آزاد صحافت اور تازہ خبروں کے لیے ملت ٹائمز ایپ سے جڑیں۔
ایپ انسٹال ہے تو کھلے گی، ورنہ Google Play کھلے گا۔امریکہ میں پہلے مسلم سینیٹر منتخب ہونے والے ڈاکٹر عبدالرحمٰن محمد السید کی کامیابی کے ساتھ ان کی اہلیہ ڈاکٹر سارہ جکاکو کا ہندوستان سے تعلق بھی موضوعِ گفتگو بن گیا ہے۔ سارہ کے خاندان کی جڑیں کرناٹک کے تاریخی ساحلی شہر بھٹکل سے وابستہ ہیں، جو اپنی اسلامی تہذیب، علمی روایت اور ثقافتی ورثے کے لیے معروف ہے۔
مشی گن سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک امیدوار ڈاکٹر عبدالمحمد السید نے امریکی سینیٹ کے انتخاب میں ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دی۔ اس کامیابی کے ساتھ وہ امریکہ کی تاریخ میں سینیٹ کے پہلے مسلم رکن منتخب ہوئے ہیں۔ ان کی اہلیہ سارہ جکاکو ہندوستانی نژاد والدین کے گھر مشی گن میں پیدا ہوئیں اور ان کی پرورش بھی امریکہ ہی میں ہوئی، تاہم ان کے خاندان کا آبائی تعلق کرناٹک کے شہر بھٹکل سے ہے، جو منگلورو سے تقریباً 140 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
سارہ کے والد ڈاکٹر جکاکو ایس طیب کا بچپن بھٹکل ہی میں گزرا۔ وہ گردوں کے امراض کے ماہر معالج ہیں۔ والد کے طبی پس منظر نے سارہ کی زندگی پر بھی اثر ڈالا اور انہوں نے طب کے شعبے میں اپنا مستقبل بنایا۔ سارہ ایک کامیاب ماہرِ نفسیات ہیں۔ انہوں نے کولمبیا یونیورسٹی سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی اور مشی گن میڈیسن میں کئی برس خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں 2024 میں انہوں نے ’’مائنڈ ورک سائیکاٹری‘‘ کے نام سے اپنا کلینک قائم کیا۔ وہ ذہنی صحت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کی مہمات اور سماجی خدمات میں بھی سرگرم ہیں۔
ڈاکٹر عبدالرحمٰن محمد السید کے سیاسی سفر کے برعکس سارہ نے خود کو سیاست سے دور رکھا ہے۔ وہ سیاسی جلسوں اور انتخابی سرگرمیوں میں زیادہ نظر نہیں آتیں، بلکہ طب اور سماجی خدمت کے ذریعے اپنی الگ شناخت قائم کی ہے۔
یونیورسٹی میں ملاقات، پھر شادی
سارہ اور عبدالرحمٰن محمد السید کی ملاقات 2006 میں یونیورسٹی آف مشی گن میں دورانِ تعلیم ہوئی تھی۔ دونوں نے اسی سال شادی کرلی۔ ایک انٹرویو میں عبدالرحمٰن محمد السید اپنی اہلیہ کی ذہانت، سمجھ بوجھ اور دوراندیشی کی تعریف بھی کرچکے ہیں۔ اس جوڑے کی دو بیٹیاں ہیں، جن کے نام ایمیلی اور سیرین ہیں۔
سارہ کی زندگی میں ایک اہم مرحلہ اس وقت آیا جب پہلی بیٹی کی پیدائش کے بعد انہیں صحت کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے اسپتال انتظامیہ سے طبی وجوہات کی بنا پر رخصت طلب کی، لیکن اس سلسلے میں انہیں مشکلات پیش آئیں۔ اس موقع پر فزیشنز یونین نے ان کا ساتھ دیا اور انہیں اپنے جائز حق کی رخصت اور ملازمت کے تحفظ کے حصول میں مدد فراہم کی۔ ان کی یہ جدوجہد بعد میں دیگر خواتین کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوئی۔
Support Independent Media
Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.
Support Millat Times