تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس یونین کے وفد نے اکبر الدین اویسی سے ملاقات کی،اسمبلی میں موثر انداز میں اردو کے مسئلہ کو اجاگر کرنے پر اظہار تشکر

حیدرآباد(ملت ٹائمزایجنسیاں)
تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس یونین کی ریاستی عاملہ پر مشتمل ایک نمائندہ وفد نے آج تلنگانہ اسمبلی میں مجلس کے فلور لیڈر اکبر الدین اویسی سے دارالسلام میں ملاقات کرتے ہوئے م¶ثر انداز میں اردو کے مسئلہ کو اجاگر کرنے پر اظہار تشکر کیا اور خواہش کی کہ اردو صحافیوں کے مسائل کو مبسوط انداز میں ایوان میں پیش کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے ایک جامع پالیسی کا اعلان کروائے نیز اکریڈیٹیشن کارڈس کی اجرائی کے قواعد سے متعلق مجریہ جی او نمبر 239 میں مناسب ترمیم کو یقینی بنائے تاکہ اردو صحافیوں کے ساتھ روا امتیازی سلوک کا ازالہ ہوسکے ۔
اکبر الدین اویسی نے بتایا کہ اردو زبان کی عظمت رفتہ کو بحال کیا جائے گا اور ریاست کو اردو کا پھر سے گہوارہ بنایا جائے گا۔ اردو کو ریاست تلنگانہ کی دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کیلئے حکومت نے ایک جامع بل کی تیاری کا آغاز کردیا ہے ۔
اہلیتی اور مسابقتی امتحانات میں اردو زبان میں بھی امتحانات اور ٹسٹ دینے کی اجازت دینے کے نتیجہ میں اردو داں نوجوانوں کو اعلیٰ ملازمتوں کے حصول میں بڑی مدد ملے گی اور ان کے پست حوصلوں کو جلا ملے گی۔ موجودہ حالات کے باعث اردو داں نوجوانوں میں ایک نوعیت کی مایوسی پیدا ہوگئی تھی۔
اردو کو دوسری سرکاری زبان قرار دے دئیے جانے کے بعد اردو اسکولس میں اساتذہ کی ملازمتوں کی تقرری بھی ہوں گے اور اردو کی نصابی کتب کی طباعت و اشاعت کا کام بھی شروع ہوجائے گا اور یہ کام اردو اکیڈیمی کے توسط سے کیا جائے گا۔
اکبر اویسی نے کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ تلنگانہ اردو اکیڈیمی کو ایک م¶ثر ادارہ میں تبدیل کیا جائے نہ کہ ایوارڈس اور انعامات کی تقسیم کا ادارہ بن کر رہ جائے گا۔ وہ چاہتے ہیں کہ اکیڈیمی ، اردو ادب کے فروغ و ترویج کے لئے ٹھوس اقدامات کرے ۔
اردو زبان کی بقاءہمارے لئے اس لئے بھی اہم ہے کہ ہمارا دینی و ثقافتی سرمایہ اسی زبان میں محفوظ ہے ۔ اردو اکیڈیمی کی تشکیل میں بھی ایسے افراد کو شامل کروایا جائے گا جو اردو ادب کی حقیقی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان کے فروغ و ترویج اور اسے روزگار سے مربوط کرنے کے لئے جو بھی اچھی تجویز پیش ہوگی اس پر عمل کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلی کے چندر شیکھر را¶ نے ان کی اس تجویز کو تحسین کی نظر سے دیکھا کہ اردو میڈیم کے اسکولس کو کارکرد بنانے اور توقع کے مطابق نتائج حاصل کرنے کے لئے ان کو محکمہ تعلیم کی بجائے اردو اکیڈمی کے دائرہ کار میں لالیا جائے تاکہ خصوصی توجہ مرکوز کی جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اردو میڈیم میں زیر تعلیم بچوں کو خصوصی مراعات حاصل ہو اور انہیں اپنی تعلیم پر ایک پائی بھی خرچ کرنے کی نوبت نہ آئے بلکہ انہیں دیگر محروم طبقات کی طرح جیب خرچ بھی حاصل ہو۔ انہیں اردو اکیڈیمی کی طرف سے نہ صرف نصابی کتب اور کاپیز فراہم کئے جائیں بلکہ اسکول بیاگس اور اسٹیشنری بھی فراہم کئے جائیں اور ریاستی حکومت نے ایسے تمام اقدامات کرنے سے اتفاق کیا ۔
اردو صحافیوں کے مسائل پر بات کرتے ہوئے کہاکہ مجلس کے مرحوم صدر جناب سلطان صلاح الدین اویسیؒ کے دور میں اردو اخبارات کی اتنی اہمیت تھی کہ کسی ایک اخبار میں بھی کوئی بیان شائع ہوجاتا تو حکومت کے ایوان دہل جاتے تھے اور فوری حکومت حرکت میں آجاتی تھی۔
سرکاری محکمہ جات میں اردو داں طبقہ نہ ہونے کی وجہ سے اردو اخبارات میں شائع ہونے والے ہمارے مسائل ارباب حکومت اور بیوروکریٹس تک نہیں پہنچ پارہے ہیں۔ اردو مترجمین کے تقرر سے کسی حد تک اس کی پابجائی ہوگی ۔ ہماری یہ کوشش ہوگی کہ پھر سے وہ دور لوٹ آئے اور اردو اخبارات میں شائع ہونے والی ہر خبر کا نوٹ لیا جائے گا۔
یونین کے ذمہ داروں نے ایوان اسمبلی میں اردو کے مسائل کو بڑی خوش اسلوبی سے پیش کرنے اور حکومت کو عاجلانہ اقدامات پر مائل کرنے پر ان سے اظہار تشکر کیااور ان سے خواہش کی کہ اسمبلی کے جاریہ سیشن میں ہی اردو صحافیوں کے مسائل کو مبسوط انداز میں پیش کریں ۔ انہیں واقف کروایا گیا کہ اکریڈیٹیشن کارڈس کی اجرائی سے متعلق مجریہ جی او نمبر 239 میں اردو میڈیا ¶زس کے ساتھ امتیاز روا رکھا گیا ہے ، جس کی وجہ سے منڈل سطح پر اردو صحافیوں کو اکریڈیٹیشن کارڈس کی اجرائی مسدود ہوگئی۔
وفد نے بتایا کہ حیدرآباد میں اردواور عربی کتب کا بڑا ذخیرہ ہے ، کتب خانہ آصفیہ، دائرة المعارف، سالارجنگ میوزیم میں نادر کتب ہیں جو ایک اہم اثاثہ ہے ۔ حیدرآباد میں ایک اردو میوزیم قائم کرتے ہوئے ان اداروں کے علاوہ علاوہ دنیا جہاں سے اردو کی نادر اور اہم کتب کو جمع کیا جائے جس پر انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ اس خصوص میں بھی وہ عملی اقدامات کو یقینی بنائیں گے ۔
وفد میں ٹی یو ڈبلیو جے یو کی ریاستی یونٹ کے قائدین مسرز عبدالساجد معراج سرپرست، اطہر معین صدر، محمد عبدالحکیم،سید احمد جیلانی، محمد عبدالر¶ف اعظمی نائب صدور، لے ئق الدین سکریٹری جنرل، محمد رفیق احمد، مولانا مفتی محمد رئیس الدین قاسمی سکریٹریز، سید واجد حسینی ، محمد ریاست اللہ مظہر، محمد ریاض الدین، محمد یوسف ، محمد صدیق اشرفی، ارکان عاملہ ،محمد علیم الدین سکریٹری جنرل کاماریڈی ڈسٹرکٹ اور محمد الیاس سکریٹری جنرل سدی پیٹ شامل تھے ۔