مہاراشٹر کا مذہبی آزادی قانون خود مذہبی آزادی کا دشمن ہے: مولانا محمود اسعد مدنی

مہاراشٹر کا مذہبی آزادی قانون آئینی حقوق کے منافی، جمعیۃ علماء ہند نے تشویش ظاہر کردی
mt-staff

mt-staff

22 August 2026 (Publish: 09:07 AM IST)

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے مہاراشٹر فریڈم آف ریلیجن ایکٹ 2026 کے نفاذ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کی متعدد دفعات شہریوں کے ضمیر کی آزادی، مذہبی آزادی، رازداری اور شخصی خودمختاری کو حاصل آئینی تحفظ سے متصادم ہیں۔

مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ ہندوستان کی قوت اس کی مذہبی اور ثقافتی گوناگونی میں مضمر ہے اور آئین میں دی گئی مذہبی آزادی ہر شہری کا حق ہے۔ اگر کوئی شہری اپنی مذہبی وابستگی کا آزادانہ انتخاب نہیں کرسکتا تو آئین کی دفعہ 25 بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر نے اس قانون کے ذریعے اتر پردیش، گجرات اور مدھیہ پردیش میں نافذ کیے گئے ماڈل کو اپنایا ہے، جنہیں جمعیۃ علماء ہند پہلے ہی سپریم کورٹ میں چیلنج کرچکی ہے۔ ان کے مطابق بنیادی اعتراض یہ ہے کہ ’Allurement‘ (ترغیب) اور ’Fraudulent‘ (دھوکہ دہی پر مبنی) جیسی مبہم اصطلاحات کو قانون کا حصہ بنانے سے مذہب کی پُرامن تبلیغ بھی جرم کے دائرے میں آسکتی ہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ توحید پر ایمان رکھنے والوں کے لیے آخرت میں اس کے اجر اور نجات کی تعلیم کو بھی ’لالچ‘ کے زمرے میں شامل کیا جارہا ہے، جو آئین کی دفعہ 25 میں دیے گئے مذہب کی تبلیغ کے حق کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستوں کے تجربات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ایسے قوانین کی آڑ میں بڑی تعداد میں لوگوں کو جیل بھیجا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاست کو یہ آئینی اختیار حاصل نہیں ہوسکتا کہ وہ کسی شہری کے ذاتی ضمیر، مذہبی انتخاب اور اعتقاد کی نگہبان بن جائے یا اس کے لیے جواب دہی طے کرے۔مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ گزشتہ برس سپریم کورٹ بھی اس بات پر تشویش ظاہر کرچکی ہے کہ مذہب تبدیل کرنے سے پہلے لازمی اعلان، پولیس کی جانچ اور ذاتی معلومات کو عام کرنے جیسی شرائط کسی فرد کی شخصی آزادی پر غیر ضروری اور غیر معمولی بوجھ ڈالتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستوں میں مذہب تبدیلی مخالف قوانین کے تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے عدالتوں اور جمہوری اداروں کو صرف ان قوانین میں بیان کیے گئے مقاصد تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ان کے قانونی ڈھانچے، ان کے پسِ پردہ اکثریت پسندانہ سوچ سے متاثر مقاصد اور ان کے غلط استعمال کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔

مولانا مدنی نے واضح کیا کہ جمعیۃ علماء ہند ایسی حقیقی کوششوں کی مخالف نہیں جن کا مقصد جبری، دھوکے یا زبردستی کے ذریعے مذہب تبدیل کرانے کو روکنا ہو۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مذہبی آزادی کے تحفظ کے نام پر بنایا گیا کوئی قانون خود اسی آزادی کو محدود کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا اور نہ ہی اسے کسی مخصوص برادری کے خلاف سزا یا کارروائی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

Support Independent Media

Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.

Support Millat Times

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top