مساجد کے خلاف بلڈوزر کارروائیاں بند کی جائیں، مدارس پر پابندی کی کوششیں روکی جائیں: جمعیۃ علماء ہند

mt-staff

mt-staff

30 October 2026 (Publish: 04:06 PM IST)

آزاد صحافت اور تازہ خبروں کے لیے ملت ٹائمز ایپ سے جڑیں۔

ایپ انسٹال ہے تو کھلے گی، ورنہ Google Play کھلے گا۔
ایپ کھولیں / ڈاؤن لوڈ کریں

جمعیۃ علماء ہند کی مجلس منتظمہ کا اہم اجلاس، مدارس کے تحفظ، مساجد و دیگر اسلامی مقامات کی مسماری اور یکساں سول کوڈ کے خلاف تین اہم قراردادیں منظور؛ یو سی سی کو مکمل طور پر مسترد کردیا

جمعیۃ علماء ہند کی مجلس منتظمہ کا سالانہ اجلاس جمعہ کو ہریانہ کے ضلع نوح (میوات) میں واقع ڈی ایل ایف اسپرنگ فیلڈ، سہسولا پٹی، پپیکا میں شروع ہوا۔ اجلاس کا آغاز جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کے پرچم کشائی سے ہوا۔ اس اجلاس میں ملک بھر سے مجلس منتظمہ کے تقریباً دو ہزار ارکان، ممتاز شخصیات اور نامور علمائے کرام شرکت کر رہے ہیں۔

اجلاس کے ابتدائی سیشن میں تین اہم قراردادیں منظور کی گئیں۔ ان کا تعلق اسلامی مدارس کے تحفظ، ملک بھر میں مساجد، عیدگاہوں اور دیگر اسلامی مذہبی مقامات کے خلاف مسماری کی کارروائیوں کو روکنے اور یکساں سول کوڈ سے تھا۔ اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے ملک میں مسلمانوں کی موجودہ صورت حال پر مختصر روشنی ڈالی۔ ان کا تفصیلی خطاب بعد میں ہوگا۔

مدارس کو بدنام کرنے اور ہراساں کرنے کی کوششوں پر تشویش

مدارس کے تحفظ سے متعلق قرارداد میں منظوری کے نام پر مدارس کو ہراساں کرنے، ان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کرنے اور اقلیتی تعلیمی اداروں کو تنازعات میں گھسیٹنے کی کوششوں پر شدید تشویش ظاہر کی گئی۔ قرارداد میں حکومت ہند اور متعلقہ قانونی اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ ان کارروائیوں کو فوری طور پر روکا جائے اور ہندوستانی آئین کے تحت مدارس کو حاصل حقوق اور تحفظات کی ضمانت دی جائے۔

ساتھ ہی مدارس کے منتظمین کو بھی ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے اداروں کی زمین کے کاغذات، منظور شدہ نقشہ جات، ہاسٹلوں میں رہنے والے طلبہ کے شناختی ریکارڈ اور مالی حسابات کے آڈٹ سے متعلق دستاویزات مکمل شفافیت کے ساتھ مرتب کرکے محفوظ رکھیں۔

مساجد، عیدگاہوں اور درگاہوں کو نشانہ بنانے پر سخت تشویش

مساجد اور دیگر اسلامی مذہبی مقامات کے تحفظ سے متعلق دوسری قرارداد میں ملک بھر میں مساجد، عیدگاہوں، درگاہوں اور دیگر مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

قرارداد میں واضح کیا گیا کہ مساجد محض عمارتیں نہیں ہیں، بلکہ وہ مسلمانوں کے ایمان اور اجتماعی شناخت کی علامت ہیں۔ یہ ہندوستانی آئین کی دفعات 25 اور 26 کے تحت دی گئی مذہبی آزادی کا عملی اظہار بھی ہیں۔

عبادت گاہوں کے تحفظ سے متعلق 1991 کے قانون پر عمل کا مطالبہ

جمعیۃ علماء ہند کی مجلس منتظمہ نے عبادت گاہوں سے متعلق 1991 کے قانون (پلیسز آف ورشپ ایکٹ) کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کا بنیادی مقصد مذہبی مقامات کی حیثیت برقرار رکھنا اور تاریخی تنازعات کو دوبارہ کھولنے سے روکنا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے بھی ایودھیا فیصلے میں اس قانون کو آئین کے بنیادی سیکولر ڈھانچے کا اہم حصہ تسلیم کیا ہے۔

قرارداد میں ماتحت عدالتوں کی جانب سے عبادت گاہوں کے سروے کے احکامات جاری کرنے پر تشویش ظاہر کی گئی اور کہا گیا کہ ان احکامات میں مذکورہ قانون کی روح کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

اس سلسلے میں سنبھل کی تاریخی شاہی جامع مسجد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ یک طرفہ سروے کے حکم کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال نے امن و امان کو بری طرح متاثر کیا۔

جمعیۃ علماء ہند کی مجلس منتظمہ نے حکومت ہند اور اعلیٰ عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے 12 دسمبر 2024 کے عبوری حکم پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور عبادت گاہوں سے متعلق 1991 کے قانون کے خلاف دائر کیے جانے والے نئے دعووں کو ابتدائی مرحلے ہی میں خارج کیا جائے۔

قانونی کارروائی کے بغیر مساجد کی مسماری بند کی جائے

قرارداد میں بلدیاتی، ریونیو اور ترقیاتی اداروں کی جانب سے مساجد کے خلاف مسماری کی کارروائیوں کو روکنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ کہا گیا کہ جب تک قانونی طریقۂ کار مکمل نہ ہو اور متاثرہ فریق کو اپنا موقف پیش کرنے کا منصفانہ موقع نہ دیا جائے، ایسی کارروائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے افسران کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

اجلاس کا ایک اہم فیصلہ یہ بھی ہے کہ جمعیۃ علماء ہند کی تمام صوبائی، ضلعی اور تحصیل سطح کی اکائیاں مرکزی جمعیۃ کی جانب سے طے کردہ ایک ہی تاریخ اور مقررہ وقت پر متعلقہ حکام کو اپنے مطالبات پر مشتمل یادداشتیں پیش کریں گی۔

اس کے علاوہ جمعیۃ کی تمام اکائیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مساجد کی انتظامی کمیٹیوں کو مسجد کی زمین سے متعلق قانونی دستاویزات، خسرہ و کھتونی کے ریکارڈ، بلدیاتی ٹیکس اور دیگر ضروری کاغذات کی جانچ اور تکمیل میں مدد فراہم کریں۔ یہ کام آئندہ چھ ماہ کے اندر مکمل کیا جائے گا۔

یکساں سول کوڈ کو مکمل طور پر مسترد کردیا

یکساں سول کوڈ سے متعلق تیسری قرارداد میں اس قانون کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے اپنی بنیادی نوعیت ہی میں امتیازی قرار دیا گیا۔

واضح رہے کہ 29 اکتوبر کو جمعیۃ علماء ہند کے مرکزی دفتر، نئی دہلی کے مدنی ہال میں مجلس عاملہ کا اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں مجلس منتظمہ کے سامنے پیش کی جانے والی مختلف قراردادوں کے مسودوں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ مجلس عاملہ سے منظور شدہ قراردادیں جمعہ کو مجلس منتظمہ کے سامنے پیش کی گئیں۔

اجلاس کے آغاز میں جمعیۃ علماء ہریانہ، پنجاب و ہماچل پردیش کے جنرل سکریٹری مولانا محمد یحییٰ کریمی نے استقبالیہ کلمات پیش کیے۔ اس کے بعد جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے گزشتہ اجلاس کی کارروائی پڑھ کر سنائی اور سکریٹری کی رپورٹ پیش کی۔

اس موقع پر معروف شاعر قاری احسان محسن نے اپنا کلام بھی پیش کیا، جب کہ جمعیۃ علماء ہند (شمالی ہند) کے ناظم تنظیم مولانا مفتی ذاکر حسین قاسمی نے تعزیتی قرارداد پیش کی۔

یہ اجلاس 31 اکتوبر کی دوپہر تک جاری رہے گا۔ اس دوران ملک کی موجودہ صورت حال اور مسلمانوں کو درپیش سماجی، تعلیمی، ملی اور تنظیمی مسائل سے متعلق مزید اہم قراردادیں پیش کی جائیں گی۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کا اہم خطاب بھی اجلاس کا حصہ ہوگا۔

Support Independent Media

Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.

Support Millat Times

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top