ہم نفرت کے طوفانوں میں محبت کے چراغ روشن کرنا چاہتے ہیں، یہ راستہ مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں: مولانا ارشد مدنی

ہم انتخابات نہیں لڑتے بلکہ فرقہ واریت کا ماحول بدلنا چاہتے ہیں: مولانا ارشد مدنی
mt-staff

mt-staff

18 July 2026 (Publish: 01:42 PM IST)

لکھنؤ میں جمعیۃ علماء اتر پردیش کے زیرِ اہتمام ہندو مسلم اتحاد کانفرنس، مذہبی رہنماؤں، دانشوروں اور قانونی ماہرین کی شرکت، فرقہ واریت اور نفرت کے خلاف مشترکہ آواز

جمعیۃ علماء اتر پردیش کے زیرِ اہتمام ہفتہ کو لکھنؤ کے اٹل بہاری واجپائی سائنٹفک کنونشن سینٹر میں “فرقہ واریت اور نفرت کے خلاف ہندو مسلم اتحاد کانفرنس” کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف مذاہب کے مذہبی رہنماؤں، دانشوروں، سماجی شخصیات اور قانونی ماہرین نے شرکت کی۔ کانفرنس سے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی، سنکٹ موچن ہنومان مندر، وارانسی کے مہنت ڈاکٹر وشومبھر ناتھ مشرا، سپریم کورٹ کی سینئر وکیل اندرا جے سنگھ سمیت متعدد مقررین نے خطاب کیا۔

کانفرنس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے مولانا ارشد مدنی نے ملک کے موجودہ سیاسی اور سماجی حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے فرقہ پرست طاقتوں کے نشانے پر صرف مسلمان تھے، لیکن گزشتہ چند برسوں میں نفرت کی سیاست نے مسلمانوں کے ساتھ اسلام کو بھی نشانہ بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق نفرت کی اس سیاست نے ملک کو ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سے آگے کا راستہ دکھائی نہیں دیتا، اس لیے اس ماحول کو بدلنے کے لیے ہر سطح پر عملی کوششیں کرنا ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس دراصل ایک ملک گیر تحریک کا آغاز ہے اور اس تبدیلی کے لیے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے انصاف پسند افراد کو ساتھ لانا ناگزیر ہے۔ ان کے بقول، “ہم نفرت کے طوفانوں میں محبت کے چراغ روشن کرنا چاہتے ہیں۔ یہ راستہ مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔

مولانا مدنی نے واضح کیا کہ جمعیۃ علماء ہند ایک دینی تنظیم ہے، اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ نہ ہم انتخابات لڑتے ہیں اور نہ کسی کو انتخابات لڑواتے ہیں، بلکہ ہمارا مقصد ملک میں اتحاد، بھائی چارے اور باہمی اعتماد کا پیغام عام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نفرت صرف تباہی لاتی ہے اور آج پورا ملک اس کے نتائج اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔

انہوں نے جمعیۃ علماء ہند کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آزادی سے قبل اور آزادی کے بعد بھی تنظیم نے ہندو مسلم اتحاد کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل کام کیا ہے۔ انہوں نے کیرالہ اور پنجاب کے سیلاب متاثرین کی امداد، متاثرہ خاندانوں کے لیے مکانات کی تعمیر اور آسام میں این آر سی کے دوران تقریباً چالیس لاکھ خواتین کی شہریت کے معاملے میں سپریم کورٹ میں قانونی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ نے ہمیشہ مذہب سے بالاتر ہو کر انسانیت کی بنیاد پر خدمات انجام دی ہیں۔مولانا مدنی نے دہلی میں طلبہ کے احتجاج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بار بار ہونے والے پرچہ لیک نے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے، اس لیے ایسے کمزور نظام کو تبدیل کیا جانا چاہیے جو امتحانات کے پرچے بھی محفوظ نہ رکھ سکے۔

انہوں نے محمد علی جوہر یونیورسٹی کے معاملے پر کہا کہ اگر کسی عمارت کی تعمیر نقشے کی منظوری کے بغیر ہوئی ہے تو اس پر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، مگر پوری عمارت کو ملبے کا ڈھیر بنا دینا درست نہیں، کیونکہ اس سے ہزاروں طلبہ کا مستقبل متاثر ہوگا۔ ان کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے نفرت کی سیاست کی وجہ سے ایک مخصوص طبقے کو ہر معاملے میں قصوروار سمجھا جا رہا ہے، چاہے وہ کوئی اچھا کام ہی کیوں نہ کرے۔

کانفرنس کے مہمانِ خصوصی، سنکٹ موچن ہنومان مندر کے مہنت ڈاکٹر وشومبھر ناتھ مشرا نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں سب کا خون شامل ہے اور اس مٹی سے کسی کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایسے حالات اس لیے پیدا ہوئے ہیں کہ لوگ سچ بولنا چھوڑ چکے ہیں اور ہر شخص دوسرے کے بولنے کا انتظار کر رہا ہے۔ اب ملک میں ہونے والی ناانصافی کے خلاف سب کو آواز اٹھانی ہوگی۔ انہوں نے مولانا مدنی کی اس مہم کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جہاں بھی ضرورت ہوگی، وہ اس تحریک کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

سپریم کورٹ کی سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے کہا کہ یہ کانفرنس اتحاد، بھائی چارے اور آئینی اقدار کا مضبوط پیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین نے تمام شہریوں کو مساوی حقوق دیے ہیں اور کسی کے ساتھ امتیاز کی اجازت نہیں دیتا۔ ان کے مطابق ملک کے حالات پر انہیں اکثر تشویش رہتی تھی، مگر مختلف مذاہب کے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر دیکھ کر امید پیدا ہوئی ہے کہ اس ملک کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کی رہنمائی کرنے والا دانشور طبقہ خاموش ہے، جو انتہائی تشویشناک بات ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے نائب صدر مولانا اسجد مدنی نے کانفرنس کا اعلامیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس تحریک کا مقصد ملک سے فرقہ واریت، نفرت اور باہمی دوریوں کا خاتمہ اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیب، محبت، رواداری اور بھائی چارے کی روایت کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس مہم کے تحت ملک بھر میں مختلف مذاہب کے علماء، مذہبی رہنما، دانشور، وکلا، سماجی کارکن، نوجوان، خواتین اور دیگر بااثر شخصیات کی شرکت سے پروگرام منعقد کیے جائیں گے تاکہ ملک میں محبت، بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔

کانفرنس کے اخیر میں جمعیۃ علماء اتر پردیش کے صدر مولانا اشہد رشیدی نے تمام غیر مسلم مہمانوں، دانشوروں اور سماجی شخصیات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ آج کا اجتماع اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ محبت، قومی یکجہتی، بھائی چارہ اور باہمی احترام ہی دلوں کو جوڑنے کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اتحاد کسی وقتی سیاسی ضرورت کا نتیجہ نہیں بلکہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب اور صدیوں پر محیط انسانی اقدار پر قائم ہے۔

Support Independent Media

Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.

Support Millat Times

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top