اجودھیا معاملےکے حل میں شری شری روی شنکر کی ثالثی نا قابل قبول:ویدانتی

سنبھل (ملت ٹائمزایجنسیاں)
رام مندر تحریک سے وابستہ رہے بی جے پی کے سابق ایم پی رام ولاس ویدانتی نے اجودھیا معاملے کے حل میں ‘آرٹ آف لیونگ‘کے بانی شری شری روی شنکر کی ثالثی کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔کالکی فیسٹیول میں حصہ لینے آئے رام جنم بھومی ٹرسٹ کے رکن ویدانتی نے کہا کہ شری شری اس تحریک سے کبھی منسلک نہیں رہے اس لئے ان کی ثالثی منظور نہیں۔ویدانتی نے دہرایاکہ شری شری روی شنکر کی ثالثی کسی بھی حالت میں قبول نہیں کی جائے گی۔رام جنم بھومی تحریک رام جنم بھومی ٹرسٹ اور وشو ہندو پریشد نے لڑا ہے تو مذاکرات کا موقع بھی ان دونوں تنظیموں کو ملنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ شری شری روی شنکر کبھی بھی رام جنم بھومی تحریک سے وابستہ ہی نہیں رہے تو وہ کس طرح ثالثی کر سکتے ہیں۔ویدانتی نے کہاکہ جس نے آج تک رام للا کے درشن نہیں کئے ہیں، وہ ثالثی کس طرح کر سکتا ہے۔ہم اس تحریک کے لئے جیل گئے اور مقدمے لڑ رہے ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ شری شری روی شنکر معاملے کو حل کرنے کی اہلیت کہاں رکھتے ہیں؟ پہلے انہیں (شری شری) رام للا کے درشن اور پوجاکرنی چاہئے۔انہوں نے کہا ہم چاہتے ہیں کہ اس مسئلے پر مسلم مذہب کے رہنما آگے آئیں اور بیٹھ کر بات کریں۔ہم چاہتے ہیں کہ ہندو اور مسلم بیٹھ کر اس معاملے کا حل نکالیں۔آپسی رضامندی کی بنیاد پر مندر کی تعمیر ہو۔قابل ذکر ہے کہ آرٹ آف لیونگ فا¶نڈیشن نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ شری شری روی شنکر رام مندر تنازعہ کا عدالت سے باہر حل تلاش کرنے میں مدد کے لئے نرموہی اکھاڑے کے آچاریہ رام داس سمیت کئی اماموں اور سادھو سنتوں کے رابطے میں ہیں۔