جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کی بحالی کے مطالبے پر جاری بھوک ہڑتال کے دوران انتظامیہ اور طلبہ کے درمیان بات چیت ہوئی، لیکن بعد میں جاری ہونے والے سرکاری نوٹس پر طلبہ نے اعتراض کرتے ہوئے احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ دستخط کرائے جانے کے وقت جن باتوں کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، سرکاری نوٹس میں ان کا واضح ذکر نہیں ہے۔
طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں: طلبہ یونین کی بحالی کے لیے انتخابات کی واضح تاریخ اور ڈیڈ لائن، طلبہ کے خلاف جاری شوکاز نوٹس اور دیگر کارروائیوں کی واپسی، اور چیف پراکٹر و چیف سکیورٹی ایڈوائزر کے استعفے۔
1۔ انتخابات کی تاریخ اور ڈیڈ لائن واضح نہیں
طلبہ کے مطابق، انتظامیہ کے ساتھ ابتدائی بات چیت میں یہ طے ہوا تھا کہ 20 دسمبر تک طلبہ یونین کے انتخابات کے لیے آئین کا مسودہ تیار کر لیا جائے گا اور اس کے بعد 15 دن کے اندر انتخابات کرائے جائیں گے۔
تاہم، بعد میں جاری ہونے والے سرکاری نوٹس میں نہ تو 20 دسمبر کی تاریخ درج ہے اور نہ ہی 15 دن کے اندر انتخابات کرانے کی واضح یقین دہانی موجود ہے۔ نوٹس میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ آئین کا مسودہ تیار ہونے کے 15 دن بعد انتخابات ہوں گے۔ اس طرح مسودہ کب تیار ہوگا اور انتخابات کس تاریخ کو ہوں گے، یہ واضح نہیں ہے۔
2۔ طلبہ کے خلاف کارروائیوں کی واپسی کا مطالبہ
طلبہ کا مطالبہ تھا کہ جن طلبہ کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے یا جن کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی، ان تمام کارروائیوں کو واپس لیا جائے، چاہے وہ احتجاج سے پہلے کی گئی ہوں یا احتجاج کے دوران۔ اس کے ساتھ یہ یقین دہانی بھی مانگی گئی تھی کہ مستقبل میں احتجاج کے سلسلے میں کسی طالب علم کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی۔
لیکن طلبہ کے مطابق، جاری کردہ نوٹس میں صرف احتجاج کے دوران کارروائی کا سامنا کرنے والے طلبہ کی کارروائیاں واپس لینے کی بات کی گئی ہے۔ احتجاج سے پہلے کی گئی کارروائیوں اور مستقبل میں کسی بھی کارروائی سے متعلق مطالبات کا واضح ذکر نہیں ہے۔
3۔ چیف پراکٹر اور چیف سکیورٹی ایڈوائزر کے استعفے کا معاملہ
طلبہ کا تیسرا مطالبہ چیف پراکٹر اور چیف سکیورٹی ایڈوائزر کے استعفے سے متعلق تھا۔ طلبہ کے مطابق، ابتدائی بات چیت کے دوران انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اس معاملے پر ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جو استعفوں کے مطالبے پر غور کرے گی۔
لیکن بعد میں جاری ہونے والے سرکاری نوٹس میں کمیٹی تشکیل دینے یا استعفوں کے مطالبے پر غور کرنے کا ذکر نہیں کیا گیا، بلکہ طلبہ سے عوامی طور پر معافی مانگنے کی بات کہی گئی ہے۔ طلبہ کا سوال ہے کہ جب وہ اپنے حقوق اور طلبہ یونین کی بحالی کے لیے احتجاج کر رہے ہیں تو انہیں عوامی طور پر معافی کیوں مانگنی چاہیے؟
4۔ دستخط کے بعد سرکاری نوٹس سامنے آیا تو طلبہ نے اعتراض کیا
طلبہ کے مطابق، رات تقریباً دو بجے انتظامیہ کی جانب سے نوٹس پر دستخط کرائے گئے۔ بعض طلبہ کا کہنا ہے کہ اس وقت بار بار اصرار اور دباؤ کی وجہ سے انہوں نے دستخط کیے، کیونکہ انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ان کے مطالبات تسلیم کیے جا رہے ہیں۔
تاہم، جب بعد میں سرکاری نوٹس جاری ہوا تو طلبہ نے محسوس کیا کہ اس میں کئی اہم مطالبات کو یا تو شامل نہیں کیا گیا یا ان کی شرائط تبدیل کر دی گئی ہیں۔
5۔ دو طلبہ نے بھوک ہڑتال ختم کی، لیکن ساتھیوں کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا
ابتدائی طور پر بھوک ہڑتال پر بیٹھے چار طلبہ ( جاسم ۔ ایبن ، ریحان حیدر اور ریحان خان) میں سے دو جاسم و ریحان حیدر نے دستخط کرنے کے بعد کیمرے پر کچھ کھا کر اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی تھی۔ باقی دو طلبہ دستخط کرتے وقت بھی پوری طرح مطمئن نہیں تھے، اس لیے انہوں نے سرکاری نوٹس جاری ہونے تک کچھ نہیں کھایا۔
جب نوٹس سامنے آیا اور انہیں اپنے مطالبات کے حوالے سے واضح یقین دہانی نظر نہیں آئی تو انہوں نے بھوک ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
بعد میں بھوک ہڑتال ختم کرنے والے دونوں طلبہ جاسم علی اور ریحان حیدر اپنے ان ساتھیوں کے پاس پہنچے جو بدستور بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کیمرے پر بھوک ہڑتال تو ختم کی ہے، لیکن ہم آپ کے ساتھ ہیں اور ہمیشہ کی طرح قدم سے قدم اور آواز سے آواز ملا کر آپ کا ساتھ دیتے رہیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب ہم دوبارہ بھوک ہڑتال شروع نہیں کر سکتے، لیکن احتجاجی مقام پر آپ کے ساتھ موجود رہیں گے اور آپ کی حمایت جاری رکھیں گے۔
اسی دوران کمیونسٹ گروپ سے وابستہ طالب علم رتک نے بھی بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔
طلبہ کا واضح مؤقف: مطالبات کی مکمل منظوری تک احتجاج جاری رہے گا
سرکاری نوٹس سامنے آنے کے بعد طلبہ نے آپس میں دوبارہ مشورہ کیا اور اسے اپنے بنیادی مطالبات کے مطابق نہ پاتے ہوئے مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک طلبہ یونین کے انتخابات کی واضح تاریخ اور ڈیڈ لائن، طلبہ کے خلاف کارروائیوں کی مکمل واپسی اور عہدیداروں کے استعفوں کے مطالبے پر واضح فیصلہ سامنے نہیں آتا، وہ احتجاج ختم نہیں کریں گے۔
اگرچہ انتظامیہ کی جانب سے احتجاج ختم ہونے کی بات کی جا رہی ہے، لیکن طلبہ کا مؤقف ہے کہ ان کے مطالبات ابھی پورے نہیں ہوئے اور بھوک ہڑتال جاری ہے۔
Support Independent Media
Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.
Support Millat Times