دیوبند(ملت ٹائمزسمیر چودھری)
ادھر دارالعلوم دیوبندنے روحانی پیشوا شری شری روی شنکر کے لئے بابر ی مسجد ایشو پر گفت وشنید کے لئے اپنے دروازے بند کرلئے ہیں اور صاف کردیا کہ ایودھیا مسئلہ پر دارالعلوم دیوبند کسی سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا ۔اس بابت دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی سے پی ایم او نے بذریعہ فون ادارے کا موقف جاننے کی کوشش کی ۔ جس کی تصدیق کرتے ہوئے دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہاکہ ان کے پاس اس سلسلہ میں پی ایم او سے فون آیا تھا اور وہ شری شری روی شنکر کی مصالحتی مہم کے سلسلہ میں ادارے کا موقف جاننا چاہتے تھے، ان کو اس سلسلہ میں بتادیا گیا کہ دارالعلوم دیوبند کا موقف بھی وہی ہے جو آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کا ہے۔ دارالعلوم دیوبند نے واضح کردیا کہ بابری مسجد ایشو پر ماورائے عدالت وہ کسی گفت وشنید کے حق میں نہیں ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے اس موقف کو شری شری روی شنکر کی مصالحتی مہم کے لئے ایک بڑا صدمہ قرار دیا جارہا ہے ۔ یاد رہے کہ شری شری روی شنکر ایودھیا تنازعہ کے حل کے لئے ہندو اور مسلم بااثر افراد رہنماﺅں سے مصالحتی گفتگو کے سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے دارالعلوم دیوبند سے بھی رابطہ قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن اس سلسلہ میں دارالعلوم دیوبند نے اپنے دروازے بندکرلئے ہیں۔





