چونتیسویں آل انڈےا اہل حدےث کانفرنس کی تیاریاں زوروں پر کرنے کی تلقین
سلسلہ پروگرام” قوم وملت داعش ودہشت گردی کے تعاقب مےں “کومزےدتوانائی کے ساتھ جاری رکھنے پرزور
اہم ملی،ملکی اورجماعتی مسائل پر تبادلہ¿ خےال اوراہم فےصلے
دہلی(پریس ریلیز)
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی پریس ریلیز کے مطابق آج اہل حدیث کمپلیکس،اوکھلا،نئی دہلی میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کی ایک اہم میٹنگ امیرجمعیت محترم مولانااصغرعلی امام مہدی سلفی حفظہ اللہ کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں ملک کے بیشتر صوبوں سے آئے اراکین اور صوبائی ذمہ داران نے شرکت کی۔امےرمحترم نے اپنے خطاب مےں تعلےم وتزکےہ ،تقوی للہےت ،اتحاد واتفاق ،خےرسگالی، قومی ےکجہتی ،فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور انسان دوستی پرزور دےا اورکہا کہ اتحاد وےکجہتی کے ساتھ ہی داعش ودہشت گردی کا تعاقب ہے ۔اس اجلاس مےں ناظم عمومی مولانامحمد ہارون سنابلی نے کار کردگی رپورٹ پیش کی جس کی توثیق کی گئی اورناظم مالیات الحاج وکےل پروےز نے حسابات پیش کیے جس پر ہاﺅس نے اطمینان وخوشی کا اظہار کیا۔ میٹنگ میںجمعیت کے کاموں کا بھی جائزہ لیا گیااور آئندہ دعوتی،تعلیمی، تنظیمی ،تعمےراتی اوررفاہی منصوبوں اورانسانی خدمات کومہمیزدینے کے لئے غور کیا گیا۔مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام چونتیسویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کی تیاریاں زوروں پر کرنے کی تلقین کی گئی۔ نیز طے پایا کہ مرکزی جمعےت اہل حدےث ہند کے سلسلہ پروگرام ”قوم وملت داعش ودہشت گردی کے تعاقب مےں “کومزےد توانائی کے ساتھ جاری رکھا جائے۔ علاوہ ازےں جمعےت کے مالی استحکام بالخصوص اہل حدےث کمپلےکس مےں زےر تعمےر کثےرالمقاصدعمارت کے لئے ملکی سطح پر اہل خےر حضرات کا زےادہ سے زےادہ تعاون حاصل کرنے کی اپےل کی گئی ہے اورمرکزی جمعےت اہل حدےث ہند کے زےراہتمام ۲۱نومبر۷۱۰۲ءسے جاری آل انڈےا رےفرےشرکورس برائے ائمہ دعاة ومعلمےن کے انعقاد کی تحسےن کرتے ہوئے ذمہ داروں کومبارکبادپےش کیا گیا اور اسے وقت کی ضرورت قرار دےاگیا۔ ملک وملت اور عالمی مسائل سے متعلق قرار داد وتجاویز منظور کی گئیں۔
مجلس عاملہ کی قرارداد مےں مےانمارمےں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اورروہنگےائی مسلمانوں کی نسل کشی کی سخت مذمت کی گئی ہے،سےاسی پارٹےوں سے عوامی مسائل پرانتخاب لڑنے کی اپےل اور مذہبی امور کو بنےاد بناکر الےکشن لڑنے سے گرےز کرنے کی بھی اپےل کی گئی ہے ۔ مجلس عاملہ کی قرار داد مےں کہا گےا کہ ملک مخالف سرگرمےوں سے مسلم نوجوا نوںکا کوئی تعلق نہےں ہے اورحکومت سے مطالبہ کےا گیاہے کہ عدالت نے جن نوجوانوں کو باعزت بری کردےا ہے ان کو بھرپور معاوضہ دےا جائے۔ علاوہ ازےں مسلم تنظےموں اورملی اداروں کے سربراہوں سے اےک دوسرے پر الزام اورجوابی الزام سے احتراز کرنے کی اپیل کی اور داعش کی دہشت گردانہ کار وائےوں اور دہشت گردی کی مذمت کی گئی ہے۔ قرارداد مےں ملک مےں امن وامان کی بگڑتی صورت حال اوراجتماعی بھےڑکے ذرےعہ قتل کے رجحان پر اظہار تشویش کیا گیا ۔ اسی طرح موقر ہاﺅس نے ذمہ داران جمعیت کے خلاف غلط پروپیگنڈہ کرنے والوں کی سخت مذمت کے ساتھ ساتھ انہیں تنبیہ کی گئی۔
مجلس عاملہ نے بٹلہ ہاو¿س انکاو¿نٹر کی عدالتی تحقےقات کا مطالبہ کرنے کی ضرورت پرزوردےتے ہوئے کہا کہ اس سے عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد مزےد مضبوط ہوگا اوربابری مسجد ملکےت معاملہ مےںسپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرنا چاہئے اور کہا گیا کہ اس مسئلہ میں ہر آدمی کو اپنی اپنی رائے دینے کے بجائے فریقین ہی اس سلسلہ میں بات کرنے کے مجاز و مختار ہیں، چونکہ بابری مسجد کی ملکیت کا معاملہ عدالت میں ہے اور ۵دسمبر سے مسلسل سنوائی ہونے جارہی ہے اس سلسلہ میں ہماری رائے مسلم پرسنل لاءبورڈ کے ساتھ ہے۔ قراداد مےں بہار، ےوپی، بنگال، آسام اورملک کے دےگر حصوں مےں سےلاب متاثرےن کی مدداور بازآبادکاری کی اپےل اورمرنے والوںکے اہل خانہ سے اظہارتعزےت کےا گےاہے ۔ عاملہ کی قرارداد مےں حوثی باغےوں کی طرف سے رےاض اےئرپورٹ پر مےزائل حملہ کی مذمت کی گئی ہے۔
قراردادمےں بہار مےں جہےز پر پابندی کی ستائش کی گئی ہے اور ملی اورجماعتی اعےان کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کےاگےاہے۔





