معروف عالم دین مولانا اسرار الحق قاسمی سمیت چھ نئی شخصیات دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوری کے اراکین میں شامل، علمی حلقوں میں خوشی کی لہر

دیوبند نئی دہلی(ملت ٹائمز )
ایشیا کی عظیم دینی درس گاہ دارالعلوم دیوبند نے اپنی ہیت حاکمہ یعنی مجلس شوری میں آج چھ نئی شخصیات کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،یہ چھ نئے لوگ دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوری کے رکن ہوں گے تاہم یہ چھ نئی شخصیا ت کون ہیں اس بارے میں دارالعلوم دیوبند نے کوئی وضاحت نہیں کی ہے ،اپنی ویب سائٹ پر بھی دارالعلوم دیوبند نے صرف اتنا لکھاہے کہ مجلس شوری میں چھ اراکین کی جگہ خالی ہوگئی تھی جس کیلئے آج چھ نئے ناموں کا اتفاق رائے سے انتخاب کیا گیاہے ۔
دیگرذرائع سے ملت ٹائمز کو ملی خبر کے مطابق نئے اراکین میں بہار سے مولانا اسرارالحق قاسمی ،دیوبند سے ڈاکٹر سید انظر حسین ،راجستھان سے مولانا محمود ،گجرات سے مولانا نظام الدین خاموش اور بنگال سے مولانا عبد الحئی شامل ہیں ۔ جبکہ چھٹی شخصیت کے نام کے بارے میں اب تک کوئی اطلاع نہیں مل سکی ہے ۔بعض ذرائع یہ معلوم ہواہے کہ چھ کے بجائے پانچ ہی نئے اراکین منتخب ہوئے ہیں۔
ملت ٹائمز نے اس سلسلے میں دارالعلوم دیوبند کے ترجمان جناب اشرف عثمانی سے رابطہ کیا تو انہوں نے نام بتانے سے انکار کیا اور کہاکہ ابھی کسی نومنتخب رکن کا نام ظاہر نہیں کیا جاسکتاہے ،دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی سے کوشش کے باوجود رابطہ نہیں ہوسکا،دیوبند کے صحافیوں کو بھی اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے ۔دوسری جانب سوشل میڈیا پر مولانا اسرارالحق قاسمی کے رکن شوری بنائے جانے کی خبر گردش کررہی ہے اس سلسلے میں ملت ٹائمز نے جب مولانا کے قریبی اور آل انڈیا تعلیمی وملی فاﺅنڈیشن کے سکریٹری مولانا نوشیر سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایاکہ ہمیں بھی وہاٹس ایپ سے ہی اطلاع ملی ہے ،ابھی تک دارالعلوم دیوبند کی جانب سے کوئی لیٹر یا فو ن موصول نہیں ہواہے تاہم انہوں نے بڑے وثوق کے ساتھ کہاکہ مولانا کا رکن شوری منتخب کیا جانا یقینی ہے ۔
سوشل میڈیا پر ایک طرف جہاں مولانا اسرا رالحق قاسمی کو رکن شوری بنائے جانے پر خوشی کا اظہار کیا جارہاہے وہیں کچھ لوگوں کا یہ بھی کہناہے کہ اگر دس پندرہ سال پہلے انہیں رکن منتخب کیا جاتا تو اس کی افادیت دوبالاہوتی ۔