اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے دفتر میں مولانا محمد اسلم قاسمی کی وفات پر تعزیتی نشست کا انعقاد،مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے بھی کی شرکت 

نئی دہلی(ملت ٹائمزپریس ریلیز)

خانوادہ قاسمیہ کے فرزند ارجمند اور دارالعلوم وقف دیوبند کے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد اسلم قاسمی صاحب -تغمدہ اللہ فی رحمتہ-کی وفات پر آج مورخہ۱۴نومبر۲۰۱۷ءکو اسلامک فقہ اکیڈمی نئی دہلی کے آفس میں تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں اکیڈمی کے سکریٹری مولانا امین عثمانی صاحب اوراس کے تمام کارکنان اور ذمہ داران نے شرکت کی۔اکیڈمی کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم اس نشست میں بنفس نفیس شریک رہے،اور پورے درد و سوز کے ساتھ حضرت مولانا اسلم صاحبؒ کا تذکرہ کیا اور ان کی خصوصیات و صفات پر روشنی ڈالی، آپ نے فرمایا کہ خانوادہ قاسمیہ کا نمایاں موضوع علم کلام رہا ہے اور مولانا بھی اس صفت سے متصف تھے، لیکن اس کے باوجود مولانا فن حدیث کو اپنا خاص موضوع بنایا اور پھر آخری میں دارالعلوم وقف دیوبند کے شیخ الحدیث کے امتیازی منصب پر فائز ہوئے، آپ کا ایک خاص وصف یہ تھا کہ آپ جب کسی خاص موضوع پر بولتے تو عام مقررین کی طرح موضوع سے ہٹتے نہیں بلکہ اسی دیئے گئے موضوع تک اپنی باتوں کو مرکوز رکھتے، آپ اخلاق و سیرت پر پرمغز اورمو¿ثر خطاب کرتے تھے اور اس موضوع پر آپ کی تحریریں بھی ہیں، چنانچہ آپ نے ”السیرة الجلبیة“کا سلیس اردو ترجمہ بھی کیاہے، جسے علمی حلقوں میں کافی پذیرائی ملی، آپ کا ایک خاص وصف عجز و انکساری اور شرافت بھی تھا، آپ ہمیشہ غیبت اور عیب جوئی سے پرہیز کرتے تھے، جو علماءکے لئے قابل تقلید عمل ہے۔مولانا امتیاز احمد قاسمی(کارکن اسلامک فقہ اکیڈمی) نے بھی حضرت رحمة اللہ علیہ کی سیرت اور ان کے اوصاف پر گفتگو کی اور کہا کہ ان سے استفادہ کا موقع تو نہیں ملا لیکن ان کی تقریریں سنی ہیں اور خانوادہ قاسمیہ کے فرزند ہونے کی حیثیت سے ان سے محبت اور خصوصی تعلق تھا، اور دوران طالب علمی ان سے ملاقاتیں بھی رہی ہیں، ان کی شرافت اور ان کی عجز و انکساری اور گفتگو کے دوران ان کے لطیف نکتوں سے ہم لوگ متاثر تھے۔ مولانا صفدر علی ندوی(رفیق شعبہ علمی)کی تلاوت سے نشست کا آغاز ہوا اور اخیر میں حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی دعا پر نشست کا اختتام ہوا۔ اللہ تعالی مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے اور اعلی علیین میں جگہ عنایت کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔