شمس تبریز قاسمی
اقوام متحدہ کے زیرِ اہتمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں، مشرقی یروشلم اور اسرائیل سے متعلق آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ اور دہلی ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس ایس مرلی دھر نے کہا ہے کہ غزہ میں بچوں کے خلاف منظم حملے، زچگی اور بچوں کے اسپتالوں کی تباہی، تعلیمی اداروں کی بربادی اور بچوں پر پڑنے والے طویل المدتی نفسیاتی اثرات اس نتیجے کی تائید کرتے ہیں کہ اسرائیل کے اقدامات بین الاقوامی قانون کے مطابق نسل کشی (Genocide) کے زمرے میں آتے ہیں۔
ملت ٹائمز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں جسٹس مرلی دھر نے بتایا کہ بچوں سے متعلق کمیشن کی تازہ رپورٹ دراصل ستمبر 2025 میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کا تسلسل ہے، جس میں کمیشن نے پہلی مرتبہ یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ غزہ میں اسرائیل کے اقدامات نسل کشی کی قانونی تعریف پر پورا اترتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تازہ رپورٹ میں طبی ماہرین کی گواہیاں، فرانزک شواہد، بیلسٹک تجزیے، اسپتالوں کے ریکارڈ اور بچوں سے متعلق بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
جسٹس مرلی دھر کے مطابق بین الاقوامی فوجداری قانون میں نسل کشی کی ایک اہم علامت کسی قوم کی حیاتیاتی بقا کو روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اسرائیل نہ صرف بچوں کی پیدائش کو متاثر کر رہا ہے بلکہ حاملہ خواتین کو نشانہ بنانے، نوزائیدہ بچوں کے مراکز تباہ کرنے اور بچوں کے اسپتالوں پر حملے کرنے جیسے اقدامات بھی اسی پالیسی کا حصہ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ غزہ میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں نے کمیشن کو ایسے متعدد طبی شواہد فراہم کیے جن میں بچوں کے سر اور گردن پر گولیوں کے زخم اور ٹنگسٹن سے تیار مخصوص گولہ بارود کے استعمال کے آثار ملے، جو جسم میں داخل ہونے کے بعد اندرونی اعضا کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔
جسٹس مرلی دھر نے کہا کہ غزہ میں ہلاک ہونے والے تقریباً 70 ہزار افراد میں 30 فیصد سے زیادہ بچے ہیں، جو اس جنگ میں بچوں کو پہنچنے والے غیر معمولی نقصان کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔
ان کے مطابق فضائی حملوں کی منصوبہ بندی، مخصوص جسمانی حصوں کو نشانہ بنانے، بچوں کے علاج کے مراکز کو تباہ کرنے اور طبی سہولیات ختم کرنے کے مجموعی شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ فلسطینی قوم کے مستقبل کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا، “بچے فلسطینی عوام کی سماجی اور حیاتیاتی بقا کی علامت ہیں، وہی ان کی آئندہ نسل اور شناخت کے امین ہیں، اسی لیے انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔”
جسٹس مرلی دھر نے کہا کہ کمیشن نے غزہ میں تعلیمی نظام کی تباہی کا بھی جائزہ لیا ہے۔ ان کے مطابق 97 فیصد اسکول تباہ ہو چکے ہیں، یونیورسٹیاں بھی برباد کر دی گئی ہیں، جبکہ بجلی اور انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے باعث آن لائن تعلیم بھی تقریباً ناممکن ہو گئی ہے۔
انہوں نے طبی انخلا (Medical Evacuation) کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے ایسے بچے جنہیں فوری علاج کی ضرورت ہوتی ہے، انہیں بھی اسرائیل اکثر باہر جانے کی اجازت نہیں دیتا۔ ان کے بقول اگر سو بچوں کو فوری علاج کی ضرورت ہو تو صرف چند بچوں کو ہی غزہ سے نکلنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
جسٹس مرلی دھر نے بچوں پر جنگ کے نفسیاتی اثرات کو بھی انتہائی سنگین قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل ڈرونز کی آواز، بمباری، نقل مکانی اور موت کے خوف نے ایک پوری نسل کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے، جس کی وجہ سے بچے معمول کا بچپن گزارنے سے محروم ہو گئے ہیں۔
کمیشن نے اپنی رپورٹ میں حمل کے دوران اموات، مردہ بچوں کی پیدائش، کم وزن نوزائیدہ بچوں اور زچگی کی پیچیدگیوں میں اضافے کا بھی ذکر کیا ہے، جنہیں غذائی قلت، طبی سہولیات کی کمی اور اسپتالوں پر حملوں سے جوڑا گیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے ایک مرتبہ پھر ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس کے خلاف ہیں، نہ کہ عام شہریوں کے خلاف۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ حماس شہری علاقوں اور بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے۔
اس پر ردِعمل دیتے ہوئے جسٹس مرلی دھر نے کہا کہ دس دن یا تین سال کا بچہ انسانی ڈھال نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق اگر کسی جگہ حماس کی جانب سے انسانی ڈھال استعمال کیے جانے کے واقعات موجود بھی ہوں، تب بھی اس بنیاد پر تمام بچوں کو فوجی ہدف قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹیں کسی فرد کی مجرمانہ ذمہ داری کا فیصلہ نہیں کرتیں، تاہم یہ مستقبل میں بین الاقوامی عدالتوں میں ہونے والی کارروائیوں اور نسل کشی سے متعلق قانونی مباحث پر اہم اثر ڈال سکتی ہیں۔ ان کے مطابق اس رپورٹ کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ فلسطینی بچوں کو نشانہ بنانا دراصل ایک پوری قوم کے مستقبل کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔
گفتگو کے دوران ایک خاص مرحلہ اس وقتا آیا جب ان سے سوال کیا گیا کہ آپ پر تمام ہندوستانی کو فخر محسوس ہو رہا ہے، تو انہوں نے دل جیت لینے والا جواب دیا کہ اس وقت توجہ میری ذات پر مرکوز نہیں کرنی چاہیے بلکہ میں نےجو رپورٹ پیش کی ہے اس کے تعلق سے گفتگو کرنے اور فلسطینیوں کے خلاف ہو رہے اس مظالم کو روکنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ۔
Support Independent Media
Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.
Support Millat Times