بنارس ہندو یونیورسیٹی میں ہنگامہ، پراکٹر کی گاڑی پرپتھراو¿، سیکورٹی کے سخت انتظامات

وارانسی(ملت ٹائمزایجنسیاں)
کاشی ہندو یونیورسٹی ( بی ایچ یو) میں ایک ریسرچ طالب علم اور اس کے کلاس میٹ کے درمیان جھگڑے کے بعد گزشتہ شب مشتعل اسٹوڈنٹس نے یہاں توڑ پھوڑ کی۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ ’روا ہاسٹل ‘ کے ریسرچ طالب علم سدھانشو کے ساتھ کچھ طلبا کی مارپیٹ کے بعد تنازعہ بڑھ گیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی چیف پراکٹر پرو فیسرونا سنگھ موقع پر پہنچیں۔ اسی درمیان ان کی گاڑی کے ساتھ یونیورسٹی کی ایک بس پر پتھراو¿ کیا گیا، جس سے دونوں گاڑیوکو نقصان پہنچا، پتھراو¿ میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
اس سلسلہ میں تین طلبا کو حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس ان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ دوسری طرف، بی ایچ یو-آئی آئی ٹی کے طلبا کی جانب سےیونیورسٹی کیمپس میں کل منعقد ’ڈی جے نائٹ‘ کی حمایت اور مخالفت میں طلبا کے دو گروپوں نے الگ الگ ہنگامہ کیا۔پروگرام کے انعقاد کی مخالفت کر رہے طلبا نے بڑلا ہاسٹل کے قریب دھرنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام بی ایچ یو کے بانی م?امنا پنڈت مدن موہن مالویہ کے اقدار اور یونیورسٹی کی ثقافت کے خلاف ہے، ایسے پروگرام کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔
گرچہ، یونیورسٹی کے اطلاعات و تعلقات عامہ افسر راجیش سنگھ کا کہنا ہے کہ ڈی جے پروگرام امتحان کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا تھا۔ پولیس ذرائع نے بتایاکہ سدھانشو کے ساتھ مارپیٹ اور اس کے بعد پتھراو¿ کے واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔ یونیورسٹی میں کشیدگی کے پیش نظر سیکورٹی کے پختہ اور سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔