نئی دہلی(ملت ٹائمز)
آسام مےں قومی رجسٹر برائے شہریت مےں اندراج کےلئے جار ی شدہ پنچاےت سرٹیفیکٹ کو کالعدم قرارد ےنے والے گوہاٹی ہائی کورٹ کے فےصلہ کے خلاف جمعیة علما ءہند کی عرضی پرآج سپرےم کورٹ کے جسٹس رنجن گگوئی اور جسٹس نوین سنہا پر مشتمل بنچ کی عدالت مےں ہوئی جس کے دوران جسٹس بی اےم لکور اور جسٹس دیپک گپتا پر مشتمل اےک نئی بنچ تشکیل دی گئی ہے جو ۲۲, نومبر ۷۱۰۲ سے پنچاےت سرٹیفیکٹ اور (OI) original inhabitant کے معاملہ کی سماعت کرے گی۔ آج کی سماعت کے دوران کورٹ نے اےن آر سی کو آرڈینےٹر پر تےک ہزےلا اور آسام گورنمنٹ سے verification کے کام کو جلد مکمل کرنے کی ہداےت دی تاکہ اےن آر سی ڈرافت ۱۳ دسمبر۷۱۰۲ تک شائع کرنا ممکن ہو سکے۔ مولانا سےد محمود اسعدمدنی اور مولانا بدرالدین اجمل کی زےر سر پرستی جمعیة علماءہندکی جانب سے اس مقدمہ کی پےروی کرنے والی وکلاءکی ٹیم مےں سے سےنئر اڈووکےٹ بی اےچ مالا پلے نے عدالت سے کہا کہ چونکہ اےن آرسی ڈرافٹ کو ۱ ۳, دسمبر ۷۱۰۲ تک شائع ہونا ہے اسلئے پنچاےت سرٹیفیکٹ کے مقدمہ کو جس پر پہلے ۸۴ لاکھ جبکہ اب بھی ۹۲، لاکھ لوگوں کی شہریت کا دارو مدار ہے اسی طرح original inhabitant (OI) ےعنی کون اصلی باشندہ ہے اور کون نہےں اس کی بنےاداور گائیڈ لائنس کو طے کرنے والے مقدمہ کو پہلے حل کر لےا جاتا تو بہتر ہوتا۔اس پر عدالت نے کہا کہ موجودہ بنچ(جسٹس رنجن گگوئی اور جسٹس نوین سنہا پر مشتمل بنچ) اےن آر سی کی تےاری، بارڈر فےنسنگ اور گھسپےٹ کو روکنے وغےرہ معاملات پر سماعت کرتی رہے گی، جبکہ جسٹس بی اےم لکور اور جسٹس دیپک گپتا پر مشتمل اےک نئی بنچ ۲۲, نومبر ۷۱۰۲ سے پنچاےت سرٹیفیکٹ اور original inhabitant کے معاملہ کی سماعت کرے گی۔ واضح رہے کہ آسام مےں قومی رجسٹر برائے شہریت (اےن آرسی) کی تےاری کا کام گزشتہ تین سالوں سے سپرےم کورٹ کی نگرانی مےں چل رہاہے۔اور سپرےم کورٹ کی نگرانی مےں جن ڈوکومنٹ کو اےن آرسی مےں اندراج کے لئے قابل قبول تسلیم کےا گےا تھا ان مےں سے اےک پنچاےت سر ٹیفکٹ بھی تھا جسے شادی کے بعد ےا کسی اور وجہ سے اےک گاﺅں سے دوسرے گاﺅں منتقل ہونے والوں کے لئے linkage certificate کے طور پر تسلیم کےا گےا تھا ،مگر اس درمےان ۸۲ ,فروری ۷۱۰۲ کو گوہاٹی ہائی کورٹ نے اپنے اےک فےصلہ کے ذریعہ اےن آر سی مےں نام اندراج کے لئے پنچائت سرٹیفیکٹ کو invalid قرار دے دےا جس سے آسام کے تقریبا ۸۴ لاکھ لوگوں کی شہریت پر تلوار لٹک گئی ہے، ان مےں مسلمان کے ساتھ ساتھ دوسری قوم کے لوگ بھی شامل تھے۔ معاملہ کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے جمعیة علماءہند کے جنرل سےکرےٹری مولانا سےد محمود اسعدمدنی اورجمعیة علماءہند صوبہ آسام کے صدر و رکن پارلےمنٹ مولانا بدرالدین اجمل کی زےر نگرانی سےنئر وکلاءکی ٹیم نے گوہاٹی ہائی کورٹ کے حکم کو سپرےم کورٹ مےں چےلنج کےا ہے،جس پر سماعت جاری ہے۔
گزشتہ ۲۱، اکتوبر کو اےن آر سی کے کو آرڈینےٹر پر تےک ہزےلا نے اےک حلف نامہ کے ذریعہ عدالت کو کہا تھا کے اےن آر سی مےں اندراج کے لئے پنچاےت سرٹیفیکٹ جمع کرنے والے 47 لاکھ لوگوں مےں سے 17 لاکھ لوگوں کے سلسلہ مےں verification کر لی گئی ہے وہ original Inhabitant ہےں جبکہ باقی لوگوں کے سلسلہ مےں verification جاری ہے، جسے عدالت نے قبول کر لےا تھا اور اس کام کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہداےت دی تھی۔ اس کے بعد سوال ےہ پےدا ہوا تھا کہ کون اصل باشندہ ہے اور کون نہےں اس کی بنےاد طے ہونی چاہئےے۔بہر حال اب نئی بنچ پنچاےت سرٹیفیکٹ اور اصل باشندہ کی پہچان کی بنےاد وغےرہ مسائل پر سماعت کرے گی۔ ۔ آج کی سماعت کے بعد مولانا سےد محمود مدنی اور مولانا بدرالدین اجمل نے عدالت عظمی سے انصاف کی امید کا اعادہ کےا ۔واضح رہے کہ جمیعہ علماءہند کی جانب سے وکلاءکی ٹیم مےں بمبئی ہارئی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور سپرےم کورٹ کے سےنئر وکیل بی اےچ مالاپلے ، اڈووکےٹ راجو رام چندرن، اڈووکےٹ اعجاز مقبول، اڈووکےٹ شکیل احمد،اڈووکےٹ نذرالحق مزاربھےا، اڈووکےٹ عبدالصبور تپادر وغےرہ شامل ہےں ۔





