وسیم رضوی توہین عدالت کے ملزم،بابری مسجد معاملہ پر شیعہ رہنما اور سادھوی پراچی کے بیانات سے نوجوان فضلاءسخت نالاں

دیوبند(ملت ٹائمزسمیر چودھری)

بابری مسجد کے معاملہ میں عدالت کے باہر مصالحت کی بے فائدہ کوششوں اور شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی کے بیان پر نوجوان فضلاءنے بھی ناراضگی کااظہارکیاہے،حالانکہ اس سلسلہ میں مسلم پرسنل لاءبورڈ کی جانب کی جانب سے واضح وضاحت آچکی ہے جس میں کہاگیاہے کہ بورڈ کے لئے صرف عدالت کا فیصلہ کی قابل قبول ہوگا۔ وسیم رضوی کے بیان پر تنظیم ابنائے دارالعلوم کے جنرل سکریٹری مفتی یاد الٰہی قاسمی نے کہا کہ بابری مسجد سمیت کوئی بھی مسجد ہو وہ اللہ کا گھر ہے، وسیم رضوی جیسے لوگ سیاسی مفاد کے سبب اس طرح کے مسئلے کو گرم رکھنے کے لئے بیا نات دے کر اپنے آقاو¿ں کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، رضوی کو یہ فیصلہ کرنے کا حق نہیں ہے کہ مندر تعمیر کیا جانا چاہئے یا نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ رضوی جیسے لوگ ملک کی عدلیہ کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر غور ہونے کے باوجود بیان بازی کر سیاسی روٹیاںسینکنا غلط ہے۔ کتب خانہ حسینہ کے ڈائریکٹر مولانا قدر الزماں قاسمی کیرانوی نے کہا کہ شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی کا بیان ان کی اسلام مخالف سوچ کو ظاہر کرتاہے۔انہوں نے کہا کہ وسیم رضوی جیسے لیڈر آئے دن اشتعال انگیز تقریر یں کرکے ملک کے عوام کو گمراہ کرتے رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کے مسلمان عدلیہ میں مکمل اعتماد رکھتے ہیں اور عدالت کا جو بھی فیصلہ ہوگا اسے تسلیم کیاجائے گا۔ جامعة فاطمة الزہرہ دیوبند کے مہتمم مولانا لطف الرحمن صادق قاسمی نے کہاکہ وسیم رضوی پوری قوم کے ٹھیکیدار نہیں ہیں،ا ن کا بیان ان کی اپنی رائے ہوسکتی ہے وہ مسلمانوں کے قائد نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ ایودھیا میں مندر تعمیر کیا جائے گا یا مسجد یہ مباحثہ اور مصالحت کا راستہ پوری طرح فضول ہے ،عدالت کاجو بھی فیصلہ ہوگا وہ تمام فریق کو ماننا چاہئے،مسلم پرسنل لاءبورڈ کی جانب سے یہ بار بار کہا جاچکاہے عدالت کا فیصلہ تسلیم کیاجائے گامگر دوسرا فریق زبردستی مندر بنانے کے لئے بضد ہے جو ٹھیک نہیں ہے ،اس معاملہ کو پوری طرح بند کرکے عدالت کے فیصلہ کا انتظار کرنا چاہئے۔