دارالعلوم دیوبند کی ہیئت حاکمہ مجلس شوریٰ کا بجٹ اجلاس کل ،الیکٹرونک میڈیا کے ذریعہ دارالعلوم کے فتوو¿ں کو متنازعہ بنانے اور نئے راکین شوریٰ کی تقرری کو لیکر شوریٰ کے فیصلوں کاانتظار

دیوبند(ملت ٹائمزسمیر چودھری)

حسب روایت عالم اسلام کی ممتاز دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کا دوروزہ بجٹ اجلاس آج سے شروع ہوگا ۔ ملک کے موجودہ نامساعد حالات اور الیکٹرونک میڈیاکے ذریعہ بلاوجہ مدارس و فتوو¿ں کو ایشوز بنانے،نئے اراکین شوریٰ کی نامزدگی اور ادارہ کے بجٹ و کارکنان کی تنخواہوں میں اضافہ جیسے کئی اہم فیصلوں کے سبب اس اہم اجلاس پرعلمائ،کارکنان دارالعلوم دیوبند اور میڈیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ آج سے مہمان خانہ میں منعقد ہونے والے اجلاس شوریٰ میںادارہ کے بجٹ میں اضافہ کیا جاسکتاہے اور تعلیمی نظام کو مزید مستحکم بنانے سمیت کئی اہم تجاویز کو منظور کیا جائے گا۔ گزشتہ سال نومبر میں نوٹ بندی کے دوران منعقد بجٹ شوریٰ کی میٹنگ میں کئی فیصلوں کو وقتی طورپر ملتوی کردیا گیا تھا اور اساتذہ وکارکنان کی تنخواہوں کے بابت ایک سہ رکنی کمیٹی کی تشکیل دی گئی تھی، جس کی رپورٹ بھی آج شوریٰ میں پیش کئے جانے کی توقع ہے ۔ تنخواہوںکا اضافہ کمیٹی کی رپورٹ پر منحصر ہے اسلئے ملازمین کو بھی شوریٰ کے فیصلہ کا شدت سے انتظار ہے۔ وہیں کئی اراکین شوریٰ کی نشستیں خالی ہیں جن پر نئے اراکین کی نامزدگی کی جاسکتی ہے۔ واضح رہے کہ مفتی نظام الدین پٹنہ،مولانا سید خلیل احمد میاں حسین دیوبند اور مولانا ازہر رانچی کاانتقال ہوگیا ہے۔وہیں نئے ناظم تعلیمات کی تقرری بھی ہوسکتی ہے۔ گزشتہ تعلیمی اجلاس میں میں پہلی مرتبہ ممتاز عالم دین مولانا سید رابع حسنی ندوی نے شرکت کی تھی،اس مرتبہ بھی وہ شریک ہوسکتے ہیں۔اجلاس میں رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل ، دارالعلوم دیوبند کے سابق مہتمم مولانا غلام محمد وستانوی،مولانا عبدالعلیم فاروقی،مولانا اسماعیل مالیگاو¿ں، مولانا عبدالعلیم فاروقی،مولانا اشتیاق احمد،مولانا ملک ابراہیم،مولانا حکیم کلیم اللہ،مولانا رحمت اللہ کشمیری،مولانا انوارالرحمن اور مفتی ابوالقاسم نعمانی، مفتی سعید پالنپوری کی شرکت متوقع ہے