جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے محمد علی جوہر یونیورسٹی کے خلاف جاری کارروائی کو سیاسی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ناقابلِ واپسی اقدام سے پہلے قانونی عمل مکمل ہونے دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر تحقیقات کے بعد کسی قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو جائے تو متعلقہ افراد کے خلاف قانون کے مطابق جرمانہ یا دیگر کارروائی کی جا سکتی ہے، لیکن جہاں ہزاروں طلبہ زیرِ تعلیم ہوں، اس تعلیمی ڈھانچے کو منہدم کرنا ہرگز مناسب نہیں۔ ان کے بقول قانون پر عمل درآمد ضرور ہونا چاہیے، مگر تعلیم اور تعلیمی اداروں کا تحفظ بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔
مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اعظم خان ایک سیاسی شخصیت ہیں اور ان سے سیاسی اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن یہ یونیورسٹی مولانا محمد علی جوہر کے نام سے منسوب ہے، جو ہندوستان کے عظیم مجاہدِ آزادی، ممتاز صحافی اور جید عالم تھے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا محمد علی جوہر نے تحریکِ آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانیوں میں شامل رہے اور مہاتما گاندھی کے ساتھ تحریکِ خلافت کی قیادت کی۔ جو لوگ تاریخ سے واقف نہیں، وہ ان کی خدمات سے بھی ناواقف ہیں۔ ان کے نام سے قائم یونیورسٹی کو باقی رہنا چاہیے اور ترقی کرنی چاہیے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ ہزاروں کروڑ روپے مالیت کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنا غلط ہے اور اس طرح کی کارروائی فرقہ واریت اور نفرت پر مبنی سیاست کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے گیان واپی تنازع پر بھی کہا کہ ایسے معاملات کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق عدالتوں کو کرنا چاہیے، اور اگر تمام فریق عدالت کے فیصلے کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہوں تو پھر اس فیصلے پر عمل درآمد بھی ہونا چاہیے۔
مولانا ارشد مدنی یہ گفتگو لکھنؤ میں منعقدہ “فرقہ واریت اور نفرت کے خلاف ہندو مسلم اتحاد کنونشن” سے خطاب کرتے ہوئے کر رہے تھے، جس میں سینئر وکیل اندرا جے سنگھ اور سنکٹ موچن ہنومان مندر کے مہنت پروفیسر وشومبھر ناتھ مشرا بھی شریک ت
Support Independent Media
Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.
Support Millat Times