آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے اسکول میں حجاب پہننے سے متعلق الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر سخت اعتراض کیا ہے۔ انہوں نے فیصلے کو ’’اسلام پر حملہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے اتفاق نہیں رکھتے۔
اویسی نے منگل کو پارٹی ہیڈکوارٹر دارالسلام میں منعقدہ عظیم الشان جلسۂ رحمت للعالمین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک ایسی طالبہ کی درخواست مسترد کردی جو اسکول کے مقررہ لباس کے ساتھ حجاب پہننے کی اجازت چاہتی تھی۔
اویسی نے کہا، ’’میں الہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے اختلاف کرتا ہوں، میں اس سے متفق نہیں ہوں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ حجاب کے معاملے میں عدالت کو یہ طے کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ اسلام میں کیا چیز ضروری ہے اور کیا نہیں۔
انہوں نے سبری مالا مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، جہاں نو رکنی بنچ مذہب میں کسی عمل کی لازمی حیثیت سے متعلق معاملے پر غور کر رہی ہے۔ اویسی نے دعویٰ کیا کہ موجودہ فیصلہ آئین ہند کی دفعات 25 اور 19 سے متصادم ہے۔
اویسی نے کہا، ’’آپ کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے کہ اسلام میں کیا ضروری ہے؟ لڑکیاں حجاب سر پر پہنتی ہیں، دماغ پر نہیں۔ یہ اسلام پر حملہ ہے۔‘‘
الہ آباد ہائی کورٹ نے منگل کو پریاگ راج کے ایک اسکول کی طالبہ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ درخواست گزار یہ ثابت کرنے کے لیے مذہبی صحیفے یا دیگر مواد پیش نہیں کرسکی کہ سر پر اسکارف پہننا اس کے مذہب کا ایسا لازمی حصہ ہے جس کے بغیر اس کے مذہبی عقیدے پر اثر پڑتا ہو۔
یہ طالبہ اسی اسکول سے دسویں جماعت پاس کرنے کے بعد گیارہویں جماعت میں داخلہ لینا چاہتی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ چھٹی جماعت سے اسکول کی یونیفارم کے ساتھ سر پر اسکارف پہنتی رہی ہے اور کبھی اس پر اعتراض نہیں کیا گیا۔ تاہم گیارہویں جماعت میں داخلے کے وقت اسکول انتظامیہ نے اسکارف کو لباس کے ضابطے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے داخلہ دینے سے انکار کردیا تھا۔
Support Independent Media
Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.
Support Millat Times