نئی دہلی(ملت ٹائمزپریس ریلیز)
متحدہ عرب امارت نے کہا ہے کہ ہندوستانی مسلمان اپنے وطن کے تئیں وفادار ہیں اور دہشت گردی کو انہوں نے پنپنے نہیں دیا ہے۔ان خیالات کا اظہار آج ابوظبی(متحدہ عرب امارت)میں سرکاری طورپرقائم دہشت گردی مخالف تنظیم ’ہدایہ‘کے ایک اعلی سطحی وفد نے کیا۔اس وفد نے آج انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میںایک خصوصی مذاکرہ میں حصہ لیا۔ہدایہ کے سربراہ ڈاکٹر علی راشد النعیمی نے کہا کہ اس وقت ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ انتہاپسندخیالات ورجحانات کے خلاف میدان میں آئے ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے اسلام کو ہائی جیک کرلیا ہے اور یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اسلام کا دفاع کریں۔انہوں نے کہا کہ آج جب غیر مسلم مسجدوں سے اللہ اکبر کی صدا سنتے ہیں تو گھبراجاتے ہیںکہ معلوم نہیں اب کیا ہونے والا ہے۔جبکہ اللہ اکبر کی صدا سے دنیاکو سکون ملنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ یہ علماءکی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ مسلمانوں کو اس صورت حال سے آگاہ کرتے رہیں۔انہوں نے مسلمانوں کی نئی نسل کو اس سلسلہ میں آگاہ کرنے پر سخت زور دیا۔وفد کے دوسرے رکن اور ہدایہ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرمقصود کروسے نے ہدایہ کی عالمی سرگرمیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت عرب ممالک میں60فیصد سے زیادہ نوجوان 25برس یا اس سے بھی کم عمر کے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو نوجوان انتہاپسندانہ سرگرمیوں میں پکڑے جاتے ہیں ان کے بچوں کی اصلاح کی فکر بھی کرنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ہم مختلف محاذوں پر نوجوانوں کی مناسب تربیت کر رہے ہیں اور انہیں اسلام کے ان دشمنوں کے بارے میں آگاہ کر رہے ہیں۔۔وفد کا استقبال کرتے ہوئے آئی آئی سی سی کے صدر سراج الدین قریشی نے کہا کہ ہندوستان میں 200ملین سے زائد مسلمان ٓآباد ہیں لیکن خدا کا شکر ہے کہ القاعدہ یا داعش جیسی دہشت گر دجماعتوں کو یہاں پنپنے کا موقع نہیں دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں حکومت اور خود وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے بھی مسلمانوں کی تعریف کی ہے۔انہوں نے اس موقع پر اپنا پرانا موقف دوہرایا کہ دہشت گردوںسے یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ آخر وہ کیوں قتل وغارت گری مچاتے ہیں۔ پروگرام کی نظامت مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپورکے وائس چانسلر پروفیسر اخترالواسع نے کی۔آئی آئی سی سی کے امام وخطیب قاری حفظ الرحمن نے تلاوت کلام پاک سے پروگرام کا آغاز کیا۔ مولانا اسرارالحق قاسمی(ایم پی) نے کہا کہ ہندوستان میں دہشت گردی اس لئے نہیں پنپ سکتی کہ یہاں کے مسلمانوں نے قرآن کو سمجھا ہے۔انہوں نے ہندوستان کی اکثریت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ خراب حالات میں بھی ہندوبھائی ہمارا ساتھ دیتے ہیں اور چند مٹھی بھر لوگ ماحول کوپراگندہ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے یہاں پاﺅں نہ جماپانے کا ایک بڑا سبب دینی مدارس کا وجود بھی ہے۔مفتی محمد مکرم احمد(شاہی امام مسجد فتح پوری)‘مولانا محمود مدنی(جمعیت علماءہند) اور مولانا علی اصغر امام مہدی سلفی (جماعت اہل حدیث)نے کہا کہ علماءکرام نے دہشت گردی کے خلاف وقتاً فوقتاً فتاوی جاری کئے ہیںاور وہ اس طرح کی کسی بھی سرگرمی کی تائید نہیں کرتے۔سابق چیف الیکشن کمشنرایس وائی قریشی نے کہا کہ دہشت گردی کی ابتدا 1979میں اس وقت سے ہوئی جب روس نے افغانستان میں مداخلت کی اور امریکہ نے پاکستان کی مددسے مجاہدین کو تیار کیا۔انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے تک دنیا میں امن وسکون قائم تھا۔جن دوسری ممتاز شخصیات نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ان میںایچ آر خان سہیل‘مشتاق احمدایڈوکیٹ‘جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر پروفیسرسید احتشام حسنین‘ اور پروفیسرریاض پنجابی کے نام شامل ہیں۔اس موقع پر‘ابراراحمد‘شرافت اللہ‘محمد شمیم‘اعجاز حیدر رضوی‘احمد رضا‘قمر احمد‘غلام رسول دہلوی اور دیگر کئی ممتاز شخصیات نے بھی شرکت کی۔





