نئی دہلی(ملت ٹائمزایجنسیاں)
کیرالہ لو جہاد معاملے میں سپریم کورٹ نے لڑکی کے باپ کو حکم دیا ہے کہ وہ 27 نومبر کو اگلی سماعت پر اس عدالت میں پیش کرے، عدالت نے کہا کہ لڑکی سے بات چیت کی جائے گی اور اس کے دماغی توازن کا جائزہ لینے کے بعد اس کی رائے کا اعتبار ہوگا،اس معاملہ میں کیرالہ ہائی کورٹ نے ہادیہ کی مسلمان لڑکے کے ساتھ شادی کومنسوخ کرتے ہوئے اسے باپ کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے آج کہاکہ ہادیہ بالغ ہوچکی ہے اور اس کی خواہش جاننا ضروری ہے، عدالت نے کہا کہ بالغ ہونے کی وجہ سے، لڑکی کسی کے ساتھ جانے کے لئے آزاد ہے، این آئی اے نے اس کے جواب میں کہا کہ اس کیرالہ میں اس طرح کے 89 معاملات میں ایک ہی طرح کا خاص انداز دیکھنے کو ملاہے ۔
ایڈشنل سالیسٹر جنرل مندر سنگھ نے بھی سپریم کورٹ سے کہا کہ این آئی اے کی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ لڑکیو ںکو ٹارگیٹ کرنے اور جہاد کے لئے ان کو کٹر بنانے میں ایک منظم مشینری شامل ہے، سنگھ نے کہا کہ جب کسی شخص کو اتنا ورغلا دیا جائے کہ وہ اپنے مذہب اور والدین سے نفرت کرنے لگے تو یہ کہنا ٹھیک نہیں کہ وہ اپنی آزاد مرضی سے ایسا کر رہا ہے، اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ 24 سال کی لڑکی سے کھلی عدالت میں بات کریں گے اور اس کی ذہنی حالت کا بھی اتبدائی تجزیہ کیا جائے گا ،کورٹ نے کہا کہ اگر یہ پایا جاتا ہے کہ لڑکی کوبہلایاگیا ہے تو وہ مناسب اتھارٹی کی طرف سے اس کی وسیع تحقیقات کا حکم دے گی۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر ہادیہ نے دوران طالب علمی میں اپنی مرضی سے اسلام قبول کرنے کے بعد کیرالاکے ہی ایک نوجوان محمد شفیع جہاں سے شادی کی تھی جسے کیرالاہائی کورٹ نے لوجہاد کامعاملہ قراردیکر مسترد کردیاتھا
ہادیہ مسلسل کئی ماہ سے نظر بندہے اور اسی کسی سے ملنے کی اجازت نہیں ہے ،یہ پہلا موقع ہے جب سپریم کورٹ نے اسے براہ راست عدالت میں طلب کیا ہے اور اس کی رائے جاننے کی کوشش کی ہے ۔





