غزہ میں تعلیمی عملے کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری، اب تک 800 سے زائد اساتذہ شہید: غزہ کی وزارتِ تعلیم کی رپورٹ !

غزہ میں تعلیمی عملے کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری، اب تک 800 سے زائد اساتذہ شہید: غزہ کی وزارتِ تعلیم کی رپورٹ !
mt-staff

mt-staff

02 November 2026 (Publish: 10:25 AM IST)

آزاد صحافت اور تازہ خبروں کے لیے ملت ٹائمز ایپ سے جڑیں۔

ایپ انسٹال ہے تو کھلے گی، ورنہ Google Play کھلے گا۔
ایپ کھولیں / ڈاؤن لوڈ کریں

غزہ میں اسرائیلی حملوں کے دوران اساتذہ اور تعلیمی عملے کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ غزہ کی وزارتِ تعلیم کے ڈائریکٹر احمد النجار نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی نسل کشی کی جنگ کے بعد سے اب تک 800 سے زائد اساتذہ شہید اور 3300 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔
احمد النجار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ چند دنوں میں بھی کئی اساتذہ اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ تقریباً ایک ہفتہ قبل استاد احمد ابو عودہ شہید ہوئے، جبکہ ہفتہ 31 اکتوبر کو استاد ضیاء ابو الروس اسکول جاتے ہوئے اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہوگئے۔ اسی روز استاد وائل مسلم نے بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا۔ وہ مغربی غزہ کے عدنان العلمی اسکول میں انگریزی پڑھاتے تھے۔
احمد النجار نے کہا کہ کسی استاد کو نشانہ بنانے کا مطلب صرف ایک معلم کی جان لینا نہیں، بلکہ اسکول، یادداشت اور نئی نسل کے مستقبل کو نشانہ بنانا ہے۔ یہ فلسطینی نسلوں کو تعلیم اور زندگی کے حق سے محروم کرنے کی کوشش ہے۔
وزارتِ تعلیم نے اساتذہ اور طلبہ کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل کو ان کارروائیوں کا مکمل ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ وزارت نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ کے اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ ان جرائم کو رکوانے، ذمہ داروں کا محاسبہ کرنے اور شہریوں و تعلیمی عملے کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے تین برسوں، 2023 سے 2026 کے دوران، غزہ کے تقریباً 97 فیصد اسکولوں کو براہِ راست یا بالواسطہ بمباری سے نقصان پہنچا ہے، جبکہ 87 فیصد اسکولی عمارتیں اس قدر متاثر ہوئی ہیں کہ انہیں دوبارہ تعمیر یا بڑے پیمانے پر مرمت کی ضرورت ہے۔
ان اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 22 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات شہید، 1100 سے زیادہ اساتذہ اور تعلیمی پیشے سے وابستہ افراد جاں بحق اور 194 دانشور، ماہرینِ تعلیم اور محققین شہید ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ 6 لاکھ 50 ہزار سے زائد اسکول جانے والے بچوں اور 90 ہزار یونیورسٹی طلبہ کی تعلیم متاثر ہوئی ہے۔ غزہ کے 17 اعلیٰ تعلیمی ادارے مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ 80 اسکولی عمارتوں پر براہِ راست بمباری کی گئی ہے۔
سرکاری میڈیا آفس کے مطابق غزہ کے تعلیمی شعبے کو پہنچنے والے ابتدائی براہِ راست نقصانات کا تخمینہ تقریباً 4 ارب ڈالر ہے۔

Support Independent Media

Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.

Support Millat Times

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top