کانگڑا /ہماچل پردیش(ملت ٹائمزآئی این ایس انڈیا)
ہماچل پردیش کی یخ بستہ وادیوں میں انتخابی حدت کا آغاز ہوچکا ہے ۔ ہفتہ کو انتخابی مہم کے لئے پہنچے وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگڑا کے رےت میں خود کو سردار پٹیل کا شاگرد بتایا۔ انہوں نے نوٹ بندی کے ایک سال مکمل ہونے پر کانگریس کی طرف سے یوم سیاہ منانے کے حوالے سے کہا کہ پتلے پھونک کر کانگریس انہیں روک نہیں پائے گی۔ پی ایم مودی نے کہا کانگریس 8 نومبر کو میرے پتلے پھونکے گی وہ اس لیے ناراض ہے، کیونکہ میں بدعنوانی سے لڑ رہا ہوں۔ یہی نہیں کانگریس پر جم کر حملہ بولتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس نے انتخابات سے پہلے ہی میدان چھوڑ دیا ہے اور کانگریس کے سینئر لیڈر ہماچل پردیش میں انتخابی مہم میں بھی حصہ نہیں لے رہے ہیں اور وزیر اعلی ویر بھدر سنگھ کو ان کی قسمت کے بھروسے چھوڑ دیا گیا ہے ۔ پی ایم مودی نے ہماچل میں بی جے پی کے لئے تین چوتھائی اکثریت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کا موازنہ دیمک سے کیا اور کہا کہ اس دیمک کا مکمل طور خاتمہ کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جو لوگ فطری لٹیرے تھے اور آج انہیں لوٹی ہوئی رقم واپس کر نی پڑ رہی ہے ۔ پی ایم مودی نے تنقید کے تیر چلاتے ہوئے کہا کہ کانگریس کو اس کے گناہوں کا پھل مل رہا ہے۔ عمل ہی کچھ ایسا تھا کہ لوگ آج اس سے ناراض ہیں ۔ پی ایم مودی نے اپنے زعم میں کہا کہ مجھے ہماچل پردیش کی وادیوں میں بھی کمل ہی کمل نظر آرہا ہے۔





