علامہ اقبال شاعر سے زیادہ  ایک مفکر اور فلسفی تھے، یوم اردو پر محبان اردو یا خراج عقیدت

دیوبند (ملت ٹائمز/سمیر چودھری)
شاعر مشرق علامہ اقبال کے یوم پیدائش 9 نومبر کے موقع پر دیوبند کے معروف تعلیم نسواں کے ادارہ ’پبلک گرلز انٹر کالج دیوبند‘ میں یوم اردو سے متعلق ایک شاندار پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر ادارہ کے منتظمین، اساتذہ اور طالبات نے علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کے حالات زندگی ان کی شاعری میں پوشیدہ پیغامات اور اردو کے حوالہ سے ان کی عظیم خدمات کا تفصیلی ذکر کیا گیا اور ان کے پیغامات کو عام کرنے کا عہد کیا۔ اس موقع پر ادارہ کے بانی و سرپرست مولانا حسیب صدیقی نے طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبال اردو کے عظیم شاعر ہیں جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعہ اردو کی عظیم خدمات انجام دیں اس لئے ان کے یوم پیدائش کو ہم یوم اردو کے طور پر مناتے ہیں۔ اقبال نے انسان کو زندہ رہنے، غیرت وحمیت کے ساتھ زندگی گزارنے اور ایمانی جذبوں کو برقرار رکھنے کا جو پیغام دیا وہی پیغام اقبال کے کلام کی روح اور ان کی فکر کی بنیاد ہے۔ اقبال نے سماجیات، اخلاقیات اور معاشیات پر بھی زبردست کام کیا لیکن ہم نے اس سے خاطر خواہ استفادہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال کو سچا خراج عقیدت یہ ہے کہ اسکولوں، کالجوں، مدارس اور دیگر دانش گاہوں میں علامہ اقبال سے متعلق پروگراموں کا انعقاد کرکے ان کے پیغامات کو عام کیا جائے۔ ہمیں نئی نسل کو ان کے پیغامات، فلسفہ اور ان کی فکر سے آگاہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اقبال کی پہچان صرف ایک شاعر کی نہیں بلکہ ایک مفکر اور فلسفی کی بھی ہے، جس نے اپنے فلسفۂ زندگی سے سوتے لوگوں کو بیدار اور بیدار لوگوں کو آگے بڑھنے اور چلنے کی تلقین کی۔کالج کی پرنسپل صبا حسیب صدیقی نے علامہ اقبال کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال کا شمار عظیم شعراء میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اس ملک کو ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘ جیسا خوبصورت ترانہ دیا، جس میں ہندوستان کی خوبصورت تصویر کشی کے ساتھ اس کی عظمت کو بیان کیا گیا اور آپسی محبت واتفاق قائم رکھنے کا پیغام دیا، اس لئے ان کے یوم پیدائش کو پورے ملک میں یوم اردو کے طور پر منایا جاتا ہے، لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ حکومت وقف اداروں اور ہمارے اردو داں طبقہ کی جانب سے اردو کی ترقی کے لئے جو کچھ کیا جانا چاہئے تھا وہ نہیں کیا گیا، اس لئے اردو کی بدحالی کے ہم خود ذمہ دار ہیں۔ اردو کو زندہ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس شیریں زبان سے متعلق تسلسل کے ساتھ پروگرام منعقد کئے جائیں۔ صبا حسیب نے طالبات سے کہا کہ وہ لازمی طور پر اپنے گھروں میں اردو کا اخبار منگائیں تاکہ گھر کے دوسرے لوگ خاص طور پر چھوٹے بچے اردو سے واقف ہوسکیں۔ ادارہ کی ہونہار طالبہ فارحہ نسیم شاہ نے یوم اردو کی مناسبت سے بولتے ہوئے کہا کہ اردو ایک دلکش اور خوبصورت زبان ہے اس زبان کی شیرینی اور حلاوت کا زمانہ قائل ہے۔ علاوہ ازیں ادارہ کی اردو ٹیچر روبینہ شہزاد، نصرت جہاں اور شبانہ کے علاوہ درجہ 12 کی طالبہ رضیہ منصور اور درجہ 11 کی طالبہ شمع خورشید وصفیہ نے بھی یوم اردو کی نسبت سے علامہ اقبال کے حالات زندگی اور ان کے لسانی وشعری کارناموں پر روشنی ڈالی۔ پروگرام کی صدارت مولانا حسیب صدیقی نے کی اور نظامت کے فرائض رفعت عثمانی نے انجام دئیے۔ اس دوران فہیم اختر صدیقی،شاکرہ ضیا، فرناز، رفعت، صائمہ، کویتا، زینب، شگفتہ، سعدیہ، صادقہ، آفرین، افشاں، زینت، ثناء، شائستہ، زیبا، ساجدہ، غزالی اور خزیمہ کے علاوہ کالج کی تمام طالبات موجود رہیں۔