سعودی عرب سے انتہاءپسندی ختم کرکے معتدل اسلام لانے کا فیصلہ محمد بن سلمان کا قابل ستائش اقدام:پروفیسر طاہر محمود

نئی دہلی(ملت ٹائمز)
صدیوں سے اسلامی شدت پسندی کیلئے معروف مملکت السعودیہ العربیہ اب معتد ل اسلام کی طرف گامزن ہونے کا عزم کررہی ہے جو خوش آئند ہے اور اس کا سہرا جواں سال شہزدہ محمد بن سلمان کو جاتاہے ،ان خیالات کا اظہار معروف دانشور پروفیسر طاہر محمود نے اپنے ایک مضمون میں کیاہے ،انہوں نے روزنامہ راشٹریہ سہارامیں شائع ہونے والے مضمون میں سعودی عرب میں لائے جارہے معتدل اسلام اور ہندوستان میں بڑھی جارہی ہندو انتہاءپسندی کا جائزہ لیاہے ،انہوں نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے اس اقدام کو انقلابی قدم قراردیتے ہوئے ان کی تعریف کی ہے اور اپنے تجربات ومشاہدات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھاہے کہ سعودی عرب میں مذہبی آزادی بالکل نہیں ہے ،اظہار رائے کی آزادی بھی کہیں نظر نہیں آتی ہے ،انہوں نے یہ بھی لکھاہے کہ ہندوستان سے وہاں جاکر جو کچھ دن رہ جاتاہے وہ بھی مذہبی شدت پسندی کے رنگ میں رنگ جاتاہے ،پروفیسر طاہر محمود نے اپنے مضمو ن میں سعودی عرب کے انتہاءپسند اسلام کیلئے معروف مذہبی رہنما شیخ عبد الوہاب کو ذمہ دارٹھہراتے ہوئے کہاکہ آل سعودبرسوں پہلے سے دینی رہنما محمد بن عبد الوہاب کے پیر وکارتھے جن کی تعلیمات پر ہی شاہ عبد العزیز نے 1932 میں نئی حکومت کی بنیاد ڈالی تھی ۔
مضمون میں دوسری جانب انہوں نے ہندوستان میں بڑھتی ہوئی ہندوانتہاءپسندی پر بھی تنقید کی ہے اور کہاہے کہ ایک ملک جہاں تبدیلی چاہتاہے شدت پسندی سے اعتدال کی جانب گامزن ہے وہیں دوسرا ملک اعتدال سے انتہاءپسندی کی راہ پر چلنا چاہتاہے ،ہندوستان کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ یہاں مذہبی آزادی ہے اور اظہار رائے کی بھی آزادی پائی جاتی ہے لیکن حالات بدل رہے ہیں۔

لنك پر کلک کرکے پڑھیں اصل مضمون