کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں اسکولوں کے اندر حجاب، نقاب اور سکھوں کی پگڑی پر پابندی کی تیاری

کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں اسکولوں کے اندر حجاب، نقاب اور سکھوں کی پگڑی پر پابندی کی تیاری
mt-staff

mt-staff

02 November 2026 (Publish: 06:01 PM IST)

آزاد صحافت اور تازہ خبروں کے لیے ملت ٹائمز ایپ سے جڑیں۔

ایپ انسٹال ہے تو کھلے گی، ورنہ Google Play کھلے گا۔
ایپ کھولیں / ڈاؤن لوڈ کریں

مسلم خواتین کے نقاب اور سکھوں کی پگڑی سمیت تمام مذہبی علامات پر پابندی کا منصوبہ، نئی حکومت کے فیصلے پر مسلم تنظیموں اور شہری آزادیوں کے اداروں کی شدید تنقید

کینیڈا کے صوبے کیوبیک کی نئی حکومت نے ابتدائی اسکولوں میں طلبہ کے مذہبی لباس اور مذہبی علامات پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مجوزہ پابندی کے تحت مسلم طالبات کے حجاب و نقاب اور سکھ طلبہ کی پگڑی سمیت تمام نمایاں مذہبی علامات اسکولوں میں ممنوع ہوں گی۔ حکومت کے اس فیصلے پر شہری آزادیوں کے اداروں اور مسلم تنظیموں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے مذہبی آزادی، مساوی تعلیم اور اقلیتوں کے حقوق کے منافی قرار دیا ہے۔

کیوبیک میں حالیہ اکتوبر کے صوبائی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی علیحدگی پسند جماعت پارٹی کیوبیکوا (Parti Québécois) نے اپنے انتخابی منشور میں اسکول کے بچوں کے مذہبی لباس اور نمایاں مذہبی علامات پر پابندی کا وعدہ کیا تھا۔ اقتدار میں آنے کے بعد نئی حکومت نے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا اعلان کردیا ہے۔

صوبے کے وزیر تعلیم ژوئل آرسینو (Joël Arseneau) نے انتخابی وعدے پر عمل درآمد کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ ناقابلِ مذاکرات معاملہ ہے۔ ہمیں اسی کام کے لیے منتخب کیا گیا ہے اور ہم اسے مکمل کرنے کے لیے کام کریں گے۔‘‘

یہ فیصلہ کیوبیک میں مذہبی آزادی پر عائد پہلے سے موجود پابندیوں کے دائرے کو مزید وسیع کرنے کی کوشش ہے۔ اس سے قبل اپریل میں سابقہ حکومت کولیشن ایونیر کیوبیک (CAQ) نے بھی مذہبی سرگرمیوں اور اظہار پر نئی پابندیاں عائد کی تھیں۔ ان پابندیوں کے تحت سرکاری جامعات، حکومت سے مالی امداد حاصل کرنے والے نجی تعلیمی اداروں اور بچوں کی دیکھ بھال کے مراکز میں مذہبی سرگرمیوں پر قدغنیں لگائی گئی تھیں۔ سڑکوں اور پارکوں میں اجتماعی مذہبی سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی۔

کیوبیک میں عوامی مقامات پر مذہبی علامات کے استعمال پر پابندیوں کا سلسلہ 2019 میں شروع ہوا تھا۔ اس وقت متعارف کرائے گئے قانون کے تحت سرکاری ملازمین کی بعض اقسام کو دورانِ ملازمت نمایاں مذہبی علامات پہننے سے روک دیا گیا تھا۔ اس قانون کی زد میں سکھوں کی پگڑی اور مسلم خواتین کا حجاب بھی آیا تھا۔ بعد میں ان پابندیوں کا دائرہ سرکاری اسکولوں کے عملے، سرکاری مالی امداد سے چلنے والے نجی اسکولوں اور بچوں کی نگہداشت کے مراکز کے ملازمین تک بڑھا دیا گیا۔

کینیڈین ایسوسی ایشن آف سول لبرٹیز (CCLA) کی ترجمان اور بنیادی شہری آزادیوں کی ڈائریکٹر انائس بوسییرے میک نیکول (Anaïs Bussières McNicoll) نے حکومتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیوبیک میں مذہبی اظہار پر پابندیوں کا دائرہ مسلسل بڑھایا جا رہا ہے۔ پہلے سرکاری شعبے کے بعض ملازمین کو نشانہ بنایا گیا، پھر سرکاری اسکولوں کے عملے اور دیگر تعلیمی و نگہداشت کے اداروں تک ان پابندیوں کو پھیلا دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر ایسا مسئلہ پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کا حقیقت میں کوئی مسئلہ موجود نہیں۔ اس مرتبہ کیوبیک حکومت نے بچوں کو نشانہ بنایا ہے اور ابتدائی اسکولوں کے ہر طالب علم کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ مختلف مذہبی شناخت رکھنے والے افراد کو قبول نہیں کیا جاتا اور انہیں معاشرے سے الگ سمجھا جاتا ہے۔

دوسری جانب کونسی نیشنل دی کیبیکوا مسلماناں (Conseil National des Québécois Musulmans – CNQM) نے بھی اس فیصلے پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیر تعلیم کے اعلان نے مذہبی آزادی، سرکاری تعلیمی اداروں میں مساوی رسائی اور کیوبیک کے معاشرے میں مذہبی اقلیتوں کے مقام سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

تنظیم کے مطابق اسکولوں کے منتظمین نے بھی خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی پابندیوں سے اسکولوں اور بچوں کے اہل خانہ کے درمیان تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔ بچوں کو مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنانا کسی بھی صورت میں اچھی عوامی پالیسی نہیں ہے۔

کونسی نیشنل دی کیبیکوا مسلماناں کے چیف ایگزیکٹیو اسٹیفن براؤن (Stephen Brown) نے کہا کہ اس پالیسی کے ذریعے بچوں کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ وہ معاشرے کا حصہ نہیں ہیں اور انہیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو بچوں اور ان کے روحانی و مذہبی حق پر حملہ قرار دیا۔

Support Independent Media

Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.

Support Millat Times

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top