑھ کے شہر بھلائی کا رہنے والا اور مصنوعی ذہانت (AI) انجینئر تھا، جو اسی کمپنی میں ملازم تھا۔
پڑوسیوں نے پولیس کو بتایا کہ انہوں نے کسی قسم کی غیر معمولی آواز یا شور نہیں سنا۔ جب پولیس نے بند کمرے کا دروازہ توڑا تو اندر انشراح ایوبی کی خون میں لت پت لاش ملی۔ ابتدائی طبی معائنے کے مطابق ان کے جسم پر چاقو کے متعدد وار کیے گئے تھے جبکہ ان کا گلا بھی کاٹا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لاش کی حالت سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی موت تقریباً 24 گھنٹے قبل ہو چکی تھی۔
تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ تین روز قبل انشراح اپنا سامان شریشٹھ ملک کے کمرے میں منتقل کر چکی تھیں۔
ادھر سرکاری ریلوے پولیس (GRP) نے ہفتہ کے روز گڑھی ریلوے اسٹیشن کے قریب ریلوے ٹریک سے ایک نوجوان کی لاش برآمد کی تھی، جس کی شناخت موبائل فون اور دیگر دستاویزات کی مدد سے شریشٹھ ملک کے طور پر ہوئی۔ ابتدا میں اس کی موت کو ٹرین حادثہ سمجھا گیا، تاہم انشراح ایوبی کے قتل کی تحقیقات کے بعد پولیس کو شبہ ہے کہ اس نے پہلے انشراح کو قتل کیا اور پھر خودکشی کر لی۔
شریشٹھ ملک کے اہل خانہ کو ابتدا میں بتایا گیا تھا کہ ان کی موت ٹرین حادثے میں ہوئی ہے۔ وہ چھتیس گڑھ سے گروگرام اپنے بیٹے کی لاش وصول کرنے پہنچے، مگر بعد میں پولیس نے انہیں قتل کیس سے متعلق نئی معلومات سے آگاہ کیا۔
پولیس کے مطابق شریشٹھ ملک نے گزشتہ سال این آئی ٹی رائے پور سے تعلیم مکمل کی تھی اور اوپٹم میں ملازمت سے قبل سام سنگ میں انٹرن شپ بھی کی تھی۔ وہ جون کے اوائل میں اپنی سالگرہ منانے اپنے آبائی شہر گیا تھا اور بدھ کے روز آخری مرتبہ اپنی والدہ سے بات کی تھی۔
دوسری جانب انشراح ایوبی نے گزشتہ سال جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی سے کمپیوٹر سائنس انجینئرنگ میں گریجویشن مکمل کی تھی۔
پولیس کو جائے وقوعہ سے کوئی خودکشی نوٹ نہیں ملا ہے اور قتل کے محرکات بھی تاحال واضح نہیں ہو سکے ہیں۔
سیکٹر 56 تھانے کے انچارج انسپکٹر منوج کمار نے بتایا کہ قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، دونوں خاندانوں سے تفصیلی پوچھ گچھ کی جائے گی، جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل فون ریکارڈ، ڈیجیٹل شواہد اور دیگر فرانزک شواہد کی مدد سے دونوں کی آخری سرگرمیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دونوں لاشوں کا پوسٹ مارٹم کرانے کے بعد انہیں ان کے اہل خانہ کے حوالے کر دیا گیا ہے، جبکہ گروگرام پولیس اور سرکاری ریلوے پولیس مشترکہ طور پر واقعے کی تحقیقات میں مصروف ہیں۔
Support Independent Media
Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.
Support Millat Times