امارت شرعیہ میں بہار ،اڑیشہ ،جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے قضاة و علماءکا اجتماع،قضاءکے جدید مسائل پر تبادلہ خیال

پٹنہ(پریس ریلیز)
مرکزی دفتر امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے کانفرنس ہال میں امارت شرعیہ کے مرکزی دار القضاءاور تمام ذیلی دار القضاءکے قضاة کاآج سالانہ اجتماع امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب دامت برکاتہم کی صدارت میں منعقد ہوا ۔جس میںسماج کے ذمہ دار افراد سے اپیل کی گئی کہ وہ عوام و خواص کو دار القضاءکی طرف متوجہ کریں ۔ اس اجتماع میں قضاة کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے حضرت امیر شریعت مد ظلہ نے کار قضاءکے سلسلہ میں در پیش مسائل کے حل پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ، اور مرکزی و ذیلی دار لقضاءکو جدید تقاضوں کے اعتبار سے کار قضاءکو منظم انداز میں چلانے کے لیے بیش قیمتی ہدایات دیں ۔آپ نے فرمایا کہ حلقہ¿ قضاءکی تعیین بہت اہم چیز ہے ، اس لیے امارت شرعیہ کو اپنے ذیلی دار القضاءکی حدود کو گورنمنٹ کے ضلعی حدود کے اعتبار سے ہی متعین کرنا چاہئے۔آپ نے قاضیوں کے لیے جدید عدالتی طریقہ ¿ کارکی معلومات کو ضروری قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ قضاة کو وکلاءاور ملکی قانون کے ماہرین کے ساتھ گفت و شنید کرنی چاہئے اور وقتاً فوقتاً قضاة اور وکلاءکی میٹنگ بھی ہونی چاہئے ، اس سے ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھنا آسان ہو گا ۔آپ نے دار القضاءکی طرف عوام و خواص کو متوجہ کرنے کے لیے ائمہ کرام کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ائمہ مساجد کو منظم کیا جائے ، امارت شرعیہ کی جانب سے ان کو موقع بموقع ہدایات دی جائےں اور ان کو ترغیب دی جائے کہ اپنی تقریروں اور خطبات میںاہم دینی و ملی مسائل کو موضوع بائیں اور امارت شرعیہ ، دار القضاءوغیرہ کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے عوام و خواص سے اپیل کو راغب کریں کہ وہ اپنے مقدمات دار القضاءمیں لے کرآئیں اور شریعت کے مطابق اپنے تنازعات کا فیصلہ کروائیں۔مولانا قاسم صاحب مظفر پوری قاضی شریعت امارت شرعیہ نے اپنے خطا ب میںنظام قضاءکی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت علم ہے ، وہ علم جس سے انسان کے درمیان عدل قائم کیا جائے ، انسان کے مزاج میں جھگڑالو پن اور تنازع ہے ، تنازع ایک دوسرے کی حق تلفی اور ظلم سے پیدا ہوتا ہے ، اسی حق تلفی اور ظلم کو ختم کرنے کے لیے قضاءکا قیام ہوا ہے ، اسی لیے حضرت مولانا ابو المحاسن محمدسجاد صاحب رحمة اللہ علیہ نے سب سے پہلے نظام قضاءکو قائم فرمایا۔ اس لیے آپ حضرات کو اللہ تعالیٰ نے بڑی ذمہ داری عطا کی ہے ، یہ بہت نازک ذمہ داری ہے، اس کو بہت احتیاط کے ساتھ ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ حضرت مولانا عبد الجلیل قاسمی قاضی شریعت مرکزی دار القضاءامارت شرعیہ نے اپنے خطاب میں کار قضاءسے متعلق کئی اہم امور بیان کیے ،اور ذیلی دار القضاءکے قضاة کے ذریعہ پیش کردہ مسائل کے حل کے سلسلہ میں بیش قیمتی رہنمائی فرمائی ۔
ناظم امارت شرعیہ حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب نے امارت شرعیہ کے امارت شرعیہ کے تمام دار القضاءمنظم اندازمیں کام کر رہے ہیں ، مزید ان کو موثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ اپنے مسائل کو دار القضاءکے ذریعہ حل کر ا سکیں ۔مولانامفتی نذر توحید قاسمی قاضی شریعت چترا نے کہا کہ مقدمہ میں فریقین اور گواہوں کے شناختی کارڈ کو لازمی قرار دینے پر زور دیا۔سند نکاح کے تعلق سے بھی انہوں نے کئی اہم مشورے دیے۔مولانا مفتی محمد ثناءالہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ نے کہا کہ ذیلی دار القضاءکے حلقہ کی تفصیل سے معلوم ہو تا ہے کہ کہیں پورا ضلع ہے ، کہیں بعض علاقے ہیں ، ہمیں اس پر غور کرنا چاہئے کہ قریب کے بلاک کو قریبی دار القضاءسے جوڑا جائے ، جہا ں کم مقدمات ہیں ، وہاںلوگوں کو دار القضاءکی طرف رجوع کرنے کی ترغیب دینے پر غور کرنا چاہئے۔مفتی سعید الرحمن قاسمی مفتی امارت شرعیہ نے کہا کہ وکلاءاور قضاة کا اجتماع یقینا مستحسن قدم ہے ، لیکن اس کے ساتھ وکلاءکے اندر قوانین شریعت کی سمجھ بھی پیدا کرنی چاہئے اور ان کے سامنے شریعت کی تفصیل رکھنی چاہئے تفہیم شریعت کے ساتھ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ان کے اوپر جو ذمہ دار ی عائد ہوتی ہے ، اس کا بھی احساس کرایا جائے ۔ مفتی وصی احمد قاسمی نائب قاضی شریعت مرکزی دارالقضاءنے قضاة اوروکلاءکے اجتماع کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔مولانا عبد العظیم حیدری قاضی شریعت بیگو سرائے نے مرکزی دار القضاءسے ذیلی دار القضاءکے روابط کو مزید مضبوط کرنے پر زور دیا۔
واضح رہے کہ امارت شرعیہ کے پلیٹ فارم سے بہار، اڑیسہ و جھار کھنڈ اور مغربی بنگال میں مرکزی دار القضاءکے علاوہ۴۶ مقامات پر ذیلی دارالقضاءقائم ہیں اور وہاں بحسن و خوبی امور قضاءانجام پا رہے ہیں، اور دار القضاءکی طرف عوام کے رجوع میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ، یہاں کے فیصلہ کو لوگ بہت عظمت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
مولانا انظار عالم قاسمی نائب قاضی شریعت مرکزی دار القضائ، مفتی محمد انور قاسمی قاضی شریعت دار القضاءرانچی،مولانا طفیل احمد رحمانی قاضی شریعت سمستی پور،مولانا ارشد قاسمی قاضی شریعت کشن گنج، مولانا ارشد صاحب گوگری ، کھگڑیا ، مولانا مفتی مجیب الرحمن بھاگل پوری معاون قاضی مرکزی دار القضائ، مولانا سعود عالم قاسمی قاضی شریعت جمشید پور، مولانا عبد الباسط قاسمی قاضی شریعت ایٹا ہار ، مولانا فلاح الدین قاسمی قاضی شریعت توپسیا، کولکاتا،مولانا ضمیر الدین قاسمی قاضی شریعت کولکاتا، مولانا محمد شاہد قاسمی قاضی شریعت دھنباد ،مولانامفتی خورشید عالم قاسمی قاضی شریعت مدرسہ اصلاح المسلمین چمپا نگر،بھاگل پور، قاضی نثار احمد صاحب قاضی شریعت بتیا ، مولانا فخر الدین صاحب قاضی شریعت پرولیا، مولانا فخر الدین صاحب قاضی شریعت شیو ہر،مولانا ثناءاللہ صاحب قاضی شریعت ہاری باغ ،مولانا سعید اسعد صاحب دار القضاءآسنسول ، مولانا شفیق عالم قاسمی قاضی شریعت گڈا ،مولانا عبد الشکور صاحب قاضی شریعت ویشالی ، مولانا عتیق اللہ صاحب قاضی شریعت ارریہ ، مولانا شاداب صاحب قاضی شریعت سمری بختیار پور، مولانا رضوان قاسمی قاضی شریعت یکہتہ مدھوبنی، مولانا احسان الحق قاسمی قاضی شریعت ڈہری اون سون، مولانا ارشد قاسمی قاضی شریعت پورنیہ ، مولانا عبد الحق صاحب قاضی شریعت رام پاڑہ کٹیہار، مولانا اقبال صاحب قاضی شریعت شکر پور بھروارہ ،مولانا سرور عالم قاضی شریعت بارا عید گاہ پورنیہ ، مولانا اظہارالحق صاحب قاضی شریعت للجہ، سہرسہ ،مولانا اسرار صاحب قاضی شریعت دار القضاءکلداس پور، کٹیہار، مولانا رضا ءالکریم صاحب دار القضاءایٹا ہار،مولانا کلیم اللہ مظہر صاحب قاضی شریعت چترپور نے ایجنڈے کے تحت قضاءکے مسائل پر مناقشہ اور بحث وومباحث میں حصہ لیا ۔
پروگرام کا آغازمولانا محمد ارشد صاحب قاضی شریعت گوگری کی تلاوت کلام پاک سے ہوا،نظامت کے فرائض مولانا مفتی سہیل اختر قاسمی نائب قاضی دار القضاءامارت شرعیہ نے بحسن و خوبی انجام دیے،انہوں نے گذشتہ میٹنگ میں پاس شدہ تجاویز پر عملی پیش رفت کو بیان کیا۔مولانا مفتی شمیم اکرم رحمانی نے گذشتہ میٹنگ کی کارروائی کی رپورٹ پڑھ کر سنائی ۔ اخیر میں حضرت امیر شریعت مد ظلہ کی دعا پر مجلس اختتام کو پہونچی۔(یہ اطلاع مولانا حسین احمد قاسمی معاون مرکزی دار القضاءامارت شرعیہ نے دی۔)